حق دو کراچی کو‎ - شہلا ارسلان

کراچی جو کہ تین کروڑ کی آبادی ہر مشتمل یے -اس کی اس گنتی کو غاصبانہ طور پر کم کر کے اس کی اہمیت کو ختم کرنے کی سازش کی جاریی ہے ،یہاں کے سارے اداروں کا برا حال کردیا ان کو کمزور کرا جا رہا ہے،اسٹیل مل سے لے کر پی آئ اے تک کو لگ رہا ہے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے-

بانی پاکستان نے کراچی کو دارالخلافہ بنایا پر اس کی یہ اہمیت کچھ لوگوں کھٹکی اور دارالخلافہ اسلام آباد کو بنادیا گیا،آج جب پی آئ اے کا ہیڈآفس اسلام آباد شفٹ ہوگیا ایسا لگا کراچی کو دوبارہ ہلاک کر دیا گیا ،سمجھ نہیں آتا ہماری سندھ اسمبلی میں لوگ افین پی کر سو رہے ہوتے جن کو یہ نا انصافیاں نظر نہیں آتی غیر ضروری باتوں پر بحث و مباحثہ کرالیں ان وزراء سے ،عوام کے اندر اپنے حقوق کا احساس دلانا بہت ضروری ہے،وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کی ایک وجہ مہنگائ اور دوسری وجہ تعلیم کی کمی ان کو اچھے برے کا شعور ہی نہیں ھے -کراچی کو حق دلانے کے لیے جماعت اسلامی کی کوشش لاجواب ہیں اس سلسلے میں جگہ جگہ پروگرامیز ہو رہے ،پیڈیسٹر پر بینل لگے وے ہیں-ایک بڑی تعداد یہاں سے گزرتے ہوئے ان کو پڑھتی بھی ہوگی لیکن کراچی کی عوام عقل سے کام نہیں لیتی-

آج سے چالیس پینتالیس سال پہلے کراچی کی عوام اتنی طاقتور تھی کہ حکومتیں یہاں سے گرتی تھی لالو کھیت اور کراچی یونی ورسٹی کراچی کی مضبوطی کا نیشاں تھے لیکن ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مہاجریت کا نعرہ لگا اور کراچی ڈوبنے لگآ-یہ بات تو سب کو پتہ ہے کہ پیچھتر فیصد ٹیکس کراچی دیتا ھے بدلے میں اس کو بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا گیا ہے ،کراچی کی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کی جنگ جیتنے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ورنہ اس بات کو سمجھ لیں کہ "خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو نہ ہو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا"

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */