کورونا کا پھیلاؤ اور حکومت کی غیر سنجیدگی - حبیب الرحمن

کورونا ویسے تو جب سے ملک میں داخل ہوا ہے جانے کا نام لیتا ہوا نظر نہیں آیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حکومتِ پاکستان اور پاکستانیوں کی تمام تر لا پرواہیوں کے باوجود، یہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لینے میں ناکام و نامراد ہوتا جا رہا تھا۔ اموات کی تعداد جو کہ اب بھی زیادہ تشویشناک نہیں لیکن یہ تعداد 105 سے گھٹتے گھٹتے 20 تک آ گئی تھی جبکہ روزانہ کے حساب سے مثبت کیسز 3000 سے کم ہوتے ہوتے 1000 ہزار کے قریب قریب آ پہنچے تھے۔

اللہ کے اس فضل کو ادارے اور حکومت اسے من جانب اللہ قرار دینے کی بجائے دنیا بھر کے سامنے گردن اکڑا اکڑا کر اپنی حکمت عملی قرار دینے لگے تھے اور دنیا کو بھی مشورہ دینے لگے تھے کہ ہماری ایجاد کردہ اصطلاحیں، مائیکرو اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمتی عملیوں کو اگر اختیار کریں تو ایک جانب ان کی معیشت کا پہیہ جام ہونے سے بچ رہے گا تو دوسری جانب کورونا کو "رونا" بھی نہیں پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے اسمارٹ اور مائیکرو لاک ڈاؤن کا طریقہ کار اختیار کرکے نہ صرف معیشت پہیے کو چلنے دیا بلکہ کورونا کی شدت میں اضافے کے آگے بھی بند باندھ کر رکھے لیکن اس غرور کا کیا کیجے کہ سب کچھ مثبت نتائج کو اپنی قوت بازو سمجھ کر اللہ کی مدد اور نصرت کے ذکر کو بیان کرنا تک فراموش کر بیٹھے۔ شاید اسی بات کا نتیجہ ہے کہ کورونا کی آنے والی تیسری لہر خوفناک سے خوفناک صورت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے اور جس قسم کی تدابیر اور حکمت عملیاں اپنانے کی کوشش کی جارہی ہے سب کی سب سعی لا حاصل کی صورت میں لوٹ لوٹ کر سامنے آ رہی ہے۔

پورے ملک میں کورونا کی جو شرح 3 فیصد سے زیادہ سامنے نہیں آئی تھی اب عالم یہ ہے اوسط 11 سے بھی اوپر ہو گئی ہے جبکہ ایک دو شہر ایسے ہیں جہاں کی اوسط دل دہلا دینے والی ہے۔ خوفناک ترین اوسط دینے والا شہر لاہور ہے جہاں کورونا کے مریضوں کا اوسط 23 فیصد سے بھی زیادہ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر لاہور کی کل آبادی جو کہ نئی مردم شماری کے مطابق 1 کروڑ 40 لاکھ ہے، کا مکمل ٹسٹ کرا لیا جائے تو وہاں مثبت کیسز کی کل تعداد 32 لاکھ 20 ہزار قرار پائے گی۔کسی بھی ملک کا اوسط 11 اعشاریہ 2 ہونا ایک خوفناک علامت ہے کیونکہ اگر پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں اوسطاً مثبت کیسز 11 اعشاریہ 2 فیصد ہوں تو پاکستان میں مثبت کیسز کی تعداد 2 کروڑ، 46 لاکھ 40 ہزار بنتی ہے۔ کیونکہ نہ تو پورے لاہور کی آبادی کے تمام کے تمام ٹسٹ لینا ممکن نہیں اور نہ ہی پورے پاکستان کی آبادی کو ایک ہی دن میں ٹسٹ کے مراحل سے گزارا جا سکتا ہے اس لئے یہ بات صرف فرض ہی کی جا سکتی ہے کہ پورے پاکستان میں اس وقت متاثر افراد تقریباً ڈھائی کروڑ ہیں لیکن یہ اوسط کب اس سے بھی بلند ہو جائے، اس کے متعلق کچھ کہا نہیں جا سکتا۔جو اوسط 3 فیصد سے بڑھ کر اب 11 سے بھی زیادہ ہے تو اللہ نہ کرے کہ آنے کل اور اس کے بعد آنے والے دنوں میں یہ اور بھی زیادہ بڑھ جائے۔ایسی صور حال میں بھی چہار جانب غیر سنجیدگی چھائی ہوئی ہے جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ جن جن علاقوں میں کورونا کی اوسط 8 فیصد سے بڑھ ھائے گی وہاں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے گا لیکن آج (28 مارچ) کو کہا گیا ہے کہ 12 فیصد سے زیادی متاثرہ مقامات پر لاک ڈاؤن کی سختیاں لاگو ہونگی۔لاک ڈاؤن 8 فیصد پر لگایا جائے یا 12 فیصد پر، جب تک اس کی ہر قسم کی نقل و حرکت کو مکمل طریقے سے بند نہیں کیا جائے گا اس وقت تک یہ خیال کر لینا کہ اسے پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے، خام خیالی کے علاوہ کچھ نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام کی تمام معاشی سر گرمیاں بند کرنے کے نتائج ملک و قوم کیلئے بڑے خوفناک ہیں لیکن شہر سے شہر اور ایک ضلع سے دوسرے ضلع کی آمد و رفت بحال رکھنا بھی کم خوفناک نہیں۔ فرض کریں کہ اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ شہر لاہور ہے تو لاہور آنے والی ٹریفک ہو یا لاہور سے باہر جانے والی، دونوں ہی وبا کو مزید دور دراز تک پھیلانے اور جو علاقے اس وبا سے محفوظ ہیں، ان کو خطرے میں ڈال دینے کے مترادف ہے۔ٹھیک ہے، بازار، دفاتر اور دیگر معاشی سرگرمیوں جاری رکھنا ضروری ہے لیکن یہ تو کیا جا سکتا ہے متاثرہ شہروں کی آمد اور رفت کو محدود کر دیا جائے۔کہا تو یہ جا رہا ہے کہ اسمارٹ اور مائیکرو لاک ڈاؤن کی تراکیب پاکستان میں کورونا کے پھلاؤ کو روکنے کا سبب بنی لیکن یہ بات بھی بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ چھ سات ماہ تک پاکستان بھر میں مکمل لاک ڈاون رہا ہے۔ صوبوں کے یہ اقدامات بے شک وزیر اعظم کی رائے سے بالکل برعکس تھے لیکن اسی کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے یہ مرض متاثرہ شہروں سے دوسرے شہروں تک نہ پھیل سکا لیکن جب سے پاکستان بھر کی ساری ٹرانسپورٹ کھول دی گئی اور افراد کی مسلسل لاپرواہیاں جاری رہیں، کورونا کا یہ لاوہ اندر ہی اندر پکتا رہا۔

دنیا جانتی ہے کہ یہ وائرس ڈھائی سے 3 ہفتوں کے اندر اندر ختم ہو جاتا ہے اس لئے پورے ملک کی آبادی کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے اگر پورے ملک میں چند ہفتوں تک کرفیو جیسی پابندی لگادی جائے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ملک خطرے سے باہر نکل آئے گا۔کورونا سے بچنے کا لاک ڈاؤن کے علاوہ اگر کوئی اور حل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ قومیں اس کو اختیار کر چکی ہوتیں لہٰذا حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ اس تیسری لہر کا دفاع کر نا چاہیے کیونکہ اس میں غلطی کی گنجائش بالکل بھی نہیں ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */