عورت کا دکھ - اظہر حسین بھٹی

ایک دن اچانک میری خالہ جان مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔اظہر میاں ایک بات تو بتاؤ، کیا عورت ہونے کا دکھ سمجھتے ہو تم؟ میں جو کہیں جانے کے لیے پرفیوم لگانے میں مصروف تھا اچانک اِس سوال نے مجھے روک لیا۔ اور میں نے حیرانگی سے خالہ جان کو جواب دینے کی بجائے اُلٹا سوال کیا کہ خیر تو ہے خالہ جان۔؟یہ اچانک ایسا سوال کیوں اور وہ بھی مجھ جیسے نالائق سے۔؟ سب خیریت تو ہے ناں۔؟

اور ہاں آپ کو ایسا کیوں لگا کہ اس سوال کا جواب میرے پاس ہو گا۔؟

خالہ جان: سُنا ہے آج کل تم بہت کچھ لکھتے پڑھتے رہتے ہو۔۔تو سوچا کہ کیوں ناں تمہیں تھوڑا سا پرکھ ہی لیا جائے کہ آخر کس حد تک گہرائیوں کو ماپنے کا ہنر جان گے ہو یا بس ایویں صفحے ہی کالے کرتے رہتے ہو ہر وقت۔

میں: اچھا تو ہماری دانش مندی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔

خالہ جان: یہی سمجھ لو۔۔!

میں: پتہ ہے خالہ۔۔۔ میں ویسے ذاتی طور پرعورت ذات کا بہت بڑا فین ہوں۔ یہاں تک کہ اگر مرد کو عورت کا مرید بننے کا حق حاصل ہوتا ناں تو میں کسی پیرنی عورت کا ہی مرید ہوتا آج۔

خالہ جان: بھئی واہ۔۔ جان تو ہے تمہارے لفظوں میں۔ اب آگے بھی کچھ گوش گُزار کریے ہمارے۔

میں: میں سمجھتا ہوں کہ عورت کا دوسرا نام قربانی ہے کیونکہ دنیا میں عورت سے بہتر قربانی کوئی دوسرا دے ہی نہیں سکتا۔

خالہ جان: وہ کیسے؟

میں: وہ یوں خالہ جان کہ محبت کی ہے کبھی آپ نے؟ (جواب کا انتظار کیے بغیر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے) محبت میں سب سے زیادہ قربانی عورت ذات ہی تو دیتی آ رہی ہے۔ کبھی پگڑیوں کی لاج رکھ کر تو کبھی جان دے کر۔

ہم مردوں کا کیا ہے؟ زیادہ سے زیادہ

ڈانٹ ڈپٹ کھا لیتے ہیں یا گھر والے عاق کر دیتے ہیں۔ لیکن عاق کر دینے سے بھی مرد ذات کو کیا فرق پڑتا ہے وہ کما سکتا ہے، کہیں بھی رہ سکتا ہے، کہیں بھی جا سکتا ہے۔ لیکن عورت ذات کے پلّے کچھ نہیں بچتا۔ وہ یا تو ''نکاح قبول'' کرتی ہے یا پھر ''موت ''۔ جو کہ میری نظر میں ایک ہی بات ہے۔

خالہ جان: ارے واہ۔۔۔ بڑے کام کے آدمی نکلے تم تو بھانجے۔ ماشائاللہ کیا وچار ہیں۔ میری بہن تو قسمتوں والی نکلی۔

میں: اسے اب طنز سمجھوں یا تعریف (ترچھی اور سوالیہ نظروں سے خالہ جان کی طرف دیکھتے ہوئے)

خالہ جان: ارے بھانجے تعریف ہی کر رہی ہوں تمہاری۔ طنز کرتی تو تمہیں چبھن بھی محسوس کروا دینی تھی میں نے۔

میں: شکریہ۔ آپ نے اس نا چیز کو تعریف کے قابل سمجھا۔

خالہ جان: اور بتاؤ اپنا نظریہ۔۔۔ عورت کے متعلق؟

میں: اور کیا بتاؤں۔۔۔۔(سوچتے ہوئے)

ہاں عزت کے معاملے میں مرد کو بڑی چھُوٹ حاصل ہوتی ہے جبکہ عورت کا سامنا اِس معاملے میں بڑی نازک صورتِ حال سے رہتا ہے۔ یعنی اِس دوغلے معاشرے میں عورت کی عزت جانا اس کے مر جانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ مرد کی عزت کا تعلق ہمیشہ سے کبھی نہیں رہا بلکہ دنوں مہینوں سے ہوتا ہے۔ لوگ بھول جاتے ہیں اور وہی مرد جو عزت کھو چکا ہوتا ہے کچھ دنوں کے بعد عزت دار بھی کہلانے لگ جاتا ہے جبکہ عورت کو سالوں برسوں کے بعد بھی عزت کے طنز طعنے سہنے پڑتے ہیں۔ جانے لوگ عورت کا ماضی کیوں نہیں بھولتے۔۔۔ مرد کا تو بھول جاتے ہیں۔اور ویسے بھی یہ حیاء کا درس اور سبق عورت کے حصے میں ہی کیوں آتا ہے۔؟ یہ پردے کا حکم صرف عورت کے لیے ہی تھوڑی نہ ہے۔ یہ جو عورت ذات کو قرآنی آیات پڑھ پڑھ کر پردے کا بتاتے نہیں تھکتے یہ کیوں وہ اُنِہیں آیات سے اگلی آیات کا ترجمہ خُود نہیں پڑھتے جہاں اِنہیں بھی پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ہمارا حافظہ اس معاملے میں کس قدر منافقت سے کام لیتا ہے۔

ہیں ناں خالہ؟ (بات ختم کر کے خالہ جان کی طرف دیکھتے ہوئے)

خالہ جان: بھانجے دل جیت لیا تم نے۔ مجھے سچ میں بہت اچھا لگا کہ تم صحیح سمت میں جا رہے ہو۔

میں: شکریہ خالہ جان۔

ایک اور بات۔۔۔۔ ہمارے اِس نام نہاد معاشرے نے جانے کیسے مکروہ و فریب قسم کے پیمانے بنا رکھے ہیں انسانی کردار کو ماپنے کے لیے، جن سے مجھے تو بہت گھن آتی ہے بھئی۔
اور ستم ظریفی دیکھیے ذرا کہ عورت کو ہمیشہ ایک ہی چیز سے جانچا اور پرکھا جاتا ہے اور وہ ہے اُس کا کردار۔ جبکہ مرد کو پرکھنے کے کئی پیمانے بنا رکھے ہیں اِس دوغلے معاشرے نے۔نام، دولت، شہرت، عزت، خاندان، وقار،تعلیم اور جانے کیا کیا۔ لیکن عورت ذات کو آج کے اِس جدید دور میں بھی کردار کی وجہ سے ہی قبول اور رَد کیا جاتا ہے۔
(دُکھی اور روہانسے لہجے میں بولتے ہوئے)

خالہ جان: بھانجے باتیں تمہاری تو سب ٹھیک ہیں۔ میں متفق ہوں۔ لیکن اِس کا حل کیا ہے تمہاری نظر میں۔؟

میں: پتہ ہے خالہ۔ یہ معاشرہ اُس دن ٹھیک ہو جائے گا جس دن مرد اور عورت کی عزت کو برابری کی سطح پر پرکھا جائے گا۔ دونوں کو عزت کے معاملے میں برابری کی سطح پر سزا سنائی جائے گی۔ کسی عورت کے پاؤں میں کوئی بڑا اپنی پگڑی پھینک کر اُس کی خُوشیوں کا خُون نہیں کرے گا۔کوئی بھائی، کوئی باپ غیرت کے نام پہ کسی عورت کا قتل نہیں کرے گا۔ عورت کو بھی اُس کے خواب پورے کرنے کا پورا پورا حق دیا جائے گا، بس اُس دن یہ معاشرہ بھی ٹھیک ہو جائے گا اورترقی کی راہوں پہ گامزن بھی۔(باہر آپ کے دوست آپ کو بُلا رہے ہیں اظہر بھائی۔ چھوٹا بھائی اطلاع دینے آ گیا)

خالہ جان: اِدھر آؤ میرے پاس

میں: قریب چلا گیا۔

خالہ جان: (ماتھا چومتے ہوئے)

جیتا رہے بھانجے، خُوش رہے۔ خُدا ڈھیروں ترقیاں دے اور قلم کو اچھے کاموں کے لیے استعمال کرنے کے توفیق بھی دے۔ جا دوست تیرا انتظار کر رہے ہیں باہر۔

میں: باہر دوستوں کی جانب آہستہ آہستہ قدم بڑھانے لگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */