رمضان کی آمد اور اہمیت ان چیزوں کی‎ - بنت شروانی

اب تو ہوگی پارٹی۔بھئ میرے تو ہوگۓ وارے نیارے۔اب تو خالی پیٹ رہنے کا بھی سوال ہی نہی پیدا ہوتا۔مزے ہی مزے بھئ۔کڑاہی نے اپنی مالکن کو سموسے بناتے دیکھ کر یہ جو نعرے لگائے اور خوشی کا اظہار کیا تو فرائنگ پین اور توے کہنے لگے کہ بھئ ہم نے بھی دیکھ لیا اپنی مالکن کو یہ کام کرتا دیکھ کر۔اور ہم بھی خوش ہیں لیکن تمہاری تو خوشی کا انداز ہی نرالہ ہے ۔
ہاں نا یہ تو بلکل ہی جذباتی ہوجاتی ہے اور اتنا شور مچاتی ہے کہ نہ پوچھو۔ویسے تو اس کی شور مچانے کی عادت سے تو ہم سب ہی بہ خوبی واقف ہیں کہ جب اس کے اندر موجود ہو تیل اور چلے جائیں پانی بھیا کے چھینٹے تو پھر تو ایسا شور مچاتی ہے کہ ال امان الحفیظ۔توے صاحب بولنا شروع ہوگۓ تھے۔میری تو ذرا دیر ہی ہوئ تھی کہ آنکھ لگی تھی کہ آخر کو صبح سے مصروف جو اتنا تھا ۔آج تو بڑی آپا نے خوب سارے ہی پراٹھے بنا ڈالے ۔کہ مہمان جو اتنے آۓ ہوۓ ہیں۔

اب فرائنگ پین نے جو لفظ مہمانوں کا سُنا تو اس کی بات کے بیچ میں ہی کود پڑا اور کہنے لگا کہ ارے اپنے ہی بولے جاؤگے یا میری بھی کچھ سنو گے۔میں بھی تو بولنے کو بیتاب ہوں کہ وہ “شیلو فرائ “والا لفظ بولنے والی مہمان جو آئ تھیں وہ کب آئیں گی؟فرائنگ پین نے اتہائ راز دار سے پوچھا ۔ارے وہ والی وہ تو سعودیہ عرب سے آئ تھیں۔سُنا ہے کہ فلائٹوں کا مسئلہ چل رہا ہے۔اسی بنا آنے سے قاصر ہیں۔ارے بھئ کون آرہا ہے ؟اور کون جارہا ہے ؟سال بھر سے سوتے سل بٹّہ نے جو ان لوگوں کا شور ہنگامہ سُنا تو کہنے لگا کہ اتنا شو رو غل مچا رکھا ہے کہ میری نیند میں خلل پڑ گیا ۔اب تو پلیٹ نے منہ بناتے ہوۓ اس سے کہا اچھا۔۔۔ سال بھر سے سونے کے باوجود نیند پوری نہی ہوئ کیا؟؟؟؟؟اور ان چند منٹوں میں ہونے والی پوری بات سے آگاہ گیا۔اب تو وہ اچھلنے کو ہی تھا کہ زمین نے کہا سل بٹّے بھیا آرام سے ذرا دھمیے دھیمے ۔تمھارا رقبہ تو کم ہے لیکن جسامت کے حساب سے وزن کچھ زیادہ ہی ہے۔لہذا یہ اچھل کود تمہارے بس کی بات نہی۔خوش ہی ہونا ہے تو اپنے اوپر لگی اس گرد کو ہی جھاڑ لو۔

ہوں ۔کہتی تو تم ٹھیک ہو بس ذرا یہ بتاؤ کہ اس سال افطار پارٹی ہوگی کہ نہیں ؟اور وہ چھوٹی دادی کی آمد کا کتنے فیصد امکان ہے؟ارے پچھلے سال تو اس کرونا کی وجہ سے وہ آہی نہ سکیں لہذا ہماری بھی قسمت بھی نہ جاگی۔ورنہ وہ آتی ہیں تو ہمیں تیار کیا جاتا ہے۔صاف ستھرا کرکے ہم پر لہسن اور ہرے دھنۓ کی چٹنی پیسی جاتی ہے۔کہ چھوٹی دادی کو تو مجھ پر ہی بنی چٹنی پسند ہے۔لہذا ان کی آمد پر تو میں خوشی سے نہال ہوجاتا ہوں۔شکر ہے کہ ویسے سال میں وہ ایک بار ہی آتو جاتی ہیں کہ جس کی وجہ سے میری قدروقیمت سے بھی سب آگاہ ہوجاتے ہیں۔
اور اسے ساتھ ہی اس نے کَچوری بنانے والی مشین کو یاد کیا جو صرف رمضان میں نکلتی تھی۔تو قریب ہی بیٹھا شربت والا جگ کہنے لگا ارے بھئ ہمیں کوئ یہ تو بتاۓ کہ آنے والے مہینے میں درجہ حرارت کتنا رہے گا کہ میں امید رکھوں کہ میرا کوئ دوست آۓ گا کہ نہی یا پھر میں اکیلا ہی رہوں گا۔یہ سننا تھا کہ پاس موجود چمچے نے کہا تمھیں اپنا دوست اتنا کیوں یاد آرہا ہے ؟
اب تو جگ نے آہ بھری اور بولا تم کیا جانو دوست کی قدروقیمت !!!!کیونکہ تمھارے پاس تو ہمہ وقت تمھارے ساتھی موجود ہیں نا لیکن میں تو سال بھر ہی اکیلا رہتا ہوں۔لیکن اگر گرمی زیادہ ہو تو اسی مہینے میں مجھے اپنا ساتھی مل جاتا ہے اور پھر ہمارے اندر لال ،پیلے ،گلابی،جامنی رنگوں کے مزیدار سے شربت بھرے جاتے ہیں۔اور انھیں پیتے ہوۓ ہماری اہمیت ان انسانوں پر واضع ہوتی ہے خصوصا افطار پارٹیوں میں ہم تو بادشاہ بنے ہوتے ہیں۔

اور اب چاۓ کی کیتلی صاحبہ کہنے لگی تھیں تم اپنی اہمیت بتانے کے لۓ درجہ حرارت کے محتاج ہو جبکہ میں تو “سدا بہار”ہوں چاہے یہ درجہ حرارت پچیس ہو یا یہ چالیس پر پہنچ جاۓ افطار کے بعد تو میری طرف دوڑا جاتا ہے اور یہ کہتے ہی خود بھی دوڑنے کی کوشش کی تو اپنا ڈھکنا ہی گرا دیا ۔اور جلدی سے اسے سب نے پکڑنے کو کوشش کی کہ کہیں بھاگنا ہی شروع نہ کر دے کہ قریب میں موجود چھوٹی پیالیوں نے کہ کوئ ہماری مالکن کو یاد دلا دے کہ اب ہم تعداد میں کم رہ گئ ہیں اور ہمیں بھی دوسروں کے کام آنا ہے اور مالکن جو کہ وہیں کھڑی تھی۔سوچنے لگی کہ اس رمضان المبارک کی برکتوں تو رحمتوں میں یہ تمام برتن بہ رضا و خوشی ہم انسانوں کی خدمت کرنے کے لۓ تیار ہیں تو وہ بھی اپنوں کے لۓ سحری و افطاری کا اہتمام خوشی خوشی کیا کرے گی کہ ہاں اس رمضان میں ان نیکیوں کا ثواب بھی تو ستر گنا زیادہ تک پہنچ جاتا ہے۔اور جھنجلاہٹ و غصہ سے کام کر کے وہ بھلا اپنے اجر کو کیوں کم کرے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */