محبت اور آج کی محبتیں - حسان بن ساجد

جہاں انسان کو اس دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر اور مولا کا نائب بنا کر بھیجا گیا۔ وہیں انسانی مزاج میں نفرت اور بغض بھی رکھا تو اسی انسانی دل میں محبت اور وسعت قلبی بھی رکھی۔ انسان پیار و محبت سے جانور تک کو اپنے زیر اثر کر لیتا اور اگر دل میں سختی ہو تو یہی انسان ابلیس کا پیروکار بھی بن جاتا ہے۔ میرے زیادہ تر کالم و تجزیات ملکی سیاسی، معاشی و دفاعی معاملات پر ہی ہوتے ہیں مگر آج قلم اٹھانے کا واحد مرکز معاشرے میں ابھرتے ہوے ایسے مسلہ کو اجاگر کرنا ہے جو سماج کی جڑیں کھوکھلی کرتا جارہا ہے۔

کالج و یونیورسٹی لائف سے ہی اس موضوع پر قلم اٹھانا چاہا مگر دیگر وجوہات پر اکثر کچھ حد تک تحریر کر کہ چھوڑ بھی دیا کرتا تھا مگر آج کوشش ہوگی کہ تحریر کو مکمل کرسکوں۔ بہر حال ملک پاکستان کی اگر بات کروں تو قائد اعظم محمد علی جناح رح نے قیام پاکستان کے ساتھ ہی فرمایا تھا کہ "ہمیں سندھی، پنجابی، بلوچی اور پٹھان سے بڑھ پاکستان کا سوچنا ہوگا"۔ قائد اعظم اول دن سے وحدت و يكسانیت کے قائل تھے مگر آپکے وصال کے بعد کبھی سندھ سے "کراچی اردو بولنے والوں کا ہے" کی آوازیں آتی رہیں تو کبھی بلوچستان میں پنجابی غیر محفوظ رہے۔ اسی طرح کبھی پنجاب سے ایک نامور سیاسی جماعت "جاگ پنجابی جاگ" کا نعرہ بھی لگاتی نظر آئ۔ یہی وہ لسانی فسادات تھے جن کی وجہ سے 1971 میں مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوا۔ بہر حال یہ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم علاقائ مفادات سے نکل کر ملکی و قومی محبت میں آگے بڑھ جائیں۔

اگر لفظ محبت پر غور کروں تو یہ کسی بھی قسم کی ذاتی خواہش کو مار کر کسی کو چاہنے کا نام ہے۔ یہی وہ محبت تھی جسکی وجہ سے حضور ﷺ کو سفر معراج کروایا گیا اور قرآن مجید میں بھی اللّه رب العزت نے اپنی محبت کے ساتھ حضور ﷺ کی محبت کو لازم قرار دیا۔ پھر وہ محبت رب کعبہ سے ہو یا پھر حضور ﷺ سے، انسان کو اعلیٰ بناتی چلی جاتی ہے۔ یہ محبت ملک و زمین سے ہو تو پھر یہ الگ ہی اثر رکھتی ہے۔ پھر یہی محبت والدین و بچوں میں بھی ہوتی جو ایک الگ مقام و مرتبہ رکھتی ہے جسے انسان چاہ کر بھی نہیں توڑ سکتا۔ ہم نے بہت سے قصے و کہانیاں پڑھی اور سن رکھی ہیں جن میں ہیر رانجھا، سوہنی ماہیوال، سسی پنوں، لیلیٰ مجنوں و دیگر شامل ہیں مگر ان سچی داستانوں میں انجام موت یا پھر نہ ملنا ہی ہوتا ہے۔ یہ وہ قصے کہانیاں تھیں جو اپنے اندر اخلاص، ایثار اور عہد وفا کا حسن رکھتی تھیں۔ اگر آج کے دور میں اپنے معاشرے کی جانب نظریں دوڑاوں آج ہر لڑکا و لڑکی نام نہاد۔ محبت میں گرفتار نظر آتا ہے حتی ک آج کل کے چھوٹے بچے بھی عاشق نظر آتے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ کالج و یونیورسٹی لائف اور بالخصوص ہاسٹل لائف میں لڑکوں کو قریب سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اب ایک عجیب سا ٹرینڈ چل پڑا ہے ایک دوسرے سے موبائل چیٹ کرو اور کم و بیش چھ ماہ سے چند سال بعد کسی اور سے دوستی و نئی زیرو میٹر محبت کا ڈرامہ کیا جاۓ۔ قسمیں، وعدے اور پھر نئی محبت کا سرکل جاری رہتا ہے۔ کہیں لڑکے دھوکے دے رہے تو کہیں لڑکیاں اپنے آپ کو چالاک و شاطر سمجھ رہی ہیں اور یقینا" دونوں ہی خود کو الگ مشکل میں ڈال رہے ہوتے۔ کیا انکو نہیں معلوم کہ رب کعبہ بھی انکے ان ڈراموں کو دیکھ رہا ہے؟ کیا کوئی ایسا نہیں جو ان ڈراموں کو قلع قمع کر سکے؟ کیا آج کے والدین ان چیزوں کو اتنا لائٹ سمجھ رہے کہ غفلت کی نیند سو رہے ہیں؟ یہ معاشرے کی کلیدی ذمہ داری ہے کہ اس ابھرتے ہوے مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاۓ۔ آج بو علی سینا جیسے لوگ کیوں پیدا نہیں ہورہے؟ دوسری جانب ان بچوں اور نوجوانوں کی ذہن سازی میں بھارتی و دیگر فلم انڈسٹری کا اہم کردار ہے۔ انہی انڈسٹریز کی وجہ سے آج کل کے بچوں کو دین محمدی ﷺ کا کم اور دوسری جانب ہندو دیوتاوں و پوجا کا زیادہ تدارک ہے۔ یہ ہماری اور ملکی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسلوں کو روشن مستقبل دیا جاے اور ایک سمت ہو جس جانب نسلیں راغب ہوں۔

ہمارے ہاں بہت سے علماء کرام ایسے ہیں جو اپنی حد تک تزكیہ نفس و اصلاح احوال کے لیے کوشاں ہیں اور ہر وقت کوشش جاری رکھے ہوے ہیں۔ ان علما کی کوشش ہے کہ نسلوں کو دنیا کی محبت، حرص و لالچ سے نکال کر اللّه کے ساتھ جوڑا جاۓ۔ حکومت وقت اور ملکی اہم اداروں کو چاہئیے ایسے علما کرام کے خطابات کو ٹی۔وی سکرینز پر لازمی نشر کیا جاۓ جو کسی فرقہ پرستی سے نکل دین حق کا پیغام عام کررہے۔ مولانا طارق جمیل، علامہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری، علامہ ثاقب رضا مصطفائ اور چند ایسے علما کرام ہیں جو امت اور نسلوں کی اصلاح کے لیے کوشاں ہیں۔ ہمیں اپنے معاشرے کو محفوظ معاشرہ بنانا ہوگا جس میں اگر کسی کو محبت ہو بھی جاۓ تو وہ جھوٹے وعدوں اقرار کی بجاے نکاح کی جانب بڑھ کر اختتام پذیر ہوں نا کہ وعدہ خلافیوں، دل آزاریوں اور اللّه رب العزت کی ناراضگی لے کر اختتام پذیر ہوں۔ آج اگر ہم کرونا وائرس اور پھر اسکی نئی اقسام کے گھیرے میں بند ہیں تو یقینا" ہم نے حقوق العباد کی حق تلفیاں کی ہیں کیونکہ اللّه اپنے حقوق تو معاف کرے گا مگر حقوق العباد کی معافی فقط بندے کے اختیار میں ہیں۔ آج کے اس دور پر فتن میں ہر شخص کے چہرے پر غصہ اور دل میں بغض سے بھرا پڑا ہے تو کسی طرف کوئی انا پرست اور پتھر دل ہے۔ انہی اکڑ اور تكبر کی وجہ سے آج مولا پاک انسان کے تكبر و غرور کو خاک میں ملا رہا ہے۔

آج کی میری تحریر کا اگر خلاصہ و مرکزی خیال لیا جاۓ تو یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم اپنے پتھر جیسے دلوں کو توڑ کر انہیں نرم موم کریں۔ عاجزی انكساری و محبت کا ایسا سمندر بنیں کہ ہر طرف سے خوشیوں اور مسکراہٹوں کی بہار آے۔ خواہ وہ دوستیاں و سنگتیں ہوں یا پھر والدین، وہ خونی رشتہ دار ہوں یا ہمسایہ، محبوب ہو یا پھر کوئی ایسا شخص جس کا آپ نے دل دکھایا ہو سب سے معذرت خواہ ہوں اور ہر دوسرے فرد کو بھی چاہئیے کہ وہ وسعت قلبی کا اظہار کرے اور معافی کے طالب کو معاف کرے، نا کہ تكبر و شیطان کا پیروکار بنے۔اللّه کے حضور دعا گو ہوں کہ یہ وطن محبت، امن، بھائی چارے اور خیر و عافیت کا ایسا دیس بنے جہاں سے اقوام عالم میں محبت و امن کی ٹھنڈی ہوائیں جائیں اور نسلیں روشن خیال و مثبت سمت کی جانب رواں ہوں۔آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */