کیا ہم دوسروں کو بدل سکتے ہیں - ام ہادی

ہم جب تک زندہ ہیں ہمیں لوگوں کے ساتھ ہی رہنا ہے۔انھیں ان کی خوبیوں خامیوں سمیت قبول کرنا ہے۔ہمارے لیے کوئی خود کو نہیں بدلے گا ۔اور اگر ہم ایسا چاہیں بھلے وہ محبت میں ہی ہو تو وہ ظلم ہے۔جب لوگوں کے درمیان رہنا ہے رشتے،ناطے، تعلقات نبھانے ہیں تو اس میں ہر طرح کے لوگ ہوں گے۔دل نکال کر دے دینے والے بھی اور جان نکال کر لے جانے والے بھی!!!
خوشیاں دینے والے بھی اور خوشیاں چھین لینے والے بھی!

ہمارے پاس کوئی پیمانہ کوئی کسوٹی کوئی آلہ نہیں جو ہمیں یہ بتاسکے کہ سامنے والا کس کیٹیگری میں آتا ہے۔ یہ صرف وقت اور تجربہ ثابت کرتا ہے۔ تب تک ہمارے پاس یہ حق نہیں ہوتا کہ ہم صرف اپنے تجربے مشاہدے یا وجدان کی بنیاد پر کسی کو مخلص ہونے یا نہ ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیں یا کم ازکم دل میں ایسا سمجھیں۔ ہمارا کام سب سے اچھے طریقے سے ایسے اخلاق کے ساتھ رہنا اور معاملات نبھانا ہے کہ دشمن بھی دشمنی کر کے بعد میں روئے اپنے گھٹیا پن پر کہ کیسے خوبصورت دل والے انسان کو نقصان پہنچایا۔ محتاط رہا جائے مگر شک نہ کیا جائے۔اگر کسی سے نقصان ہوتا محسوس ہو تو اول تو نرمی سے بات کر کے معاملے کی وضاحت کی کوشش کریں ۔بالفرض نہیں ہوتا تو غیر محسوس انداز میں راستہ بدل لیں۔ اگر وہ مخلص تھا تو احساس ہونے پر ضرور پلٹ آئے گا کیونکہ پہل آپ نے کر دی تھی۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سامنے والا مخلص ہوتے ہوئے بھی کسی وجہ سے ویسا نہیں کر پاتا جیسا ہم سوچ رہے ہوتے ہیں۔پوری زندگی یہی سرکل چلے گا کبھی دوسرے ہماری وجہ سے روئیں گے کبھی ہم دوسروں کی وجہ سے روئیں گے۔ اس کا حل بس یہی ہے کہ اپنے اپنے ہوتے ہیں آگے بڑھیں اور منا لیں۔
۔سوری بولیں میسج کریں کال کریں کارڈ لکھیں کان پکڑیں اسے کہیں جو سزا دو قبول ہے۔ مگر تعلق نہیں توڑنا ہوتا۔ بس یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی ہے
کوئی بات نہیں۔

ٹوٹ گیا جڑ جائے گا کوئی بات نہیں

روٹھ گیا منا لوں گی کوئی بات نہیں

بکھر گیا سمیٹ لوں گی کوئی بات نہیں

چلا گیا واپس بلا لوں گی کوئی بات نہیں

خراب ہو گیا ٹھیک کر لوں گی کوئی بات نہیں ۔

اگلی بار جب بھی کچھ ٹوٹے، کوئی روٹھے، کچھ چھوٹے

انا للّٰہ و انا الیہ راجعون

اور درود پاک پڑھ کر فوراً ممکنہ حل سوچنا ہے۔ جس سے صورت حال بہتر ہو سکے۔اور خود کو اور دوسروں کو انسان ہونے کا مارجن دینا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */