زندگی بہت بے یقینی ہے - تانیہ شہزاد

موت زندگی کی اٹل حقیقت ہے۔اس سے کسی کو مفر نہیں۔مگر یہ بھی حق ہے کہ انسان کا نفس اسے تمام عمر اسی مغالطے میں رکھتا ہے کہ اس کے پاس تو ابھی بہت وقت ہے۔ہم اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جاننے والوں کو اس دنیا سے رخصت ہوتا ہوا دیکھتے ہیں,دوسروں کی موت کی خبریں سنتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی ہمارا نفس ہمیں اپنی موت کی فکر کرنے نہیں دیتا بلکہ کسی بھی طرح ہمیں یہ یقین دلائے رکھتا ہے کہ ہمارے پاس ابھی وقت ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی تو ہم نے کچھ دیکھا ہی نہیں,ابھی کچھ کیا ہی نہیں, ابھی ہمارے پاس عمر پڑی ہے۔لیکن یہ تو ہماری سوچ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں جب ہم اپنی زندگی جی لیں گے,جب اپنے تمام کاموں سے فارغ ہو کر بڑھاپے میں پہنچ جائیں گے تب ہم موت کے قریب ہوں گے اور تب ہی ہم موت کی تیاری بھی کر لیں گے۔مگر ایسا نہیں ہوتا۔موت کا تو ایک وقت مقرر ہے اللّٰہ پاک کی طرف سے اور وہ اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔

موت کسی بوڑھے,جوان یا بچے کو نہیں دیکھتی۔موت یہ بھی نہیں دیکھتی کہ اس انسان کے پاس تو ابھی کرنے کے لیے بہت سے کام ہیں,اس کی تو بہت سی ذمہ داریاں باقی ہیں۔جب انسان کا وقت پورا ہو جاتا ہے پھر بس وہ رخصت ہو جاتا ہے اس دنیا سے۔موت کو کسی بہانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔اچھے خاصے چلتے پھرتے,صحت مند انسان ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے قبروں میں اتار دیے جاتے ہیں اور پھر کبھی بھی ہمیں ان کی ایک جھلک تک نصیب نہیں ہوتی۔چاہے وہ کتنے ہی جوان,خوبصورت کیوں نا ہوں۔چاہے ان کے پیچھے ان کی کتنی ہی ذمہ داریاں کیوں نا ہوں۔چاہے وہ ہمیں کتنے ہی عزیز ہوں,ہمیں اپنی زندگی میں ان کی ضرورت ہو۔اس سب کے باوجود وہ اپنے مقررہ وقت پر سب کو حیران و پریشان چھوڑ کر اپنے سفر پر نکل جاتے ہیں۔پیچھے والے ان کا غم مناتے رہ جاتے ہیں۔جیسا کہ اللّٰہ پاک قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ہر نفس نے موت کا مزا چکھنا ہے(آل عمران 185)۔درحقیقت زندگی بہت بے یقینی ہے۔انسان کے ایک پل کا بھروسہ نہیں۔ایک انسان ایک پل موجود ہے تو ممکن ہے اگلے ہی پل اس کی سانسیں اکھڑ جائیں,اس کی زندگی کی ڈور کٹ جائے اور وہ ہمارے ہی ہاتھوں سے منوں مٹی تلے دفن ہو جائے۔جب موت کا وقت آجاتا ہے تو ایک پل کی بھی دیر نہیں ہوتی۔نہ ہی کوئی اپنے وقت سے پہلے جا سکتا ہے۔مرنے والے کو خبر تک نہیں ہوتی کہ اس نے مر جانا ہے۔نہ ہی مرنے والے کے اردگرد والوں کو خبر ہوتی ہے۔موت کسی کو مہلت نہیں دیتی۔

ایک اللّٰہ پاک کا بہت بڑا کرم انسان پر یہ ہے کہ ہم اپنے سامنے زندگی کو موت میں بدلتا دیکھتے ہیں,موت پر کامل ایمان رکھتے ہیں,مگر اس کے باوجود ہم پر ہر وقت موت کا خوف مسلط نہیں رہتا۔اگر ایسا ہو کہ ہم ہر وقت موت کے خوف کے ساتھ جیئیں تو ہم اپنی زندگی کا ہر لمحہ بہت بے یقینی کی کیفیت میں گزاریں گے۔اس طرح ہم اپنے روزمرہ کے معمولات بھی احسن طریقے سے سر انجام نہیں دے پائیں گے اور نہ ہی آج میں رہتے ہوئے کسی ایسے کام کی تیاری کر پائیں گے جو ہونا تو کل ہے مگر اس کی تیاری آج ہی لازم ہے۔تو اس طرح یہ بھی اللّٰہ پاک کا احسان عظیم ہے کہ ہم موت کو اتنا قریب سے دیکھنے کے باوجود ہر پل موت کے خوف کے ساتھ نہیں جیتے ورنہ ہم سب ہی نفسیاتی مریض بن جائیں۔ہم سب اسی امید کے ساتھ جیتے ہیں کہ اگلے پل,اگلے دن ہم نے زندہ رہنا ہے۔تب ہی ہم اگلے دن ہونے والے کاموں کو ترتیب دیتے ہیں اور احسن طریقے سے سر انجام بھی دیتے ہیں۔یہ جینے کی امید ہی ہمیں خوشی,سکون اور اطمینان نصیب کرتی ہے اور ہمیں ہماری معمول کی زندگی جینے میں مدد دیتی ہے۔مگر اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ موت کو یکسر ہی فراموش کر دیں اور اسی زعم میں جیے جائیں کہ جیسے ہمیں تو مرنا ہی نہیں۔موت تو بحرحال آنی ہی ہے۔کوئی پہلے چلا جاتا ہے تو کوئی بعد میں اور بحثیت مسلمان ہمارا اس بات پر کامل یقین ہے کہ موت کے بعد بھی ایک زندگی ہے اور وہی زندگی دائمی ہے۔اس دنیا کی زندگی تو محض چند روزہ ہے۔

اللّٰہ پاک نے قرآن مجید میں خود ارشاد فرمایا ہے:ہر چیز فنا ہونے والی ہے (سورۃ رحمن 26)۔ا س بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا کی رونقیں اور رنگینیاں ایسی ہیں کہ خود میں مگن کر لیتی ہیں مگر موت کی تلخیاں بھی ایسی ہیں کہ اس کو فراموش کرنا بھی آسان نہیں۔بہت ضروری ہے کہ ہم سب اپنی موت کو یاد رکھیں اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری کریں تاکہ ہماری وہ دائمی زندگی پرسکون ہو۔ایسی زندگی جیئیں کہ ہر وقت مرنے کے لیے تیار ہوں,چاہے موت ہمیں مہلت دے نہ دے ہمیں جب موت آئے تو ایمان کی حالت میں آئے,کم از کم کچھ تو ہو ہمارے پاس ایسا جس کی امید پر بروز قیامت سرخرو ہو سکیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */