نئی زندگی - سماویہ وحید

ہر بار کی طرح رمضان المبارک کا مہینہ اپنی ایک الگ سی شان و شوکت کے ساتھ آتا ہے اور چلا جاتا ہے. لوگ بڑے بڑے عہد کرتے ہیں کہ اب سے فلاں تبدیلی اپنے اندر لائیں گے اور فلاں فلاں کریں گے. لیکن افسوس کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی صرف ایک ماہ کے لیے زندگی کا موڑ بدلتا ہے اور اگلے ماہ سے وہی زندگی کی ڈوری جو بیچ میں مبارک مہینے کے آنے کی وجہ سے ٹوٹتی ہے مل کر دوبارہ بے حس ہو کر دوڑنے میں لگتی ہے.

پچھلا سال غم کی چادر کے ساتھ طلوع ہوا تھا, لاکھوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے, کسی کا جگر کٹ گیا تھا تو کسی کی ممتا چھن گئی تھی. غرض ہر قسم کا دکھ ملا تھا, لیکن یاد رہے دکھ و خوشی دینے والا مالک بھی خدا تعالیٰ ہی ہے, خدا کا نائب کبھی شکوہ تو کر نہیں سکتا. جو ہوا شکر کے ساتھ قبول کر لیا, میری کیا مجال ہے کوئی مر رہا ہے تو اس کو مرنے سے بچا لوں, میری کیا مجال کہ کوئی زندہ ہے تو اپنی دشمنی کی وجہ سے مار دو. خیر گزرا ہوا سال کرونا کی وجہ سے اداس تھا وہ مزہ نہیں تھا جو رمضان المبارک کا پہلے آتا تھا. وہ جو ہر گھر میں دورہ قرآن کی محفل سجائی جاتی تھی گزرے ہوئے سال میں بالکل مرجھا گئی تھی, وہ جو راتوں کو مل کر عبادت کی جاتی تھی بے رونق ہو گئی تھی. ہائے گزرے ہوئے وقت کا اب کیا کریں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

سدا درویش دکھاتا نہیں

جو ہو چکا سو ہو چکا اب افسوس کرنے کا کیا فائدہ. نئے مہینے کی آمد آمد ہے کیوں نہ اس کے لیے تیاریاں شروع کی جائے, جو پچھلے سال نہیں ہوئی اب ہو جائیں, لیکن سنا ہے اس سال بھی سب کچھ بند کر دیا جائے گا. اب ہم اتنے بھی کئی گزرے نہیں کہ ہر سال یوں چپ بیٹھ جائیں. ہم اپنی تیاریاں زور شور سے ہی کریں گئے. یہ تیاری ایسی نہ ہو کہ ہر سال کی طرح رمضان شروع ہونے سے پہلے کی جاتی ہے اور ختم ہو جاتے ہیں باقی مہینوں کے لئے بھی ختم ہو جائے. مانا کہ تبدیلی لانا بھی مشکل ہے لیکن بھئی آپ کو کون کہتا ہے سب برائیاں ایک ساتھ ہی ختم کر دیں, رفتہ رفتہ آگے بڑھیں. اگر اس بار ایک برائی ترک کر رہے تو اگلی بار دو کو ترک کرنے کا ارادہ کر لیں. خیر بات مختصر کرتے ہیں اگر آپ اس طرح ایک ایک کرکے بھی برائی کو چھوڑنے کا ارادہ کرلیتے ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں تو یقین جانے میں اس رب کی قسم کھا کر کہتی ہے جس کے قبضے میں میری جان ہے وہ کائنات کا رب جنت میرے ہاتھوں میں رکھ دے گا. فائدہ بھی کس کا اپنا ہی ہے کون سا دوسروں کا ہو رہا ہے.

میرا رب ہر وقت پکار کر کہتا ہے اے بندے مانگ میں تجھے عطا کروں گا. تو کیوں نہ اس خالق سے صراط مستقیم مانگی جائے. جس طرح ادا کیا جائے گا اسی طرح مل جائے گی ہدایت بھی. یہ دنیا چند روزہ ہے کیوں نہ آخرت کی تیاری کرلی جائے رمضان کا چاند طلوع ہوتے ہی نئی زندگی کا آغاز کیا جائے. جو میری اور آپ کی آخرت کے لیے ضمانت بن جائے گئی.ان شاءاللہ
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس رمضان کو ہر مہینے کے لیے رمضان بنادے اور اس رمضان کے صدقے ہر وقت نیکی کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */