ایسا کیوں ہوتا ہے‎ - بنت شیروانی

اس نے فرج کھولا ہی تھا کہ اس کی چیخ نکل گئ۔اور چیخ سنتے ہی اس کے بچے دوڑتے ہوۓ آۓ۔وہ نظریں جماۓ اسے دیکھ رہی تھی کہ بچوں نے پوچھا ۔امی کیا ہوگیا ؟سب خیریت تو ہے؟اب اس کا پارہ مزید ہائ ہوا اور وہ پوچھنے لگی۔کہ یہ بتاؤ اس میں دودھ کس نے گرایا ہے؟ابھی پچھلے ہفتے میں نے اس کی مکمل صفائ کی تھی۔کہ پھر یہ بہتا وہ بھی دودھ۔بچوں نے اب جو اماں کو اتنا غصہ میں دیکھا تو مزید ڈر گۓ۔اور آہستہ سے کہنے لگے امی وہ ہمیں بلی کو دودھ دینا تھا تو اس چکر میں گر گیا ہے۔اب جب اس نے یہ سُنا تھا دانتوں کو چباتے ہوۓ کہنے لگی اچھا وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ بتاؤ کہ یہ پلیٹ میں دودھ کون نکالتا ہے؟اب اسکی بڑی والی بیٹی نے کہا امی آپ کہتی ہیں نا کہ جانوروں کو کچھ دینے کے لۓ الگ برتن بنا لو تو اس لۓ ہم نے اس میں نکالا ہے۔

اب تو وہ چیخی کہ تم نے بلی کی پلیٹ فرج میں رکھ دی۔یہ سُن کر تو اس کی بچی بھی گھبرا گئ کہنے لگی نہی امی بلی کی پلیٹ تو نہی ہے یہ۔اب اس نے اپنا سر پکڑا اور کہا پھر؟وہ امی بس ہم نے نکالا تھا لیکن جب تک بلی کے لۓ لے کر گۓ تو وہ جاچکی تھی۔تو اس لۓ اسے واپس لا کر رکھ دیا۔یہ سُن کر اس نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے۔لیکن یہ پلیٹ میں کیوں نکالا؟کوئ اور برتن نہی ملا تھا کیا؟اب اس کے منجھلے بیٹے نے ذرا اپنے آپ کو سمجھ دار ثابت کرنے کے لۓ کہا کہ امی میں نے کہا تھا کہ پیالے میں نکال لو لیکن نہی۔آپی تو مانی ہی نہی۔یہ سُن کر اس کی بڑی بیٹی ذرا غصہ سے کہنے لگی کہ امی کہتی ہیں کہ جانوروں کے لۓ پرانا برتن استعمال کر لیا کرو۔اس لۓ میں نے اس پلیٹ میں نکالا تھا۔اور پھر اُس سے پوچھنے لگی کہ کیوں امی صحیح کہ رہی ہوں نا؟یہ تمام باتیں سُننے کے بعد اس نے کہا کہ ہاں بھئ تم بلکل ٹھیک کہ رہی ہو۔اور جھنجلاتے ہوۓ کہا کہ ہاں ٹھیک کہ رہی ہو لیکن اب جاؤ یہاں سے۔کہ میں یہ صاف کر لوں۔اور اُس نے اسے صاف کرنے کے ساتھ باقی پورا فرج بھی پھر سے صاف کیا کہ ہفتہ بھر میں کافی گندا ہوگیا تھا۔اور جب وہ اس کی صفائ سے فارغ ہوئ تو اس نے دیکھا کہ وہ جگ مگ کر رہا تھا۔اسے اندر سے خوشی محسوس ہوئ۔لیکن یہ کیا؟فرج کی ربڑ ابھی بھی گندی تھیں۔اور اسے سمجھ نہی آرہا تھا کہ وہ انھیں کیسے صاف کرے ؟؟کہ کہیں صفائ کے چکر میں فرج ہی نہ خراب ہوجاۓ۔اور ساتھ ہی فرج کے دروازہ کا کونا باوجود کوشش کے صاف نہ ہوسکا۔سو اس کی خوشی مانند پڑ گئ۔

کئ عرصہ سے اس کا آنا جانا کہیں نہ ہوا تھا کہ پڑوس میں سے شادی کا دعوت نامہ آیا۔اور وہ بڑی خوش ہوئ کہ چلو کہیں جانے کا موقع تو ملے گا۔ویسے بھی نہ جانے کیوں اسے بچپن سے شادی میں جانے کا شوق تھا۔اور اب جب اسے بلایا گیا تو وہ کافی دیر تک اس دعوت نامہ کو ہاتھوں میں لۓ رہی۔اور ساتھ ہی سوچنے لگی کہ کونسے کپڑے پہن کر جاۓ گی تو دینے کے لۓ وہ کیا تحفہ لے؟؟؟ہفتہ بعد شادی تھی۔لیکن اس پورے ہفتہ میں اس نے شادی میں پہننے والے کپڑوں کو منتخب کرنے کے لۓ روزانہ ہی سوچنا پڑتا۔۔کام والا سوٹ اسے لگتا کہ بہت ہی بھاری ہوجاۓ گا۔ اچھا بنارسی سوٹ پہن لوں گی لیکن نہی وہ بھی مناسب نہی ۔اچھا کھڑے دوپٹہ والا کرتا جو چوڑی دار پاجامہ کے ساتھ ہے وہ بہترین رہے گا۔لیکن نہی بھئ وہ تو لال رنگ کا ہے۔کیا بوڑھی گوڑھی لال لگام۔نہی نہی یہ بھی مناسب نہی۔وہ اپنے آپ کو ہی منع کرتی۔اچھا ساڑھی صحیح رہے گی۔ہے بھی ہلکے کام والی۔بس آستینوں پر ہی تو دبکے کا کام ہے اور پلو پر۔یہ تو بہت ہی اچھا ہوجاۓ گا۔رنگ بھی اس کا ہلکا آسمانی ہے۔اور اس کے ساتھ کا جیولری سیٹ بھی موجود ہے۔وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنے آپ کو تیار دیکھتی۔لیکن پھر اپنے آپ کو منع کرتی کہ بھئ یہ کونسا اتنے قریبی کی شادی ہے کہ ساڑھی پہنوں ؟اچھا رہنے دیتی ہوں اسے بھی۔

اور پھر بڑی مشکلوں کے بعد اس نے جامنی رنگ کا کامدانی والا سوٹ نکالا۔اس کے ساتھ اس نے جامنی ہی کانچ کی چوڑیاں پہنیں تو ساتھ میں سلور رنگ کی بالیاں جس کے اندر جامنی ہی رنگ کی گیندیں موجود تھیں انھیں کانوں میں ڈالا اور پھر آنکھوں پر اسی جامنی رنگ کے آئ شیڈز لگاۓ۔لیکن لپ اسٹک اس نے گلابی رنگ کی لگائ۔اور ساتھ ہی جامنی ہی رنگ کے پتلی سی ہیل والے سینڈل پہنے کہ جن پر سلور رنگ کے نگ لگے تھے۔اور اس تمام تیاری کے ساتھ جب وہ شادی میں گئ۔تو باقی سب تو بہت اچھا رہا لیکن اس کی ایک قریبی سہیلی نے کہا کہ جب سب ہی کچھ جامنی ہے تو اس لپ اسٹک کو بھی جامنی کر لیا ہوتا۔اتنی اچھی ڈریسنگ اور تمام تیاری پر اس لپ اسٹک کے رنگ نے دھندلا کر دیا ہے تمھارے تیار ہونے کی محنت کو ۔اب اس نے تھوڑا افسردہ ہوتے کہا کہا بس وہ اس رنگ کی لپ اسٹک آج ہی بچوں نے پوری توڑ ڈالی تھی۔تو اسلۓ مجبوراً یہ رنگ لگانا پڑا۔یہ سننا تھا کہ اُس نے کہا ارے مجھے کہ دیا ہوتا میں ہی لے آتی۔اور یہ سُن کر اس کی شادی میں پہنچنے کی خوشی مانند پڑ گئ۔

آج اسے سمجھ نہی آرہا تھا کہ کیا پکاۓ ؟کہ سب اس کے گھر والے بہ رضا و خوشی کھالیں۔اس نے سوچا کہ مٹر چاول بناۓ لیکن وہ تو دو دن پہلے بناۓ تھے۔گوشت یا قیمہ تو وہ تو ختم ہوگیا تھا۔اچھا کڑی بنا لیتی ہوں۔لیکن وہ اس کے بچے نہی کھاتے تھے۔اچھا کریلے چنے کی دال بنا لیتی ہوں۔اور جب اس نے کریلے نکالے تو وہ کافی گلے ہوۓ تھے۔یعنی یہ ٹھیک نہ بن سکیں گے۔لہذا اس نے انڈوں کا سالن بنانا شروع کیا۔ابھی وہ مصالحہ بھون رہی تھی کہ تیل کہ اوپر آنے سے پہلے ہی مصالحہ نے نیچے لگنا شروع کیا۔اب وہ کیا کرے۔اسے تو یہی معلوم تھا کہ مصالحہ کو اتنی دیر بھوننا چاھۓ کہ جب تک وہ تیل نہ چھؤر دیں۔لیکن یہ لگتا مصالحہ؟لہذا اس نے چاروناچار تیل اوپر آۓ بنا ہی شوربہ لگایا ۔انڈے ڈالے اور ہلکا سا گرم مصالحہ ڈال کر دم پر لگا دیا ۔لیکن اسے کوفت ہوتی رہی کہ تیل کیوں اوپر نہ آیا؟اور اس کا یہ سالن پرفیکٹ انڈوں کا سالن کیوں نہ بنا؟؟یہ ذرا سی کمی کیوں رہ گئ؟

چاردن بعد وہ بازار گئ تھی۔اسے ڈنر سیٹ خریدنا تھا کہ گھر کے استعمال کی تقریبا تمام پلیٹیں ہی ٹوٹ گئی تھیں تو چاول نکالنے والی ٹرے تو اب کوئ باقی ہی نہ رہی تھی۔جبکہ میٹھے کے پیالے بھی صرف دو ہی رہ گۓ تھے۔لہذا اس کی خریداری کے لۓ آج وہ بازار میں تھی۔اس نے دکاندار سے کئ ڈنر سیٹ نکل واۓ۔اور بڑی مشکلوں سے ایک اسے پسند آیا کہ جس کی قیمت بھی اسے مناسب لگی تو ڈیزائن بھی پسند آیا تھا۔اور کافی سوچ بچار کے بعد اس نے اسے خرید لیا تھا۔گھر آکر جب اس نے اسے کھولا تو اس میں تو مصالحہ رکھنے کی چار چھوٹی چھوٹی کٹوریاں تو سالن نکالنے والے پیالوں کے ساتھ اور ساتھ ہی چاولوں کی ڈِش کے ساتھ ہی اس کے ڈھکنے بھی نظر آۓ۔اور اب اس نے سوچا کہ ہاۓ یہ والا ڈنر سیٹ اس نے کیوں خرید لیا۔گھر کے استعمال کے لۓ ہی تو چاھۓ تھا۔گھر میں کونسا یہ ڈھکن ڈھکتی رہوں گی۔اور یہ اضافی چار کٹوریاں۔اب اس نے اپنا سر پکڑا اور تبدیل کرانے کا سوچتے ہوۓ اس نے رسید نکالی تو اس پر تو واضع لکھا تھا کہ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہی ہوگا۔اور اب وہ سوچنے لگی کہ آخر وہ مطمئن کیوں نہی ہوتی کسی بھی معاملہ میں ایک ہفتہ بعد اس نے اپنی دوست کی دعوت رکھی کہ جس کی امی دوسرے شہر سے اس کے گھر ملنے کے لۓ آئ ہوئ تھیں۔اسی بنا اس نے ان کی دعوت رکھی تھی۔

اس نے سب سے پہلے تو گھر کو صاف ستھرا کیا۔واش بیسن کے ساتھ تولیہ کے اسٹینڈ پر نئ تولیہ لٹکائ۔بستر پر صاف ستھری بیڈ شیٹ بچھائ۔تو میز پر رکھے گلدان میں پھول بھی لگاۓ۔اور کھانے کا مینیو میں بھی سوچ سمجھ کر مختلف ڈشز بنائیں ۔لیکن جب وہ میٹھے میں اپنی دوست کی امی کو کھیر پیش کرنے لگی تو انھوں نے بتایا کہ بیٹا مجھے تو شگر ہے ۔اب تو اس نے بہت ہی بڑا کر کے اوہ مائ گاڈ کہا۔کہ وہ تو کسی بھی مہمان کی دعوت کرنے سے پہلے لازما یہ پوچھ لیا کرتی تھی کہ کسی چیز کا پرہیز تو نہی۔لیکن پھر اس سے یہ کیسی غلطی ہوگئ کہ اس نے پوچھا ہی نہی۔اور آج وہ اپنے گزشتہ گزرے دنوں کے بارے میں سوچ رہی تھی تو اسے لگ رہا تھا کہ کہیں نہ کہیں ،کسی نہ کسی معاملہ میں،کسی نہ کسی اسٹیج پر وہ مکمل نہ تھی۔کسی نہ کسی چیز کی کمی بیشی رہ ہی جاتی تھی تمام کو ششوں کے باوجود۔اور وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ ایسا کیوں ہے؟تو ایسے لگا کہ ہاں کہ اگر انسان کے اندر کمیاں نہ رہیں،اس سے غلطیاں نہ ہوں تو ان کے اندر غرور نہ آجاۓ ۔وہ اپنے آپ کو کامل نہ سمجھنے لگیں۔اور شاید یہ ہونے والی غلطیاں تو رہ جانے والی کمیاں اسی لۓ ہوتی ہیں کہ انسان اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھے۔

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */