اب خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں - نبیلہ شہزاد

دنیا کی سب سے زیادہ معصوم اور بھولی عوام پاکستانی، جنہیں شاطر و خود غرض حکمران اپنی چکنی چپڑی باتوں سے جب چاہیں متاثر کر لیتے ہیں اور وہ صد بار ٹھوکریں کھانے کے باوجود بھی کسی چھوٹے بچے کی طرح ان کی انگلی پکڑ کر جدھر وہ چلانا چاہیں چل پڑتے ہیں۔ عوام شیخ عبدالحفیظ کو وزارت خزانہ کے عہدے سے ہٹانے پر خوشیاں منا رہی ہے اور دل میں یہ آس لگائے بیٹھی ہے کہ نیا آنے والا وزیر اب راتوں رات پاکستان کی معیشت کو ترقی کے پہیے لگا دے گا۔ روپیہ اپنی کھوئی ہوئی قدر حاصل کر لے گا۔ ڈالر کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ لیکن اس سیدھی سادی معصوم عوام کو کیا خبر؟ کہ یہ وزیر شیخ صاحب کوئی ناکام واپس نہیں جا رہے بلکہ وہ آئی ایم ایف کی طرف سے ذمہ لگایا گیا مشن پورا کر کے جا رہا ہے۔ وہ پاکستان کی معیشت تباہ کر کے پاکستان کا قومی بینک آئی ایم ایف کے ہاتھوں میں تھما کر جارہا ہے اور آنے والے کے بارے میں بھی کیا جانیں؟ آئی ایم ایف، ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ہے جو کہ بین الاقوامی یہودی سود خوروں کا ادارہ ہے۔ پاکستان کی سالمیت کے درپے صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ یہودی بھی پاکستان کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوششیں، انہوں نے کئی سال پہلے ہی شروع کر دیں تھیں۔ اس کا انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بنایا۔ اسٹیٹ بینک کے ایک عرصہ سے تعینات ہونے والے گورنروں کی چھان بین کر کے دیکھ لیں وہ امپورٹ کردہ، آئی ایم ایف سے وابستہ ان کے چمچے ہی نکلیں گے۔ جس کی بہترین مثال گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر ہے۔ جو تقریبا 20 سال سے آئی ایم ایف سے وابستہ ہے اور اس کے ایجنڈے کو ہی پایا تکمیل تک پہنچا رہا ہے۔ جو پہلے آئی ایم ایف کی طرف سے مصر میں تعینات تھا۔ مصر میں اپنا مشن پورا کیا۔ اس کی معاشی حالت تباہ و برباد کر کے رخ مشن پاکستان کی طرف موڑ لیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کا قومی اسٹیٹ بینک یہودیوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔

بینک دولت پاکستان یا اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان کا مرکزی بینک ہے۔ یکم جولائی 1948ء کو قائد اعظم محمد علی جناح نے اس کا افتتاح کیا۔ یہ بینک 1973ء تک پرائیویٹ یا نجی بینک رہا۔ یکم جنوری 1974ء کو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسے قومی ملکیت میں لے لیا۔ ان کے اس اقدام سے پاکستانی معیشت کو حکومتی سرپرستی حاصل ہو گئی۔ لیکن 21 جنوری 1997ء میں ملک معراج خالد کی نگران حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خودمختار کردیا۔تب یہ حکومت پاکستان کے ماتحت نہ رہا بلکہ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ بن گیا۔ لیکن اس کے گورنر کی تعیناتی وفاقی حکومت کے حکم سے ہی کی جاتی رہی۔ یہ الگ بات ہے کہ قرضہ دینے کی مد میں آئی ایم ایف، اس بینک کا گورنر اور وزیر خزانہ کی صورت میں اپنے ایجنٹ پاکستان کی معاشی اسٹیبلشمنٹ بھی شامل کرتا رہا۔ چونکہ اب ہماری موجودہ حکومت نے چند ٹکوں کے قرضے کی خاطر اپنے اسٹیٹ بینک کو یہودیوں کے پاس گروی رکھوا دیا ہے۔ جس نے پہلی شرط ہی یہ عائد کی ہے کہ بینک حکومت پاکستان کو کوئی قرضہ نہیں دے گا۔ اس بینک پر آئی ایم ایف کی ہی اجارہ داری ہوگی۔ گورنر انہی کی مرضی کا ہوگا۔ سودی لین دین کو خوب فروغ حاصل ہوگا۔ بینک منی لانڈرنگ اور مجرمانہ گھپلوں کی صورت میں پاکستانی قانون کی گرفت سے باہر ہوگا۔ سادہ الفاظ میں یوں کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی معیشت اپنے دشمنوں کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے۔ ہمیں ریاست مدینہ کا چکمہ دینے والی موجودہ حکومت نے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے تیس ہزار ارب روپے سے زائد قرض لے کر ہمیں مفلوق الحال اور مقروض ترین قوم بنا دیا ہے۔

پاکستانیو! یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اور بھی بہت کچھ ہے۔ کیا ہمارے لئے ابھی خواب غفلت سے بیداری کا وقت نہیں آیا؟۔ جس نظریہ کی حفاظت کے لیے ہمارے لاکھوں لوگوں نے اپنی جان و مال، عزت وآبرو کی قربانیاں دیں۔ آج غیروں کے ہاتھوں میں اپنی املاک دےکر اس نظریے کا شیرازہ بکھیرا جارہاہے۔ ملز، فیکٹریاں، موٹروے، ایرپورٹ، گروی رکھوا کر سکون نہیں ملا تھا جو اسٹیٹ بینک کو بھی گروی رکھوا دیا۔ اسٹیٹ بینک غیروں کے ہاتھوں میں دینا، ایسا کوئی غیرت مند قوم گوارا نہیں کرتی۔ پاکستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ملک ہے۔ گیس، کوئلہ، تیل، سونا، گننے لگو تو نعمتیں گنی نہ جائیں۔ زرعی لحاظ سے سونا اگلتی زمینوں والا ملک، صرف نااہل اور اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے والی قیادت اس کا مقدر رہی۔ جس وجہ سے یہ ملک معاشی تنزلی کا ہی شکار رہا۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہر نعمت سے مالا مال ملک کی برآمدات سالانہ صرف 3 ارب 75 کروڑ ڈالر ہیں جبکہ درآمدات 800 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہیں۔ در آمدات میں 80 فیصد ایسی چیزیں آتیں ہیں جن کا ہمارے ملک میں بہترین متبادل موجود ہے۔ اور ان کی ہمیں کوئی خاص ضرورت نہیں۔ اگر ہم ان غیر ضروری درآمدات کو ہی ختم کر دیں تو شاید ہمیں قرضہ لینے کی نوبت نہ آئے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے لیکن کسان کی ترقی کے لئے اقدامات کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہے۔ وہ تو سدا اپنی کرسیوں کے چکر میں رہے یا پھر اپنی تجوریاں بھرنے اور احباب و دوستاں کو نوازنے میں۔۔۔۔ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی زراعت سے فائدہ ہی نہ اٹھا سکے۔ ہمارا کسان اس ترقی یافتہ دور میں بھی غریب اور مفلوک الحال ہی ہے۔ پاکستان کا تو اللہ ہی حافظ ہے لیکن بحیثیت قوم ہمیں بھی ہوش کے ناخن لینے ہوں گے اور اپنے وطن کی سالمیت کے خلاف کچھ بھی قبول نہ کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */