بابا جانی - ام ہادی

ایک بار پھر عابی مکھنوی صاحب کی خوب صورت نظم "بابا جانی" نظر سے گزری۔ یہ نظم مجھے بہت پسند ہے۔ اکثر پڑھتے ہوئے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ لیکن اس سے جڑا ایک سوال ہم اکثر نظر انداز کر جاتے ہیں کہ یہ نوبت آئی کیوں۔ مانتے ہیں کہ موجودہ دور میں جہاں ایک طرف ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کی جدو جہد انسان کو گھن چکر بنائے رکھتی ہے تو دوسری جانب آسائشات بلکہ تعیشات کی جگہ ضروریات نے لے لی ہے جس کے نتیجے میں ہر شخص کولہو کا بیل بنا ایک ہی چکر میں صبح و شام کیے جاتا ہے اور اسی کو اپنی کُل زمہ داری سمجھ بیٹھا ہے جسے ادا کر کے وہ سمجھتا ہے کہ بس اب تو بری الذّمہ ہو گئے۔

گھر والوں اور خاص طور پر بچوں کے لیے نہ اس کے پاس ہمت ہے نہ وقت اور نہ ہی وہ اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ بچے باپ کی توجہ کو ترستے ہیں کہ باپ ان کی چھوٹی چھوٹی باتیں سنے، شرارتوں سے لطف اندوز ہو مگر اسے یہ سب غیر ضروری لگتا ہے۔ بچوں کی مسکراہٹ اور میٹھی باتیں اس کی تھکن نہیں اتار پاتیں سو اس تھکن کو اتارنے کے لیے، تازہ دم ہونے کے لیے اسے روزانہ کی بنیاد پر دوستوں کا ساتھ درکار ہے یا موبائل ٹیلی ویژن پر وقت گزاری۔ رفتہ رفتہ بچے اس کی بےتوجہی کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں اور پھر وہ وقت آتا ہے کہ باپ ان کے لیے صرف ضروریات پوری کرنے کا ایک ذریعہ رہ جاتا ہے۔ جس طرح باپ کے معمولات میں بچوں کے لیے جگہ نہیں تھی، ان کی بےمعنی باتیں، چھوٹے چھوٹے شکوے، دوستوں کے قصے، معمولی پریشانیاں سننے،سلجھانے کے لیے وقت نہیں تھا اسی طرح بچے بھی بڑے ہو کر ان کا کھانا پینا اور دوائیں پورا کر دینا اپنا کُل فرض سمجھتے ہیں۔ اس سے زیادہ تعلق ان سے بنایا ہی نہیں گیا ہوتا، نہ اس سے زیادہ انھیں دیا گیا ہوتا ہے نہ وہ دے پاتے ہیں۔

سوائے ان کے جن پر اللّٰہ کی خاص رحمت ہو اور وہ اس سب کے باوجود "وبالوالدین احساناً" کو یاد رکھیں۔اس کے برعکس ایسے لوگ بھی دیکھے جو دیہاڑی دار مزدور ہیں، روز شام کو چھالے بھرے ہاتھوں پر بچوں سے مرہم لگواتے ان سے باتیں کرتے ان کی زندگی کا حصہ بنتے اور انھیں اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔ اور بڑھاپے میں بھلے ان کی اولاد کے پاس انھیں دینے کے لیے بہت سی آسائشات اور سہولیات نہ ہوں، بنیادی ضروریات پوری کرنے کی مقدور بھر کوشش کے ساتھ ساتھ وقت، توجہ، خدمت اور محبت ضرور ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ امیر ہو یا غریب، خون پسینا ایک کر کے رزق کمانے والا ہو یا ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر صرف احکامات جاری کرنے والا، بات صرف ترجیحات کی ہے۔ جب خاندان اوّل ترجیح ہو تو راستے خود بہ خود نکل آتے ہیں اور بنائے بھی جاتے ہیں۔

مانتی ہوں کہ نوح علیہ السلام سے بڑھ کر کس نے اولاد کی تربیت میں وقت محنت اور صلاحیت صرف کی ہو گی، دوسری جانب فرعون کے گھر تربیت پانے والے موسٰی علیہ السلام وقت کے نبی بنا دیے گئے مگر یہ خصوصی کیسز ہیں عموماً اس کے برعکس ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اللّٰہ پاک ہمیں اپنی زمہ داریوں کو سمجھنے اور صحیح طریقے سے ادا کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں ہمارے والدین کے لیے اور ہماری اولاد کو ہمارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک اور صدقہ جاریہ بنائے آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */