ضمیر کی آواز - عبدالرحمن بن شبّیر گودھروی

دل بہت بوجھل ہے اضطراب وبے کلی کاایک طوفان ہے جو میرے دل و دماغ کا نظام درہم برہم کر رہا ہے میرا سینہ غم وفکر کی سانسوں کی وجہ سےچھل چکا ہے عجیب سی بے چینی ہے جو مجھے اپنے آپ سے بے خبر کیے رکھتی ہے مجھے پتہ نہیں چل رہا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں میری زندگی کس رخ پر جارہی ہے میرے ارادے کہاں سورہے ہین میرے حوصلے کس برفیلی چٹان میں گھس بیٹھے ہیں کیوں مجھے اس چیز کا احساس نہی کہ میں ایک طالب علم ہوں میں حبیب خدا کا مہمان ہوں میرے ذمہ پوری امت کا بوجھ ہے میں اپنے رب سے کتنا دووور ہو چکا ہوں کہ اپنی واضح گمراہی کا بھی احساس نہیں میرے گناہ مجھے سنبھلنے نہیں دے رہے ہیں .

میں اپنے اللہ کو بھول کر زندگی گذار رہا ہوں حسن ظن رکھنے والے مجھے بھی مہمانان رسول کی فہرست میں شامل کرتے ہیں لیکن انھیں کیا معلوم کہ اس نالائق مہمان نے کبھی اپنے میزبان کے دل کو خوش نہیں کیا بلکہ ہر پیر و جمعرات کو انکے دل کو میری بد اعمالیوں کی وجہ سے ٹھیس پہنچتی ہے کیوں اتنے سال قلعہ اسلام میں گذارنے کے باوجود میری زندگی میں تبدیلی نہیں کیا مجھے خدا سامنے کھڑے ہونے کا ڈر نہیں کیا مجھے وراثت نبوی کی اتنی بڑی امانت کا احساس نہیں میری راتیں امت کے لیے خدا کے سامنے رونے میں کیوں نہیں گذرتی کیوں کیوں کیوں!
اور کتنے زیادہ لوگوں کے اعتماد کو پامال کرونگا آجتک امت مجھ پر اعتماد کرکے سوتی ہے کہ ہمارے لیے یہ طالبان علوم نبوت جاگ رہے ہیں ایک ہم جو انکے امیدوں پر پانی پھیر رہے ہیں
ارے کہاں وہ ہمارے اکابر جو سند فراغت لیکر نکلتے تو صاحب دل ہوکر نکلتے خدا کی معرفت کے انوار سے انکے سینے لبریز ہوتے خوف خشیت کا توشہ ساتھ میں ہوتااور یہاں میں ایک نالائقکب تک کب تک یہی رفتار یہی بے ڈھنگی چلتی رہے گی.

دل کی زمین پر حب الدنيا حب الشهوات معاصی نفس پرستی نے ایسے خیمے گاڑھ دیے ہیں کہ خدا کی محبت و معرفت امت کے درد و غم کا دھندلا سا تصور بھی نہیں ہےکیا مجھے اب واپس نہیں آنا چاہیے کیا اب مجھے امت کے لیے راتوں کو رونا نہیں چاہیے کیا اب مجھے ایک با مقصد زندگی نہیں گزارنی چاہیےبھائیوں! آؤ! سوچو کیا ہمارے پاس ایک سجدہ بھی ایسا ہے جس میں خدا کے سوا کسی کا خیال نہ آیا ہو! جو ماں ہمارے لیے راتوں اٹھ کر روتی ہے کیا ہم نے کبھی ایک مرتبہ بھی اس پیاری ماں کے لیے ہاتھ اٹھائے! ہم کیسے سنگ دل ہیں! ماں کے نام پر تو سنگ دل بھی پگھل جاتا ہے مگر ہم اپنی خواہشوں میں ایسے مدہوش ہیں کہ ماں تک کی قربانیوں کا ہمیں احساس نہیں!کب تک بے مقصد زندگی جئیں گے !

بھائیوں! آؤ! آج میں اور آپ عزم مصمم کرتے ہیں کہ: اب کی زندگی کچھ الگ زندگی ہوگی، اب کے شب و روز الگ ہی ہونگے، اب لغویات میں وقت ضائع نہ ہوگا، اب کے اساتذہ کے احترام میں ذرّہ برابر کمی نہ ہوگی، اب کے ایسی محنت ہوگی کہ دوسروں کو ترس آجائے گا ،اب کا پڑھنا خالص رب کی رضا کے لے ہوگا ،اب کے راتوں کو اٹھ کر روٹھے ہوئے رب سے معافی مانگیں گے اب کے نافرمانی والی زندگی کے بجائے اطاعت والی زندگی گزاریں گےاب مقصد صرف خدا کے دین کی سر بلندی ہوگی اسی کے لے جینا اسی کی راہ میں موت.

انشاء اللہ

اے میرے رب یقینا تیرے غضب کا مورد ہیں لیکن بمقتضیء تیری محبت کے تیرے غضب پر غالب ہونے نے بچائے رکھا ہے میرے مولا ہمارے لیے بھی تیرے دین کی کوئی مقبول خدمت رکھنا یقیناً ہم اس لائق نہیں لیکن آپ تو کسی کو بھی نواز دیتے ہے. خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */