جب کہہ دیا تو کہہ دیا - حبیب الرحمن

جمہوریت کی تعریف کو سامنے رکھا جائے تو اس میں بڑے واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ "طاقت" کا سر چشمہ عوام ہوا کرتے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت تو ہے لیکن طاقت کا چشمہ عوام نہیں "سر" ہیں۔ کیونکہ "سر" کا حکم ہے کہ ہمیں اگر کوئی "کچھ" کہے گا تو ہم بہت کچھ کہہ بھی سکتے ہیں اور کر بھی سکتے ہیں۔ ہمارے جو "سر" ہیں ان کا ہمسر صرف طاقت ہی میں کوئی نہیں بلکہ ان کی طلسماتی صلاحیتوں کا بھی کوئی ثانی نہیں۔ وہ جب چاہیں نظر آنے والی کسی بھی چیز کو آنکھوں سے اوجھل کر دیں اور جب چاہیں نہ دکھائی دینے والے کو "چھو" کر کے حاضر کر دیں اور ناظرین کو حیرت کے سمندر میں غوطے لگانے پر مجبور کردیں۔

ویسے تو پورے ملک میں ایک طویل عرصے سے یہ ہاہا کار مچی ہوئی ہے کہ موا ابھی تو گلیوں میں چل پھر رہا تھا، جانے دیکھتے ہی دیکھتے کدھر کو جا مرا۔ سوچا کچھ دیر بعد کہیں سے ہنستا مسکراتا آتا دکھائی دے ہی جائے گا لیکن برسوں بعد بھی کوئی اتہ پتہ نہ ملا تو تلاش کرنے والے تلاش کرتے کرتے اسلام آباد تک جا پہنچے۔ بات کچھ یوں ہے کہ ایک بزرگ گلی میں لگی اسٹریٹ لائٹ کی روشنی میں بہت دیر سے کچھ تلاش کر رہے تھے۔ یہ منظر دور کھڑا ایک نو جوان بھی دیکھ رہا تھا۔ کافی دیر بعد نوجوان بزرگوار کے قریب آیا اور پوچھا کہ حضرت کیا تلاش کر رہے ہیں۔ کہنے لگے سوئی گر گئی ہے اسے تلاش کر رہا ہوں۔ نوجوان بھی سوئی کی تلاش میں لگ گیا۔ کچھ دیر تلاش و جستجو میں ناکامی کے بعد نوجوان نے بزرگوار سے دریافت کیا کہ حضرت سوئی گری کہاں تھی، کہنے لگے کمرے میں۔ ایک مرتبہ تو نوجوان کو غصے کی وجہ سے چکر آ گئے پھر بھی ضبط سے کام لیتے ہوئے اس نے بزرگوار سے کہا کہ سوئی گری کمرے میں ہے اور آپ تلاش گلی میں کر رہے ہیں۔ فرمایا کہ گھر میں سخت اندھیرا ہے اب تم ہی بتاؤ کیا اندھیرے میں کوئی چیز مل سکتی ہے۔ بات یہی ہے کہ غائب ہوجانے والے باپ، بھائی، بیٹے اور شوہر غائب کرنے والے اسلام آباد والے تو نہیں ہیں جو آنے والی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کے حوالے کر سکیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جن کے قبضہ قدرت میں ہیں وہاں "ظلمات" کے ایسے کڑے پہرے ہوں کہ وہاں کسی کا چہرہ تو چہرہ، اپنے ہی ہاتھ سجھائی نہ دیتے ہوں تو ایسی جگہ کا رخ کیا بھی جائے تو کیسے اور کیوں۔

فرمایا جاتا ہے کہ ہم نے فلاں "آپریشن" فلاں سنہ میں شروع کیا تھا اور وہ نہایت کامیاب رہا۔ اب کسی میں ہمت ہے کہ وہ یہ پوچھ سکے کہ اس میجر آپریشن کے بعد مریض "ریکوری" سے نکال کر "آئی سی یو" میں کیوں ڈالا ہوا ہے۔ شمالی علاقوں میں کئے گئے سب آپریشن نہایت کامیاب رہے۔ کراچی کا تو کیا کہنا، ایسا کلین اور صاف ستھرا کر کے رکھ دیا ہے کہ سوائے کچروں کے ڈھیر کے کسی گلی کوچے میں نکل جائیں، کسی کو کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔ رہی بات ہر روز چوریاں، ڈاکا زنیاں، دس بارہ قتل، بینک لوٹنے کے واقعات، اغوا برائے تاوان اور مزاحمت پر کسی کو مار دیا جانا تو یہ سب تو زندگی اور زندہ دلی کی علامتیں ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ قبرستانوں میں کبھی کسی نے مردوں کو لڑتے دیکھا ہے۔کہتے ہیں کہ ہم نے اب تک جتنی بھی جراحیاں کی ہیں سب کی سب کامیاب رہی ہیں۔ اب کوئی یہ پوچھنے کی جرات کیسے کر سکتا ہے کہ صاحب ہر ایک جراحی کے اختتام پر دوسری جراہی کی ضرورت کیا کامیاب جراحت کی دلیل ہوا کرتی ہے۔ کراچی میں 1092 سے لیکر اب تک نام بدل بدل کر متعدد جراحیاں ہوتی رہی ہیں اور کچھ معلوم نہیں کہ درجن بھر کے بعد جب تیرہویں جراحی کا آغاز ہو تو باقی بارہ کی کامیابی کے بعد تیرہویں کا کیا نام دیا جائے گا۔ یہی حال شمالی علاقاجات کی جراحتوں کا ہے۔ ایک کی کامیابی کے اعلان کے ساتھ ڈاکٹروں کا ایک پورا پینل بیٹھ کر ایک جانب پہلی جراحی کی کامیابی کا اعلان کرنے کے فوراً بعد مریض کو آپریشن ٹھیٹر میں ایک اور "کامیاب" آپریشن کیلئے لے جاتا ہے۔ کیا کوئی بھی جراحت اس وقت تک کامیاب کہلا سکتی ہے جب تک مریض کو گھر نہ بھیج دیا جائے اور وہ اپنی معمول کی سر گرمیاں شروع نہ کر دے۔

سب سے زیاد فخر کے ساتھ جن جراحتوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ دو مقامات کی جراحی کا کیا جاتا ہے۔ ایک سوات کی اور ایک کراچی کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دونوں مریضوں کو ان کے لوحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے یا یہ دونوں ابھی تک آئی سی یو میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ بیشتر اوقات ان دونوں کو "وینٹی لیٹرز پر بھی دیکھا گیا ہے۔دنیا کے ہر ملک میں شہری نظام اس کے میئر یا شہر کی پولیس کی نگرانی میں ہی چلایا جاتا ہے۔ بہت ہی ہنگامی صورت حال میں فوج طلب کی جاتی ہے اور حالات کے معمول پر آجانے کے بعد دوبارہ سارا نظام پولیس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ کامیابی کے دعوے کرنے والوں سے یقیناً یہ سوال کرنا نہ تو خلاف قانون ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسے قابل تعزیر شمار کرنا چاہیے کہ اب تک جن جن علاقوں کی بھی کامیاب جراحی کی جا چکی ہے کیا وہ سب علاقے مقامی پولیس کے حوالے کر دیئے گئے ہیں؟۔ اگر نہیں تو پھر "جب ہم نے کہہ دیا تو کہہ دیا" مانے بغیر کوئی اور چارہ بھی نہیں کہ صاحب نے بالکل صاف صاف فرما دیا ہے کہ "جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں انگلیاں اٹھانے والوں کو جواب دیا جاتا ہے"۔ سو چو، شاید "سر" کے اس جملے کے کوزے میں سوالات کرنے والوں کے تمام کے تمام جوابات بند کر دیئے گئے ہوں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */