اللہ جی معاف کر دیں‎ - بنت شروانی

امی ،امی جی آپ کہاں ہیں ؟جلدی آئیں نا ۔طلحہ نے دروازے پر سے ہی شور مچانا شروع کیا اور امی کو آوازیں لگاتا اندر آگیا ۔اس کی امی جو کسی سے فون پر بات کرنے میں مصروف تھیں اور تھوڑی پریشان دیکھائ دیتی تھیں۔کہنے لگیں کہ کیا ہوگیا ؟کیوں شور مچایا ہوا ہے؟ابھی تو تم کھیلنے گۓ تھے اتنی جلدی کیسے واپس آگۓ؟اب اس دس سالہ طلحہ نے امی کے چہرے پر جو پریشانی کے آثار دیکھے تو کہنے لگا ارے امی کچھ نہیں بس ایسے ہی آپ کو آوازیں دینے لگا تھا۔اور بھاگتا ہوا پھر واپس دروازے پر چلا گیا۔اب تو وہ بڑی ہی جھنجلائیں اور کہنے لگیں ایک تو اس کی اس عادت سے بڑی پریشان ہوں میں۔ہوتا کچھ نہی ہے بس دل کو دہلا دیتا ہے ایسے زور زور سے امی امی کی آوازیں لگاتا ہے کہ توبہ ۔اور یہ کہتے کھڑی ہوئیں اور اپنے کاموں میں لگ گئیں۔اب قریب ہی اس کی گیارہ سالہ بیٹی دانیہ موجود تھی کہنے لگی امی ایک بات پوچھوں؟؟؟اب امی نے کہا ہاں ہاں ایک نہیں سو پوچھو۔اب تو دانیہ کہنے لگی کہ نہیں امی مجھے تو ایک ہی بات پوچھنی تھی۔اب تو اس کی امی کہنے لگیں اچھا ایک ہی بات پوچھ لو۔

لیکن اب دانیہ نے کہا نہی امی رہنے دیں ۔میں نہی پوچھ رہی۔اب تو اس کی امی کو غصہ بھی آیا اور کہنے لگیں کہ عجیب ہوگۓ ہو تم لوگ۔تمھارا بھائ آیا اور ایسے آوازیں لگائیں کہ جیسے پتہ نہی کیا ہوگیا ہو اور ہوا کچھ نہی تھا اور اب تم ہو جو عجیب حرکتیں کر رہی ہو۔پھر دو دن گزرے تھے کہ پھر دانیہ نے کہا کہ امی اگر کسی کے ذہن میں کوئ سوال ہو جبکہ وہ پوچھنا نہ چہتا ہو کہ دوسرا فرد پریشان ہوگا اس سوال سے تو کیا اسے یہ پوچھنا چاھۓ؟

اب اس کی امی نے کہا اخلاقا ایسے سوال سے گریز کرنا چاھۓ۔

اب اس نے کہا لیکن امی اگر یہ سوال کۓ بنا رہا بھی نہ جاۓ تو پھر؟؟؟؟

اب تو اس کی امی جھنجلائیں اور کہنے لگیں تو پھر پوچھ لینا چاھۓ۔

دانیہ نے یہ سُنا اور اچھا کہتی چلتی بنی۔

اب تو پھر اس کی امی نے کہا عجیب ہے یہ لڑکی۔پتہ نہی ایسا کونسا سوال ہے جو پوچھنا بھی ہے اور پوچھ بھی نہی رہی۔اور پھر تھوڑی دیر میں طلحہ بھی دکان سے آئس لولی لیتا ہوا آیا اور کھاتے ہوۓ کہنے لگا امی ذرا ایک بات تو بتائیں۔اب امی نے کہا ہاں بولو۔لیکن وہ “رہنے دیں “کہتا پھر دروازے کی طرف دوڑ گیا تھا ۔اب راشدہ خاتون سوچنے لگیں کہ نہ جانے بچوں کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے اور وہ پتہ نہیں کیا پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ پوچھ بھی نہی پار ہے ۔ کہ اتنے میں ان کے موبائل پر کال آئ ۔انھوں نے جب اسکرین پر نظر ڈالی تو ان کے شوہر کا نمبر تھا جو سعودیہ عرب میں موجود تھے۔اور وہاں پر لگنے والی فیملی انڈیپینڈینٹ فیس کی وجہ سے انھوں نے اپنے بیوی بچوں کو واپس پاکستان بھیج دیا تھا۔اور ہاں یہ ضرور تھا کہ وہ ہر سال رمضان میں ضرور انھیں اپنے پاس بلا لیا کرتے تھے۔اب راشدہ خاتون نے ذرا دیر فون پر ان سے بات کی لیکن یہ کیا۔۔۔۔کہ آج تو بچوں نے اپنے بابا سے بات کرنے کا بھی نہ کہا بلکہ فون بند ہوتے ہی پوچھنے لگے کہ امی کیا بابا نے کچھ بتایا کہ وہ کب تک ہمیں بلا رہے ہیں؟

اب راشدہ خاتون کو تھوڑا کچھ سمجھ آیا کہ اچھا ان بچوں کو اپنے بابا یاد آرہے ہیں ۔اور اسی سے متعلق انھوں نے سوال کرنا تھا اب انھوں نے کہا اچھا زیادہ یاد ستا رہی ہے بابا کی تو طلحہ کہنے لگا وہ تو یاد آرہے ہیں لیکن “البیک “بھی تو کھانا ہے۔قریب ہی کھڑی دانیہ کہنے لگی جی امی پچھلے سال بھی ہم رمضان میں نہ جا سکے تھے۔کہ عمرہ بند تھا اور جلدی جلدی بولتی چلی گئ کہ مجھے تو البیک کے نگٹس تو مزیدار سا ثوم اور اس کے سینڈوچز کھانے کا شدت سے دل چاہ رہا ہے۔اور اس شدت پر بھی اس نے تین سے چار تشدید لگا دۓ اور اس کے ساتھ ہی اس نے بہت ہی پیارا سا منہ بنایا اور ایسی آواز نکالی جیسے کہ وہ اس کا ذائقہ محسوس کر رہی ہو۔اور یہ سب سُن کر راشدہ خاتون خاموش ہوگئ تھیں اور گہری سوچ میں کھوئ تھیں کہ ہاں وہاں البیک بھی ہے ۔لیکن وہ الیبک کیا وہ تو لبیک لبیک کہتے جانا میرے رب کا گھر تو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ ۔

اور اس سوچ تو ان یادوں کے آتے ہی دو موتی گرے تھے ان کی آنکھوں سے۔اور وہ رب سے معافی کے ساتھ اس کے در پر حاضری کے لۓ دعا کر رہی تھیں کہ یا رب تو ہم گنہ گاروں کو معاف کر دے،ہمیں بخش دے ،ہمارے لۓ اپنے گھر کے دروازے کھول دے ،اپنے نبی کے روضہ پر جانے کو ممکن بنا دے ۔اس کرونا جیسی وبا کو ختم کر دےاور آئندہ کوئ رمضان بھی ایسا نہ آۓ کہ ہم تیرے گھر پر آنے سے محروم ہوں ۔کہ ہاں بچوں کو تو البیک بھی یاد آتا ہے اور راشدہ خاتون کہ رہی تھیں کہ “وہ مکہ یاد آتا ہے وہ مدینہ یاد آتا ہے”۔اور ساتھ دعا کرتی جاتیں کہ یار بی اس رمضان میں تو ہمیں معاف کر دے اور اپنے در پر حاضر ہونے کو آسان بنا دے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */