جموں سے روہنگیا مسلمانوں کی بے دخلی شروع، کیا ان کی جانیں قیمتی نہیں - رضوان سُلطان

جموں صوبے میں حکومت نے میانمار سے آئے روہنگیا مسلم پنا ہ گزینوں میں سے ۰۷۱ افراد کو ان کے پاس مکمل دستاویزات نہ ہونے کی بنیاد پر ہیرہ نگر جیل میں قید کر لیا ہے۔۶ مارچ کو ان پناہ گزینوں کو ویریفکیشن کے لئے جموں کے مولانا آزاد اسٹیڈیم میں جمع کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے ڈر سے ان کیمپوں سے کئی روہنگیا مسلمان جنگلوں میں رہنے کے لئے بھاگ گئے ہیں جبکہ کئی کنبوں نے اس جگہ کو ہی چھوڑ دیا ہے ۔ دراصل گزشتہ ماہ جموں کشمیر ہائی کورٹ نے جموں کشمیر انتظامیہ کو کہاتھا کہ اُس نے روہنگیا مسلمانوں کی شناخت کے لئے کون سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ اب ان گرفتار کئے گئے پناہ گزینوں کو حکومت واپس میانمار بھی بھیج سکتی ہے ۔

ان گرفتاریوں کے خلا ف کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے جبکہ کشمیر کے مقامی سیاسی لیڈران نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کہ انسانیت کی بنیاد پر روہنگیا مسلمانوں کو جمو ں میں رہنے کی اجازت دی جانی چاہےے۔ دہلی میں روہنگیا مسلمانوں نے گرفتاریوں کے خلاف احتجاج بھی کیا جس دوران ۰۷ افراد کو پولیس نے گرفتار کیا۔ ادھر دو روہنگیا پناہ گزینوں کی جانب سے رہائی کے لئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے ۔عرضی گزاروں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کا دفاع سینئر وکیل پرشانت بھوشن کر رہے ہیں ۔ عرضی میںمزید کہا گیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو بھارت میںقیام کی اجازت دی جائے کیوں کہ ان کا اس وقت میانمار واپس لوٹنا موزوں نہیںہے۔واضح رہے میانمار اس وقت فوج کے کنٹرول میں ہے اور برسر اقتدار والی جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کی رہنما آنگ سان سوچی اور دیگر لیڈرا ن کو جیل بھیج دیا گیا ہے ۔۷۱۰۲ءمیں میانمار فوج کی جانب سے رکھائن علاقے میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاﺅن میں ہزاروں مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا گیا اور آٹھ لاکھ کے قریب بنگلہ دیش اور دیگرملک بھاگ آئے ۔ سوچی کو ان مسلم کش فسادات پر خاموش رہنے پر کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑااور کچھ انہیں اس قتل عام کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔بنگلہ دیش سے ۰۴ ہزار کے قریب روہنگیا مسلمان بھارت آئے ۔ بعد تب کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ ستمبر ۷۱۰۲ئ میں جموں میں ایک بیان میں کہا تھا کہ روہنگیا پناہ گزین غیر قانونی مہاجر ہیں اور یہ نیشنل سیکورٹی کے لئے خطرہ ہیں۔

دوسرے وزیر کرن رجیجو نے ایک بیان میں کہا تھا ”سبھی ۰۴ ہزار روہنگیا مسلمانوں کو بے دخل کیا جائے گا، ان کے پاس یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے وہ سبھی غیر قانونی مہاجرین ہیں، یو این ایچ سی ا ٓر کے رجسٹریشن کی کوئی وقعت نہیں ،ہم اس کا حصہ نہیں ہیں“۔بھارت میں ۷۱ہزار کے قریب روہنگیا پناہ گزینوں کی رجسٹریشن اس مذکورہ تنظیم نےکی ہے ، تاہم بھارت اس رجسٹریشن کو بھی نہیں مانتا ہے ۔ اس یو این تنظیم کے بھارت میں موجود دفتر نے بیان میں اسکے جواب میں کہا تھا کہ” قانو ن کے حساب سے مہاجرین کو اس جگہ واپس نہ بھیجنا جہاں ان کو خطرہ لاحق ہو بین الاقوامی قانون کا حصہ ہے ۔یہ اصول کے تمام ممالک پابند ہیں اور وہ بھی جنہوں نے مہاجر کنونشن ۱۵۹۱ ءپر دستخط نہیں کئے ہیں “۔اس سے قبل اگست ۷۱۰۲ ءمیں مرکز نے روہنگیا مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لئے ریاستی حکومتوں کو ان کی شناخت کرنے کی ہدایت جاری کی تھی ۔ مرکز کے اس فیصلے کے خلاف دو روہنگیا مسلم پناہ گزینوں محمد سلیم اللہ اور محمد شاکر نے سپریم کورٹ میں سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے ذریعے سے عرضی جمع کرائی۔ جبکہ اسکے بعد حکومت کی حمایت میں بھاجپا لیڈر اشونی کمار اپادھیائے ، آر ایس ایس کے کے این گوندآچاریہ کے علاوہ کئی افراد نے بھارتی عدالت عالیہ میںان روہنگیامسلمانوں اوربنگلہ دیش سے آئے مسلم پناہ گزینوں کی بے دخلی کے حق میں عرضیاں پیش کیں۔ مرکز نے روہنگیا مسلمانوں پر آئی ایس آئی اور داعش کے ساتھ روابط ہونے کے بھی الزامات لگائے ۔

اکتوبر ۷۱۰۲ءمیں ایک سنوائی کے دوران سپریم کورٹ نے مرکز سے کہا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلے کو نیشنل سیکورٹی کے بجائے انسانیت کی نظر سے دیکھا جائے ۔ کورٹ نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ ملک میں وہ مہاجرین سے نمٹنے کےلئے انسانی حقوق اور قومی سلامتی کے مابین توازن قائم کرے۔وہیں تب کے چیف جسٹس نے کہا کہ اب یہ مسئلہ کورٹ میں جاری ہے جب تک اس پر کوئی فیصلہ نہ ہو تب کسی کو بھی بے دخل نہ کیا جائے ۔جنوری ۰۲۰۲ءمیں بھارت میں اقوام متحدہ نمائندہ کی جانب سے مرکز کے فیصلے خلاف عرضی دائر کی گئی ۔ اقوام متحدہ ، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی مذمت کے بعد مرکز نے روہنگیا مسلمانوں کی بے دخلی پر روک لگا دی ۔دوسری طرف سے کئی سوال یہ بھی کھڑا کر رہے ہیں کہ آخر روہنگیا مسلمانوں کی وریفکیشن ہی کیوں کی جا رہی ہے ۔کانگریس یوتھ لیڈر سلمان نظامی نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ” جموں میں۰۹۶۷ تبتی اور۵ہزار ۷سوروہنگیا پناہ گزیں رہ رہے ہیں۔آخر روہنگیا مسلمانوں کی ویریفکیشن ہی کیوں ہو رہی ہے ، اسلئے کہ وہ مسلمان ہیں؟“۔ اعدادو شمار کے مطابق جموں صوبے کے مختلف اضلاع میں اس وقت ۵ ہزار ۰۰۷ روہنگیا مسلمان اور ۰۰۰۷ سے زائد تبتی بودھ پنا ہ گزین رہ رہے ہیں۔ پورے بھارت میں اسوقت چالیس ہزار کے قریب روہنگیا پنا ہ گزین رہ رہے۔ جن میں سے ۰۰۳ کے قریب بھارت کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ بھارت نے اکتوبر ۸۱۰۲ءمیں ۷روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس میانماربھیج دیا ہے ۔ یہ پناہ گزین ۲۱۰۲ءمیں میانمار سے آئے تھے اور تب آسام سرکار نے انہیں غیر قانوی داخلے کے بعد ۶ سال تک جیل میں قید رکھا تھا۔اسی طرح جنوری ۹۱۰۲ءمیں بھارتی حکومت نے دوسرے گروپ کو میانمار واپس بھیج دیا ۔ ایک ہی گھر کے پانچ افراد بھی آسام آئے تھے اور تب سے جیل میں قید تھے۔

جموں میں روہنگیا مسلمانوں پر خوف کا سایہ : جموں میں روہنگیا مسلمان۷۱۰۲ءسے ہی ہندو انتہا پسندوں کے عتاب کا نشانہ بنے ہیں ۔ جن میں شیو سینا، بجرنگ دل ، نیشنل پینتھرس پارٹی اور بھاجپا سب سے آگے ہیں ۔ ۷۱۰۲ءمیں ہی پیتھرس پارٹی نے جموں میں پوسٹر لگائے جن پر چسپاں تھا کہ ” جموںوالوں جھاگ جاﺅ، روہنگیا ، بنگلہ دیشیو جموں چھوڑو “۔نومر ۶۱۰۲ءمیں رات کے اندھیرے میں شدت پسندوں نے نروال علاقے میں ۰۰۱کے قریب جھگیوں کو آگ لگا دی جس دوران ۳ بچے اور ایک خاتون اس آگ میں جل کر اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔اسی طرح سے اپریل ۷۱۰۲ءاور فروری ۸۱۰۲ءمیں شدت پسند عناصر نے روہنگیا پناہ گزینوں کی درجنوں جھگیوں کو آگ کے حوالے کیا ۔ اپریل ۸۱۰۲ءمیں ہندو شدت پسند جماعتوں نے روہنگیا مسلمانوں کی بے دخلی کے لئے جموں بند کی کال دی ۔جن میںشیو سینا، پینتھرس پارٹی ، جموں پروینس پیپلز فورم اور ہندو ڈگر پردیش پارٹی نے جموں میں احتجاج مظاہرے کئے ۔بھارت میں رہ رہے روہنگیا مسلمانو ںمیں سے صرف ۷۱ ہزار ے پاس اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے شناختی کارڈہیں۔ تاہم یہ کارڈ بھی ان پنا ہ گزینوں کو کوئی خاص راحت نہیں دے پاتا کیوں کہ بھارت یو این ایچ سی آر ۱۵۹۱ کا حصہ نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ نگارمانتے ہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کو ووٹ لے لئے بھی استعما ل کیا جاتا ہے۔۹۱۰۲ءلوک سبھاچناﺅسے قبل بھاجپا نے یہ مسئلہ چھیڑا تھا اور اب مغربی بنگال کے چناﺅسے قبل بھی یہ مسئلہ اٹھا یاگیا ہے۔

ادھرنئے شہری ترمیمی قانون کے مطابق بھارت میں غیرقانونی طور رہنے والے ہندو ، سکھ ، پارسی ، بودھ اور عیسائی جو پاکستان ، بنگلہ دیش یا افغانستان سے بھارت آئے ہیں ان پناہ گزینوں کو چھ سا ل مکمل کرنے کے بعد شہریت دی جائے گی۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر جتنیدر سنگھ نے جنوری میں ایک بیان میں کہا کہ اب روہنگیا مسلمانوں کو بے دخل کیاجائے گا کیوں کہ اب وہ اس قانون کے تحت شہریت حاصل نہیں کر سکتے۔ بھاجپا کا بھارت کو ہندو راشٹرا بنانے کے مقصد کو دیکھتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کو یہاں شہریت حاصل کرنا ناممکن ہے ۔ اقوام متحدہ ہائی کمشنرز برائے مہاجرین کی ستمبر ۴۱۰۲ءمیں شائع رپورٹ کے مطابق بھارت میں کئی ممالک کے ۲لاکھ کے قریب پنا ہ گزین کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں۔جن میں ایک لاکھ ۹ ہزار تبتی بودھ ، ۶۶ ہزار سریلنکن تامل ہندو،۰۱ ہزار افغان مہاجر ین کے علاوہ صومالیہ ، روہنگیا اور شا م کے پنا ہ گزین رہائش پذیر ہیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */