دل دریا سمندروں ڈونگے - نصراللہ گورایہ

انسان کا دل جسمِ انسانی میں اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ دیکھنے میں تو یہ دیگر اعضاء کی طرح ایک عضو ہے کہ جو پورے جسم میں خون کی روانی کو یقینی اور ممکن بناتا ہے، اور جب تک کسی بھی انسان میں اس کا دل یہ کام کرتا رہتا ہے، انسانی جسم میں زندگی کی رمق باقی رہتی ہے۔ لیکن جوں ہی دل چند لمحوں کے لئے بھی اپنی خاص رفتار سے اوپر یا نیچے جاتا ہے، انسانی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح روحانی و معنوی اعتبار سے بھی دل معرفت ربانی کا منبع و محور ہے، ظاہری و باطنی فساد اور اصلاح کا اس سے بہت ہی گہرا تعلق ہے۔ تصدیق و یقین اور نور و ایمان کی شعاعیں اسی سے پھوٹتی ہیں۔ کفر، فسق و فجور اور ضلالت و گمراہی کی گھٹائیں بھی سب سے پہلے دل کو ہی اپنا ٹارگٹ بناتی ہیں، اور دل اگر پاکیزہ ہو، یقین سے لبریز ہو تو یقیناً تمام آفات سے محفوظ و مامون رہتا ہے۔

امام عبدالرحمن ابن جوزی منہاج القاصدین میں لکھتے ہیں کہ ’’دل کی بیماری یہ ہے کہ وہ مخصوص کام نہ کر سکے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے اور وہ ہے علم اور حکمت و معرفت الہی اور اللہ تعالی کی محبت اور اس کی عبادات اور ان چیزوں کو ہر خواہش پر مقدم رکھنا‘‘ اگر انسان ہر چیز کو جان لے اور اللہ تعالیٰ کو ہی نہ جان پائے تو گویا اس نے کچھ بھی نہیں جانا۔ معرفت کی پہچان محبت ہے اور جو اللہ کو پہچان لے گا، وہ اس سے محبت رکھے گا، اور محبت کی علامت یہ ہے کہ اپنی تمام محبوب چیزوں کو اس پر قربان کر دے، اور جو آدمی کسی محبوب چیز کو اللہ تعالی پر ترجیح دے تواس کا دل بیمار ہے، جیسا کہ وہ معدہ جو روٹی پر مٹی کھانے کو ترجیح دیتا ہو، اور دل کی بیماریاں اتنی مخفی ہوتی ہیں کہ بعض اوقات بیمار کو بھی اپنی ان بیماریوں کا پتہ نہیں چلتا، اور وہ اس سے غافل رہتا ہے۔ اور اگر کبھی جان بھی لے تو کڑوی دوا پر صبر کرنا خاصامشکل ہوتا ہے کیونکہ اس کی دوا خواہش کی مخالفت ہے، اور اگر اس پر صبر کر بھی لے تو کوئی ایسا صاحب نظر طبیب نہیں ملتا جو اس کا علاج کر سکے۔ طبیب تو علماء ہی ہیں اور بیماری ان پر بھی غالب آ چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ بیماری اب لاعلاج ہوتی جارہی ہے۔ یہ علم ہر آنے والے ماہ و سال میں مٹتا چلا جا رہا ہے اور دل کی بیماریاں غیر معروف ہوتی جا رہی ہیں۔ لوگ ایسے اعمال میں مشغول ہیں کہ جن کا ظاہر عبادت اور باطن عادت ہے، اور یہی اصل مرض ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے اس کے لیے آپ اللہ کی جانب سے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ پاک نہیں کرنا چاہتا ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب (المائدہ ۴۱) اہل ایمان کو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ’’ اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد کج روی میں مبتلا نہ کرنا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرمانا بے شک تو بڑا عطا کرنے والا ہے۔‘‘ ( آل عمران۸) حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے فارغ ہو کر یہ کہتے ہوئے سنا کہ ’’اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کی طرف سے اس خاص رحمت کا کہ جس کے ذریعے آپ میرے دل کو ہدایت دیں۔‘‘ (ترمذی شریف) اور یہ دعا تو آپ بہت کثرت سے مانگا کرتے تھے کہ ’’اے دلوں کو پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھیے۔‘‘ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ اکثر یہی دعا مانگا کرتے ہیں۔ ایسا کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا’’ اے ام سلمہؓ کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہو جس کے لیے چاہے وہ سیدھا رکھے اور جس کے لئے چاہے وہ ٹیڑھا کردے۔‘‘ (ترمذی ابن ماجہ)

عصر حاضر نے انسانی دل و دماغ کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے اور مسلمانوں کا بھی ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے کہ جو اس دنیاوی چکاچوند کے سامنے ڈھیر ہو چکا ہے۔ دلوں کے اندر ٹیڑھ پیدا ہوچکا ہے اور اللہ کی سچی محبت کی جگہ مال و دولت اور دنیاوی جاہ و جلال نے لے لی ہے، اور اس کا نتیجہ دلوں کی ویرانی اور تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔ دلوں کی ویرانی ہی اصل میں بیماریوں کی جڑ ہے جس سے پورا انسانی جسم (اعمال و افعال) بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا ایک برتنے کی جگہ ہے دنیا کی ہر چیز فانی ہے اور بحیثیت مجموعی دنیا خودایک فانی شے ہے، لہذا دنیا کے اندر پائی جانے والی ان نعمتوں کو استعمال کر نا اور دل میں اللہ کی پاکیزہ اور سچی محبت رکھنا اس کا عین فطری تقاضا ہونا چاہیے۔ جبکہ بدقسمتی سے اس وقت دلوں میں ان تمام چیزوں کی محبت اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے اور دل اللہ تعالی کے ذکر سے غافل ہوچکے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ چند مراسم عبودیت ہیں کہ جن کو کچھ لوگ ایک مکینیکل انداز میں سرانجام دے رہے ہیں جبکہ قلب و نظر اس کی روح سے خالی ہوچکے ہیں۔ اقبال نے اسی بات کی طرف بہت ہی لطیف انداز میں اشارہ کیا تھا کہ
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

یعنی جس طرح حرم شریف کو بتوں اور شرک سے پاک کیا گیا تھا تو ایسے ہی دلوں کو بھی ان دنیاوی بتوں سے پاک کرو گے تو یہ دل رب کی آماجگاہ بنے گا اور خواجہ عزیز الحسن مجذوب نے تو بہت ہی خوبصورت انداز میں اس کی نقشہ گری کی تھی کہ
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئی

ایک تم سے کیا محبت ہو گئی
ساری دنیا سے عداوت ہو گئی

یاس ہی اس دل کی فطرت ہوگئی
آرزو جو کی وہ حسرت ہوگئی

جو میری ہونی تھی حالت ہوگئی
خیر اک دنیا کو عبرت ہوگئی

دل میں وہ داغوں کی کثرت ہوگئی
رونما ایک شان وحدت ہوگئی

آگئے پہلو میں راحت ہوگئی
چل دیے اٹھ کر قیامت ہوگئی

عشق میں ذلّت بھی عزت ہوگئی
لی فقیری بادشاہت ہوگئی

سوگ میں یہ کس کی شرکت ہوگئی
بزم ماتم بزمِ عشرت ہو گئی

ہماری نوجوان نسل کے رہن سہن گفت وشنید اور روزمرہ زندگی کے معمولات کو اگر دیکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ زوال اپنی کن حدوں کو چھو رہا ہے۔ ان حالات میں دلوں کی دنیا کو آباد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ لہذا ایسی مجالس کا اہتمام کرنا کہ جن میں قلب و روح کی پاکیزگی ہو، ازحد ضروری ہے۔ بقول احمد جاوید ’’شاید کچھ لوگ اللہ تعالی کو اس حد تک چاہتے ہیں کہ وہ خود اس کے چہیتے بن جاتے ہیں، یہ دنیا میں اللہ کی نشانیاں ہیں جو اگر ہمارے درمیان موجود نہ ہوں تو چاہے کتب خانے بھرے ہوئے ہوں، ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک اچھے اور سچے مؤمن کو محبت اور ارادت کی نظر سے دیکھ لینا دین کو قلب و نظر کی گہرائیوں تک اتار دیتا ہے کہ جہاں داخل ہوکر چیز یں ہمیشہ زندہ اور فعال رہتی ہیں۔ سینکڑوں کتابیں اور دروس بھی بعض اوقات اتنا اثر نہیں کر پاتے جو ایک متبع سنت امتی اور ایک فانی فی اللہ بندے کو دیکھ کر یا اس کی صحبت سے ہوتا ہے۔‘‘ پھر نظروں کا فیض بھی ملتا ہے اور مکتب کی کرامت بھی، اور جب یہ دونوں چیزیں حاصل ہو جاتی ہیں تو پھر اللہ تعالی کے قرب میں بجلی کی رفتار سے زیادہ آگے بڑھنے کی کیفیت اور سرور حاصل ہوجاتا ہے۔ پھر انسان اس فانی دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو کو قلب و نظر میں سمو لیتا ہے، پھر وہ مقام آتا ہے کہ جہاں پر رب کی رضا اور حکم کے سامنے پوری دنیا ہیچ نظر آتی ہے۔ پھر پوری دنیا کا مال و متاع بھی اس کے سامنے لا کر ڈھیر کر دیا جائے تو وہ اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا، کیونکہ جو دل ذکر الہی سے آباد ہو جائے جس دل میں حبیب کبریا کی سچی محبت جاگزیں ہوجائے تو پھر ساری دنیا اس کے پیچھے پیچھے چلتی ہے اور وہ بےنیاز ہوکر ان لذتوں کوٹھکراتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔

ہماری تاریخ ایسی روشن اور زندہ مثالوں سے بھری ہوئی ہے اور ہماری تاریخ کا کوئی بھی دور ایسا نہیں کہ جب ایسے بے مثال کردار انسانوں کی رہنمائی کے لیے موجود نہ ہوں، اور یہ لوگ انسانیت کے لیے قطب نما کا کام اور فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ جب اللہ کی یاد اور ذکر سے آپ سرشار ہونا شروع ہوجائیں تو آپ کا قلب زندہ اورجاری ہو جاتا ہے۔ جب قلب جاری اور آباد ہو جاتا ہے تو پھر انسان انتظار کرتا ہے کہ کب رب کا بلاوا آئے اور میں اپنے رب سے ملاقات کے لیے حاضر ہو جاؤں۔ پھر سجدوں میں لطف آنا شروع ہو جاتا ہے، پھر آنکھیں اپنے محبوب کے ہجر میں ترستی ہیں، اور پھر وہ لمحہ اورلحظہ بھی آتا ہے کہ جب انسان کو دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہے۔ یہ ہیں روئے زمین پر اللہ کی نشانیاں، یہ ہیں زمین کا نمک، یہ ہیں روشن ستارے کہ جب چلیں تو فرشتے احترام سے قطاریں بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

وہ ایک صحابی کا واقعہ ہے ناں! اور اگر یہ واقعہ پوری طرح قلب و نظر میں سما جائے تو بس سمجھیں کہ دین اپنے پورے اختصاص کے ساتھ مجسم ہو کر سامنے چلا آتا ہے۔ مطلب کمال بندگی کا حاصل اللہ تعالی کی محبت اور تعلق میں انتہائی کمال کو پہنچا ہوا آدمی کیا ہوتا ہے؟ وہ آپ اس وقت تک نہیں سمجھ سکتے کہ جب تک آپ اس واقعے سے واقف نہ ہوں۔ یہ واقعہ گویا بندگی کے کمال مجسم کو سامنے لے کر آتا ہے اور قلب و نظر کی گہرائیوں میں ایمان کو اتارتا چلا جاتا ہے۔

ایک جگہ پر پہرے پر ایک صحابی کو کھڑا کیا گیا اور باقی صحابہ جو تھے وہ سونے کے لئے خیمے میں چلے گئے، وہ غالبا کوئی ایسی جگہ تھی جہاں اردگرد دشمن موجود تھے۔ خیر وہ صحابی پہرے پر کھڑے ہو گئے، باقی صحابہ سونے کے لیے چلے گئے۔ رات کے کسی پہر میں ان میں سے کسی صحابی کی آنکھ کراہنے کی آواز سن کر کھل گئی اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کوئی شدید درد اور تکلیف میں منہ سے نکلنے والی آواز کو روکنے کی کوشش کر رہا ہو۔ لیکن درد کہاں چھپتا ہے۔ وہ صحابی باہر نکلے اور دیکھا کہ یہ آواز انھی کی ہے جو کہ پہرے پر موجود تھے۔ باہر نکل کر دیکھا کہ وہ صاحب تیروں سے چھلنی ہو کر زمین پر گرے ہوئے تھے اور سخت تکلیف میں مبتلا تھے۔ کئی تیر ان کے جسم میں کھبے ہوئے تھے۔ تیر کی نوک جب انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے تو گولی اور بارود سے زیادہ انسانی جسم درد محسوس کرتا ہے۔ باہر آنے والے صحابی نے کہا کہ آپ نے اتنے تیر خاموشی سے کھا لیے؟ پہلا تیر لگنے پر پکار دیتے تو ہم حاضر ہوجاتے اور اتنی تکلیف برداشت نہ کرنی پڑتی۔ اب ذرا دل تھام کر سنیں کہ جب دل میں، قلب میں، آنکھوں میں اور جسم کے روئیں روئیں میں محبت الہی ہو تو کیا ہوتا ہے؟ رسول اللہﷺ کے جاں نثار نے کیا جواب دیا اور ایسا جواب کہ فرشتے بھی سن کر وجد میں آ گئے ہوں گے۔ فرمایا ’’اصل میں میں نے نفل کی نیت باندھ لی اور اپنی ایک محبوب اور پسندیدہ سورت تلاوت کر رہا تھا کہ پہلا تیر لگا، تکلیف تو اگرچہ ہوئی لیکن مجھے اچھا نہیں لگا کہ سورت کو مختصر کرکے نماز جلدی ختم کر لوں۔ یہ سارے تیر میں نے سورت اور نماز کو مکمل کرتے ہوئے کھائے ہیں۔‘‘ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں من و تو کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ جب دل اللہ کی محبت اور اس کے ذکر سے اللہ کے رسول کی سچی اور پاکیزہ محبت سے معمور ہو جاتا ہے تو وہ منور ہو جاتا ہے، روشن ہو جاتا ہے اور مطہر ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں دل مرحمت عطا فرمائے۔ اور اقبالؒ نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ
دلِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ

ترابحر پر سکوں ہے یہ سکوں ہے یا فسوں ہے؟
نہ نہنگ ہے نہ طوفاں نہ خرابی ٔ کنارہ

تو ضمیرِ آسماں سے ابھی آشنا نہیں ہے
نہیں بے قرار کرتا تجھے غمزہ ستارا

تیرے نیستاں میں ڈالا میرے نغمہ سحر نے
میری خاک ِپے سپر میں جو نہاں تھا اک شرارہ

نظر آئے گا اسی کو یہ جہان دوش و فردا
جسے آگئی میسر مری شوخی ٔ نظارہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */