ایک نیا سورج - محمد فیصل

دریائے جمنا کے نزدیک واقع لال قلعہ اس سنہری دورکی یاد دلاتا ہے جب بر صغیر پر مسلمانوں کی حکمرانی تھی۔شاہجہاں کی یہ یادگار آج بھی مسلمانوں کے دل میں بستی ہے۔ اسی لال قلعے پر لہراتا بھارتی ترنگا آج اس بات کا اعلان کرتا ہے وقت بہت آگے نکل گیا ہے۔اس کا اب شاہجہاں،اورنگزیب اور بہادر شاہ ظفر سے کوئی تعلق نہیں۔یہ اب نفرت کے پرچارک مودی اور امیت شاہ کی چانکیائی سیاست کے زیر نگیں ہے۔ مغل مثالی حکمران نہیں ہوں گے لیکن نفرت کے داعی بھی نہ تھے۔ان کے دورمیں مندر کی گھنٹیاں بجتی تھیں تو شاہی دربار کو گراں نہیں گذرتی تھیں لیکن اب لال قلعے کے حاکم وہ لوگ ہیں جن کو اذان کی آواز بھی چبھتی ہے۔کل کے ہندوسان کے حاکم آج کے ہندوستان میں اقلیت ہیں۔ وہ لال قلعے کے سامنے سے گذرتے ہوئے شاید اس خوف سے سر بھی نہ اٹھاتے ہوں کہ وہاں لہراتا ہوا ترنگا ان کا منہ چڑا رہا ہوگا۔

راشٹریہ سیوک سنگھ کے بطن سے جنم لینے والی بھارتیہ جنتا پارٹی آج بھارت کی حکمران جماعت ہے۔ اس جماعت کے نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ بھارت کو سیکولر سے ہندوتوا ریاست میں تبدیل کرنا ان کی منزل ہے۔ مودی کا بھارت کسی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مسلمانوں سے تو خیز اذلی دشمنی ہے ہی لیکن ان کو اب سکھ اور کرسچن بھی ایک نظر نہیں بھاتے ہیں۔ رہ گئے نچلی ذات کے ہندو تو وہ کل بھی اچھوت تھے اور آج بھی اچھوت ہیں۔ مذہبی کارڈ کا استعمال کرکے نریندر مودی بھارت کو جس طرف لے کر جارہا ہے اس سے زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت وہاں کی اقلیتوں کو نہیں بلکہ ہوش مند ہندٶں کو ہے۔ان کو اس وقت ہی سوچ لینا چاہیے تھا جب گجرات کے قسائی کو دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوری ملک کا حاکم نامزد کیا جارہا تھا۔ نفرت انگیز ایجنڈے پر گامزن مودی سرکار لاشعوری طور پر بھارت کو تقسیم در تقسیم کی طرف لے کر جارہی ہے۔بھارت کے لبرل جمہوریت پسند طبقے کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ مودی کی مذہبی جنونیت ان کے ملک کی ایک ارب سے زائد آبادی کے لیے ایک ایسی سلگتی چنگاری ہے جو کسی بھی وقت بھڑک کر پورے نشیمن کو جلاسکتی ہے۔

بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لوگ گائے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ بھارتی مسلمان کسی گائے کو دیکھ کر اپنی نظریں پھیر لیتا ہے کیونکہ اس کا قرب اسے موت کی وادی تک پہنچا سکتا ہے۔ اس گھٹن زدہ بھارتی معاشرے میں کسانوں کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک پسے ہوئے طبقات کے لیے امید کی کرن کے طور پر نظر آرہی ہے ۔ مودی سرکار کے زرعی قوانین کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے بھارتی کسانوں کے سرخیل اس وقت بھارتی پنجاب کے سکھ بنے ہوئے ہیں۔ یہ وہی سکھ ہیں جن کو آج بھی گولڈن ٹیمپل نہیں بھولتا ہے۔ آج ان بھارتی سکھوں کو یاد آرہا ہے کہ تقسیم کے وقت ان کے بڑوں کے کیے گئے فیصلے شاید درست نہیں تھے اور شاید ان کو اب ایسا بھی لگتا ہے کہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کا کفارہ ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ آج بھارتی کرکٹر یوراج سنگھ کا والد یوگراج سنگھ جب کہتا ہے کہ یہ ہندو غدار ہیں تو اندازہ ہوجاتا ہے کہ بھارتی سکھ اس وقت کیا سوچ رہے ہیں۔نوجوت سنگھ سدھو کا اغیانہ لہجہ بھی کوئی اور کہانی سنارہا ہے۔بھارتی سکھ 70 برس قبل تو نہرو اورجناح میں فرق نہیں کرسکے لیکن انہوں نے اب یقینی طور پر مودی اور اس کی بی جے پی کو پہنچان لیان ہے۔

بھارت میں کسانوں کی تحریک کو شروع ہوئے 70 روز سے زائد ہوگئے ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ کی مداخلت کے باوجود یہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہاہے۔نریندر مودی نے جس نفرت کے قلعے پر کھڑے ہوکر بھارت کی تقسیم کی بنیاد ڈالی تھی ایسا لگتا ہے کہ کسانوں کی تحریک اس کے "انجام کا آغاز" ہے۔ بھارت کے یوم جمہوریہ پر نئی دلی میں جو کچھ ہوا اس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وقت بہت تیزی کے ساتھ مودی کے ہاتھوں سے نکلتا جارہا ہے۔ چانکیہ کا یہ چیلا اپنے جال میں خود پھنستا نظر آرہا ہے۔ دلی کو محاصرے میں لیے ہوئے بھارتی سکھ اس مرتبہ ماسٹرتارا سنگھ بننے کو تیار نظر نہیں آتے ہیں۔ بھارت کے یوم جمہوریہ کو اس مرتبہ سکھوں نے یادگار بنادیا ہے۔26 جنوری کو جمنا کے پانی نے بھی دیکھا ہوگا کہ لال قلعہ آج طویل عرصے بعد اپنی پوری قامت کے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ آج اس پر سے کسی نے ترنگا ہٹا کر خالصتان کا پرچم لہرادیا تھا اور وہیں کہیں دور سے گذرتے ہوئے کسی مسلمان نے جب ایک نظر قلعے پر ڈالی ہوگی تو اس کو ایسا لگا ہوگا کہ آج قلعے میں دوبارہ دربار لگا ہے ۔شاید وقت بدلنے والا ہے۔ گائے کا خوف جانے والا ہےاورایک نیا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */