محترم وزیراعظم،اپنا انداز حکمرانی بدلیں ۔ پروفیسر جمیل چودھری

محترم وزیراعظم صاحب آپ کرونا سے چند دن میںٹھیک ہوجائیں گے۔دوا کے ساتھ پاکستان کے لوگوں کی دعائیں بھی آپ کے ساتھ ہیں۔آپ کو دی گئی مدت تیزی سے کم ہورہی ہے۔2023ء جس میں جنرل الیکشن ہونگے آیا ہی چاہتا ہے۔جتنا عرصہ گزرگیا ہے۔اس میں آپ نے اسلام آباد میں بیٹھ کربے شمار تقاریر کیں ہیں۔ان کی اگرگنتی کی جائے تو سینکٹروں پرمشتمل ہونگی۔اب آپ یہ کام بالکل ترک کردیں۔ان تقاریر کے الفاظ بھی اب قوم کویاد ہوگئے ہیں۔تقاریر میں این آراو کرپشن اورمیں نہیں چھوڑونگا جیسے الفاظ استعمال ہوتے رہے ہیں۔کیاصرف یہ الفاظ آپ کو آنے والے الیکشن میں کوئی فائدہ دیں گے۔ہرکوئی جانتا ہے کہ اگلے انتخاب میں لوگ5سالہ کارکردگی دیکھیں گے۔مہمند ڈیم کاشروع ہونااچھاکام ہے۔احساس پروگرام کے تحت "صحت کارڈ" کی تیاری اورتقسیم اسے ہرکوئی سراہتا ہے۔لنگرخانے اورپناہ گاہیں اگرملک کو درپیش بڑے مسائل کومدنظر رکھ کردیکھا جائے تو یہ انتہائی معمولی باتیں ہیں۔

کرپشن کے خاتمے کے لئے پکٹر دھکٹر ہوتی تو ہرکوئی دیکھ رہا ہے۔لیکن لوٹی ہوئی دولت جوباہر چلی گئی اس کابڑا حصہ واپس قومی خزانے میں جمع ہوتا نظر نہیں آتا۔پانامہ میں نام تو500سے بھی زیادہ تھے۔لیکن پکٹردھکٹر صرف سیاسی مخالفین کی ہی نظر آرہی ہے۔صحیح لوٹ مار کرنے والوں کااحتساب بڑے پیمانے پرہوتا نظر نہیں آتا۔ہرمشکل مسٔلہ کاملبہ سابق حکومت پرڈال دینا،عوام اس سے مطمٔن نہیں ہوتے۔اب آپ کے پاس بہت تھوڑا وقت ہے۔میراآپ کومشورہ ہے کہ آپ تقاریر کرناترک کردیں۔لوگوں کو درپیش مسائل اوربے روزگاری کی طرف توجہ دیں۔2018ء میں بے روزگاری کی شرح کافی کم تھی۔اس شرح کے مطابق جب لیبرفورس کودیکھا جاتا تھا توصرف35لاکھ لوگ بے روزگار شمارہوتے تھے۔اعدادوشمار ترتیب دینے والوں نے اگرغلطی بھی کی ہوگی تو آپ بے روزگاروں کی تعداد40لاکھ کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔جناب وزیراعظم اب بے روزگاروں کی تعداد بڑھ کر سواکروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔یہ گنتی سرکاری اورپرائیویٹ دونوں طرح کے ادارے نے لگائی ہے۔اس میں گزشتہ2.1/2سالوں میں آپ کی حکومت کی ناکام پالیسیاں اورکرونا وائرس کی وجوہات دونوں شامل ہیں۔آپ نے خود یہ تسلیم کیاکہ آپ کو ملک کودرپیش صحیح مسائل کا ادراک حکومت میں آنے کے ایک سال بعد ہوا۔شروع میں آپ کو صحیح بات بتانے والا کوئی نہ کوئی وزیراورنہ کوئی مشیر تھا۔آپ کی ٹیم میں بھانت بھانت کے لوگ شامل تھے۔اب بھی تحریک انصاف کے علاوہ باہرکے لوگ زیادہ نظر آتے ہیں۔

ان میں کوئی یکسوئی نہیں ہے۔مہنگائی کی باتیں تمام لوگ کرتے رہتے ہیں۔اس کے حل کاطریقہ آپ کو تقریر یں چھوڑنے سے ہی معلوم ہوسکتاہے۔آپ پورے ملک کے کاروباری ،زرعی اورتعلیمی اداروں کے وزٹ کاپروگرام بنائیں۔جہاں کوئی ادارہ،محکمہ اورشعبہ عملاً واقع ہے۔وہاں پہنچیں۔متعلقہ وزیر اورآفیسر تو آپ کے ساتھ ہونگے ہی۔مثلاًآپ چاروں صوبوں کے دوردراز گاؤں میں پہنچیں۔اس کام کے لئے ہیلی کاپٹر تو استعمال ہوناہی ہے۔جس گاؤں میں جانا ہو اس علاقے اورضلع کے متعلقہ آفیسر کو پہلے اطلاع ہو۔اردگرد کے کاشتکاروں کوبھی بلایا جائے۔آپ کاشتکاروں کودرپیش مسائل کوبلاواسطہ سنیں اوروہیں مسٔلہ کا حل نکالیں۔موجودوزیر اورباقی عملہ کو مسٔلہ حل کرنے کاحکم فوری دیں۔ زراعت ہمارا سب سے اہم شعبہ ہے۔ہماری چھوٹی بڑی صنعتیں بھی اسی زراعت پرکھڑی ہیں۔یہاں صرف ان لوگوں کوبلایا جائے جو واقعی کاشتکار ہیں۔سیاسی پارٹیوں کے نمائندے یہاں نہ آئیں۔کھاد،بیج،زرعی فصلوں کی قیمت اوردوسرے مسائل آپ سنیں اورموجودآفیسرز کوموقع پرمسٗلہ حل کرنے کاحکم دیں۔اس طرح کے وزٹ ہرصوبے میں رکھے جائیں۔اگرہرصوبے میں2۔دفعہ جایاجائے تو8وزٹ زراعت کے شعبہ کودستیاب ہونگے۔آپ کو دیہاتی کاشتکار اپنے سامنے موجود پاکر بہت خوش ہونگے۔زراعت کے مسائل تیزی سے حل ہونگے۔پھل اگانے والے اورلائیوسٹاک کاکام کرنے والے بھی ان اجتماعات میں موجود ہونگے۔آپ زراعت اورمتعلقہ شعبوں کی بلاواسطہ معلومات حاصل کرسکیں گے۔

یہ میں ایک آرٹیکل میں پہلے بتاچکاہوں کہ کھیتوں اورباغوں سے پیداواریں سیدھی سستے بازاروں میں جائیں۔ان اشیاء کی مہنگائی کامسٔلہ کافی حد تک حل ہوجائے گا۔اس طرح ہمارے ملک میں چھوٹی چھوٹی صنعتیں اورکاروبار پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔کسی چھوٹی صنعت میں آپ اطلاع دیکر پہنچیں۔اردگرد کے چھوٹے صنعتکار اورکاروباری بھی وہاں موجود ہوں۔ان کے مسائل آپ اپنے وزیروں اورآفیسرز کے سامنے سنیں اورانکے حل نکالیں۔احکامات موقع پرہی دیتے جائیں۔چھوٹے کاروباری اورصنعتکار آپ کو بجلی کے نرخ اورگیس کے نرخ کاذکر کریں گے۔اوربھی کئی مسائل کاذکرہوگا۔ان لوگوں کے لئے ہرممکن سہولت کااعلان موقع پرہی کیاجائے۔ایک تحقیق کے مطابق اب ہمارا ملک Small industry & businessکاملک کہلاتا ہے۔اسی شعبے سے لوگ اپنی روٹی روزی کماتے ہیں۔آپ اسلام آباد سیکرٹریٹ میں بیٹھ کر ان مسائل سے ناواقف ہوسکتے ہیں۔اورنہ ہی ان کے حل نکال سکتے ہیں۔ہرصوبے میں ایسے کاروباری افراد کوبلاواسطہ جاننے اوردیکھنے کے لئے2۔وزٹس ضرور کئے جائیں۔جب آپ ان کاروباروں کو سہولتیں دیں گے تو یہ بڑھیں گے اورپھیلیں گے۔اس طرح یہاں نئے روزگار کے مواقع پیداہونگے۔جناب وزیراعظم صاحب مجھے یاد نہیں پڑتا کہ آپ نے کبھی کسی سکول،کالج اوریونیورسٹی کادورہ کیا ہو۔حتیٰ کہ اسلام آباد کے سکولوں اورکالجوں میں آپ کوکبھی نہیں دیکھاگیا۔ہم تعلیم میں ایشیاء اورافریقہ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔سرکاری ادارے ہماری شرح خواندگی صرف59۔فیصد بتاتے ہیں۔اگرشرح خواندگی پر مڈل یامیٹرک پاس کی شرط لگادی جائے تویہ بہت نیچے آجاتی ہے۔عمومی طورپر یونیورسٹیوں میں تحقیق اورتخلیق نام کی کوئی شے نہیں ہے۔اس طرف آپ کی توجہ کی اشد ضرورت ہے۔

چاروں صوبوں کے سکولوں،کالجوں اوریونیورسٹیوں کے وزٹ کاپروگرام بناناضروری ہے۔کرونا کی وجہ سے آجکل ادارے کیمپس بھی کام نہیں کررہے لیکن چند دنوں بعد یہ ادارے کھل جائیں گے۔ان اداروں میں آپ اچانک بھی پہنچ سکتے ہیں اورعلاقے میں موجود آفیسرز کواطلاع دیکر بھی۔یہاں وزٹ کرکے آپ کو اپنے ملک کی تعلیم کے معیار کاپتہ چلے گا۔اساتذہ اورطلباء دونوں کی باتیں سنی جائیں اورتعلیم جیسے اہم اوربنیادی شعبہ کے مسائل سے آپ بلاواسطہ متعارف ہوجائیں گے۔سیکرٹریوںاور کمشنرز کی ترتیب شدہ رپورٹس کوچھوڑ دیں۔اورتعلیمی اداروں کے آپ خود وزٹ کریں۔اداروں کے وزٹ چاروں صوبوں اورپانچویں مجوزہ صوبے گلگت بلتستان میں جانا ضروری ہے۔پرائیویٹ اورسرکاری ادارے دونوں کووقت دیں۔ہم اب تک تعلیم پرمجموعی طورپر اپنی قومی آمدنی کاصرف اورصرف2۔فیصد صرف کررہے ہیں۔صوبوں کوتوجہ دلائیں کہ اپنے بجٹ کاسب سے بڑاحصہ صرف تعلیم پرلگایاجائے۔یوں چند سالوں میں ہم جاہلیت کے اندھیروں سے نکل کرتعلیمی روشنی میں دیکھنے کے قابل ہوسکیں گے۔روائتی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیم بالغاں کے پروگرام بنانا بھی ضروری ہے۔21۔ویں صدی کے21سال گزرنے جارہے ہیں۔ہم اس شعبے میں کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔یہ جو انعامات کی قومی تقریبات ہوتی ہیں۔ان میں کسی پرائمری سکول،کالج اوریونیورسٹی کے استاد کو بھی نظر آنا چاہئے۔یونیورسٹیوں اورکالجوں میں چند استاد تحقیق اورتخلیق میں کام کرتے نظر آتے ہیں۔لیکن قومی سطح پر ایسے اساتذہ کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہے۔جب آپ تعلیمی اداروں میں خود جائیں گے توآپ کو اوربھی کئی مسائل کاپتہ چلے گا۔برائے مہربانی اسلام آباد کوچھوڑ کرفیلڈ میں آئیں ۔مسائل جانیں اورموقع پر انکے حل نکالیں۔لوگوں کے دلوں میں آپ اسی وقت جگہ بناسکتے ہیں۔جب آپ ان کی دہلیز پرخود جاکرمسائل معلوم کریں۔بڑی صنعت اب کچھ بہتر کام کررہی ہے۔

ان لوگوں سے ملنا بھی ضروری ہے۔تاکہ یہ لوگ برآمدات بڑھاسکیں۔کراچی اورفیصل آباد جاکرصنعتکاروں کو ملنا ضروری ہے۔ان ملاقاتوں میں نئی صنعتیں قائم کرنے کے بارے بھی پلان بنائے جاسکتے ہیں۔صحت کے مراکز جودوردراز علاقوں میں واقع ہیں۔یاشہروں میں واقع ہیں انکے وزٹ بھی انتہائی ضروری ہیں۔یہاں کیا سہولتیں موجود ہیں اورکیانہیں ہیں۔ان تمام کاموں کی طرف آپ کی توجہ دلانے کامقصد یہ ہے کہ ہمارے شعبوں کے مسائل کا آپ بلاواسطہ مطالعہ کرسکیں اورموقع پر ہی ان کے حل نکالے جاسکیں۔اور بھی ملک کے بے شمار ادارے ہیں جہاں آپ کا جاناضروری ہے۔اسلام آباد میں بیٹھ کروزیروں اور سکیرٹریوں سے کام لینا اوربات ہے۔خود اہم شعبوں اورمقامات پرجاکر مسائل معلوم کرنا بالکل مختلف ہے۔آپ جس مدینہ کی ریاست کاباربار حوالہ دیتے ہیں۔وہاں امیرالمومنین خود لوگوں کے پاس پہنچتے تھے اور ضرورتیں پوری کرتے تھے۔آپ لکھی ہوئی رپوٹوں کوچھوڑ کر یہ بلاواسطہ طریقہ اپنائیں گے تو اس کے بے شمار مثبت نتائج نکلیں گے۔اس طرح روزگار کے بھی نئے مواقع پیداہونگے۔اس وقت حکومت وقت کے لئے جس کے پاس صرف2.1/2سال سے بھی کم کاعرصہ رہ گیا ہے۔آپ دوردراز علاقوں کے جب وزٹ کریں گے تولوگ انہیں بھولیں گے نہیں۔یہ آپ کی اصل کارکردگی شمارہوگی۔اگلے الیکشن میں یہی کارکردگی آپ کے کام آئیگی۔آپ سے مودبانہ عرض ہے کہ اسلام آباد سے باہرنکلیں ۔گاؤں ،چھوٹے شہر اورقصبات میں جائیں۔لوگ وہاں آپ کودیکھ کرانتہائی خوش ہونگے۔جب انکے مسائل موقع پرہی حل ہونگے توانکی خوشی کاٹھکانہ ہی نہ ہوگا۔جناب وزیراعظم میری تجاویز پر عمل کرکے دیکھیں۔آپ کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے سیکرٹری اورمشیر جوایجنڈا آپ کو بناکردیتے ہیں۔یہ بابوؤں کی باتیں ہیں۔

جن لوگوں کومسائل درپیش ہیں ان کوخود جاکرملنا اور حل انہیں انکے گھرجاکر دینا بہت ہی ماثر اورکارگر حکمت عملی ہے۔اﷲ آپ کو جلد از جلد صحت یاب کرے اورملک کے لوگوں کوملنا نصیب کرے۔جب آپ دیہاتوں میں جائیں تو وہاں سیاسی تقاریر نہ کریں۔لوگ یہ باتیں سن کرتھک چکے ہیں۔بس آپ موقع پر کاشتکاروں ،کاروباری لوگوں ،اساتذہ اور طلباء کے مسائل کریں۔مسائل جب حل ہونگے توکارکردگی خود ہی بولے گی۔یہ الفاظ نہ کہیں کہ یہ مسٔلہ حل ہوجائے گا۔بلکہ لوگوں کے مسائل موقع پرحل ہوتے نظر آئیں۔مستقبل کے وعدے تو سیاستدان لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے کرتے ہیں۔وعدوں کی بجائے حل سامنے ہوتا نظر آئے۔میری باتیں آپ کے مشیروں اوروزیروں سے مختلف ہیں۔لیکن پاکستان کودرپیش مسائل بلاواسطہ حکمت عملی سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔یہی آپ کی کارکردگی آپ کو2023ء کے جنرل الیکشن میں کام آئے گی۔وہاں این ۔آر۔کرپشن اورمیں انہیں نہیں چھوڑوں گا جیسے الفاظ آپ کوکام نہیں دیں گے۔لوگ آپ کے 5سالہ دورمیں ہونے والے کام دیکھیں گے۔لوگ دیکھیں گے کہ اس 5سال میں انہیں کیافائدہ واقعی حاصل ہوا۔میں نے کوشش کی ہے کہ آپ کو درست حکمت عملی بتائی جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */