سوشل میڈیا کی فریب کاریاں - حاجی محمد لطیف کھوکھر

سوشل میڈیا کے ذریعے دور دراز والوں سے تو رشتے استوار کر لئے جا رہے ہیں مگر گھر والوں اور قریبی لوگوں سے ملنے کی فرصت کسی کے پاس نہیں۔ اس وجہ سے قریبی رشتوں میں کڑواہٹ گھلتی جا رہی ہے۔ کام سے فرصت پاکر گھر والوں کے قریب بیٹھنا اور باتیں کرنا اب لوگ بھول گئے ہیں۔ایک واقعہ ہے۔ ایک آدمی صبح صبح گھر سے نکلا۔ اس کے ہاتھوں میں ایک تھیلی تھی جس میں کچھ تصویریں اور کاغذات تھے۔ جیسے ہی وہ دروازے سے باہر نکلا اس کی ملاقات دودھ والے سے ہوگئی۔ اس نے دودھ والے سے کہا ’’مَیں نے چائے پی اور دو بسکٹ کھائے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔ دودھ والا اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ شخص اور آگے بڑھا تو اخبار والا نظر آگیا اس نے اس سے کہا ’’کل میرے بیٹے کا برتھ ڈے تھا۔ ہم نے کیک کاٹا اور بریانی کھائی۔‘‘ اس سے پہلے کہ اخبار والا کچھ جواب دیتا، وہ شخص آگے بڑھ گیا۔ کچھ آگے ایک صاحب نظر آئے جو شاید مارننگ واک سے واپس آرہے تھے اور جو شناسا بھی تھے۔ ان سے اس نے ایک عورت کی تصویر بتاتے ہوئے کہا ’’یہ دیکھو تمہاری بھابھی کی تصویر… ہماری شادی کو دس سال ہوگئے۔‘‘

وہ صاحب حیران ہوئے، مسکرائے اور نہ جانے کیا سوچ کر ساتھ چل پڑے۔ غرض راستے میں جو بھی ملتا وہ شخص مختلف تصویریں دکھاتا اور کہتا جاتا۔ جیسے کب وہ گھومنے گیا تھا۔ کہاں اس نے کیا کپڑے پہنے تھے۔ کس گاوں میں شادی میں شرکت کیلئے گیا تھا، وہاں کون سی مٹھائیاں تھیں وغیرہ۔ تجسّس کے مارے کچھ لوگ اس کے پیچھے ہوگئے کہ صورت سے معقول نظر آنے والا یہ شخص کیا کر رہا ہے غرض ایک گھنٹے کے بعد جب وہ چلتے چلتے اور اطلاعات دیتے دیتے تھک گیا تو ایک پارک میں بیٹھ گیا۔ اب جو اس نے دیکھا تو اس کے ساتھ اب بھی تین فرد تھے جن میں ایک اخباری رپورٹر تھا، ایک پولیس والا اور ایک نفسیات کا طالبعلم۔ ان تینوں نے اس پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور اس کی حرکتوں کی وجہ پوچھی۔ اس نے کہا کہ آج کل فیشن چلا ہے کہ اپنی زندگی کی ہر ہر بات دوسروں کو بتائی جائے۔ وہ یہ کام اسمارٹ فون کے ذریعے کرتے ہیں۔ میرے پاس فون نہیں ہے تو مَیں نے سوچا کہ مَیں خود لوگوں کو بتاوں… اس میں کیا بری بات ہے؟ تینوں حاضرین کچھ نہ بول سکے… پتہ نہیں اس واقعہ میں کتنی سچائی ہے مگر خود کے بارے میں بتانے کا رجحان عام ہو چلا ہے۔ چونکہ ایک دوسرے سے باخبر رہنا ضروری ہے اس لئے انتہائی ذہین ہونے کی وجہ سے انسان نے خبر رسانی کے طریقوں میں ترقی کی پتھروں پر لکھنے اور تصویریں بنانے سے شروعات کی پھر پتوں اور پھر کاغذ پر لکھنا سیکھا۔ اور اب بات کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر آگئی اور یوں دنیا ایک چھوٹے سے گاوں میں تبدیل ہوگئی۔

منٹوں میں یہاں کی خبر وہاں پہنچ جاتی ہے۔ ویڈیو کالنگ کا زمانہ ہے۔ ہم ایک دوسرے کے اتنا قریب آگئے کہ اب نہ صرف سن سکتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں کہاں کیا ہو رہا ہے اس کی خبر پلوں میں سب تک پہنچ جاتی ہے۔ اب دور آیا ہے سوشل میڈیا کا۔ بلاشبہ انسانی ترقی کا یہ شاید اعلیٰ ترین دور ہے۔ سوشل میڈیا کے فائدہ جتنے گنوائے جائیں کم ہیں۔ اس کی وجہ سے انسانی رشتے زیادہ گہرے اور مضبوط ہوگئے ہیں۔ برسوں کے بچھڑے بھی اس کی وجہ سے دوبارہ مل گئے ہیں۔ دوست احباب بھی جو ایک دفعہ بچھڑنے کے بعد شاید ہی کبھی مل پاتے تھے اب مسلسل رابطہ میں ہیں اور ہر طرح ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ یہ تو تھا روشن پہلو۔ اب دوسرا پہلو بھی دیکھیں۔ لوگوں نے جب دیکھا کہ خبر رسانی اتنی آسان ہے تو بس اسی میں لگ گئے۔ آج ہر انسان کے پاس اسمارٹ فون ہے۔ بچہ، بوڑھا، عورت، مرد سب ہر وقت ہاتھ میں فون لئے مصروف نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر وقت کام کی باتیں تو نہیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا بیکار باتیں ہی زیادہ کی جاتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی اور غیر اہم باتیں کی جاتی ہیں۔ مثلاً کیا کھایا، کیا پہنا اور کہاں گئے اور کون آیا وغیرہ وغیرہ۔ ویڈیو کالنگ کی سہولت ہے اس لئے تصویریں بھی دکھائی جاتی ہیں۔ غرض ہر ہر بات دوسروں کے علم میں لائی جاتی ہے۔

چاہے وہ کتنی ہی غیر ضروری ہو۔ بتائی جانے والی باتیں بتائی جائیں تو ٹھیک ہے مگر ایسی باتیں بھی بتائی جاتی ہیں جن کا چھپانا ضروری ہے۔ سارے دوستوں اور رشتہ داروں کی تصویریں دکھائی جاتی ہیں یہ سوچے بغیر کہ سامنے والے کو اس سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ فیس بک اور انسٹاگرام پر ہر وقت موجود رہنا ضروری تو نہیں۔ کسی کے ساتھ پیزا کھایا تو وہ تصویر ڈال دی۔ شہرت کا ایسا شوق بھی کیا! ایک محترمہ تو لیبر روم تک بھی فوٹو گرافر کو ساتھ رکھتی ہیں۔ غرض جو باتیں انسان خود سے بھی چھپانا چاہتا ہے وہ منظر عام پر لا رہا ہے۔ اور بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام ہوگا کہ مصداق مشہور ہونا چاہ رہا ہے۔ ہر وقت لائک اور شیئر کرنے کی مصروفیت ہے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جانے بوجھے بغیر لڑکے اور لڑکیاں Chat اور Cheat کر رہے ہیں اور نقصان بھی بے تحاشا اٹھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دور دراز والوں سے تو رشتے استوار کر لئے جا رہے ہیں مگر گھر والوں اور قریبی لوگوں سے ملنے کی فرصت کسی کے پاس نہیں۔

اس وجہ سے قریبی رشتوں میں کڑواہٹ گھلتی جا رہی ہے۔ کام سے فرصت پاکر گھر والوں کے قریب بیٹھنا اور باتیں کرنا اب لوگ بھول گئے ہیں۔ اگر کبھی اکٹھے ہوں بھی تو ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتا ہے اور اس کی نظریں اسی پر گڑی ہوتی ہیں۔ کیا یہ ایک انتہائی مفید چیز کا انتہائی غلط استعمال نہیں ہے؟ فائدہ مند چیز سے نقصان اٹھانا کوئی ہم سے سیکھے۔ افواہیں پھیلانے کا نقصان بھی ہمیں ہی برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔فی زمانہ سوشل میڈیا ایک ایسی لت بن چکا ہے، جس میں بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سب گرفتار ہیں۔ ماہرین کے نزدیک لت کی تعریف یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا عمل، جس کو کرنے سے آپ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آپ یہ بات جاننے کے باوجود اس عادت کو ترک کرنے سے قاصر ہوں۔ دنیا کے مایہ ناز ماہرین میں سے ایک ڈاکٹر گیبر میٹ کی ریسرچ کے مطابق ہر لت کسی نہ کسی ذہنی دھچکے سے متعلق ہوتی ہے۔ زندگی میں ملنے والی کوئی بھی ناکامی انسان کو کسی نہ کسی لت میں مبتلا کرتی جاتی ہے۔ جب کسی کو کوئی جذباتی دھچکا پہنچتا ہے تو وہ اپنے جیسے کسی دوسرے انسان کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔ معاشرتی حیوان ہونے کے ناطے انسان کی جبلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے انسانوں سے رابطہ قائم کرے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */