وہ تین انگلیاں - حبیب الرحمن

امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ "پی ٹی آئی پہلے بل جلاتی تھی اب 22 کروڑ عوام کے دل جلا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے ڈھائی سالہ دور حکومت میں ملک و قوم کو ایک پل کا سکھ نصیب نہیں ہوا۔ ملک میں غذائی اجناس کے ہوتے ہوئے خیر و برکت بھی اٹھ گئی۔ آئی ایم ایف کا قرض ملک اور عوام کے لیے سب سے بڑا مرض بن چکاہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نے عوام کو دن میں تارے دکھا دیے ہیں۔ مغرب کے فنڈ سے چلنے والی این جی اوز مدارس کا امیج خراب کرنے میں دن رات مصروف ہیں۔ حکومت اس بات کا فوری نوٹس لے۔ تمام مسائل کا حل اللہ کے نظام کے نفاذ میں موجود ہے"۔ امیر جماعت کی کہی کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جو حقیقت کے بر خلاف ہو۔ پاکستان میں 126 دنوں تک بجلی کے بل جلتے دیکھے گئے۔ فی یونٹ ایک روپیہ بھی بڑھ جانے کا مطلب حکمرانوں کے چور ہونے کی دلیل قرار دیا جاتا رہا۔ غذائی اجناس کی فراوانی ہونے کے باوجود عوام تک ان کی ترسیل بروقت اور ارزاں نہ ہونے پر اُس وقت کی حکومتِ وقت پر لعنت ملامت بھیجی جاتی رہی۔ گزشتہ سارے گزرے ادوارِ حکومتوں پر بے حساب گالیاں سپلائی کی جاتی رہیں۔ ان کی نحوستوں کو خیر و برکت کا اٹھ جانا کہا جاتا رہا۔ عوام میں بے چینی و بے سکونی کو گزشتہ ادوار کے حکمرانوں کی غلط حکمتِ عملیاں گردانہ جاتا رہا۔ مہنگائی کا سبب حکومتوں کی خیانت کو قرار دیا جاتا رہا۔ آئی ایم سے قرض لینا اتنا غیرت کے قابل سمجھا گیا کہ ایسی نوبت آنے پر خودکشی حلال قرار دی گئی اور ملک میں نان گورنمنٹ تنظیمیوں کو اس بات کا ذمہ دار سمجھا گیا کہ وہ مدارس کی جو شکل دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہیں وہ نہ تو اسلام سے کوئی تعلق رکھتی ہے اور نہ ہی انسانیت کی فلاح و بہبود سے ان کا کوئی تعلق بنتا ہے۔ با الفاظ دیگر مدارس کی آڑ میں دینِ اسلام کی ایسی عکاسی کی گئی جس سے دنیا میں اسلام کے خلاف جتنی بھی نفرت پھیل سکتی ہو پھیل جائے اور لوگ مولویوں، علمائے کرام اور دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبِ علموں کی آڑ میں اللہ کے دین کو برا بھلا کہنے میں کسی بھی قسم کی کوئی جھجک یا عار محسوس نہ کر سکیں۔

اپنے 126 دنوں کے دھرنوں میں صبح و شام بجلی کے بل جلانے والے اب رات دن 22 کروڑ سے زائد عوام کا دل جلاتے نظر آتے ہوں، بجلی کے فی یونٹ 8 روپوں سے بڑھا کر 21 روپوں سے بھی زائد کرنے کے باوجود اپنے آپ کو چور اور ڈاکو تسلیم کرنے کی بجائے خود کو صادق اور امین کہنے پر مصر ہوں۔ غذائی اجناس کی فراوانی اور ذخیرے بھرے ہونے کے باوجود بھی بیرونی دنیا سے در آمد کر رہے ہوں اور ملک میں پیدا ہونے والے غلے کو چوہوں اور کیڑوں کیلئے رکھ چھوڑا ہو، دوسروں کی نحوستوں کو کوسنے والوں کا عالم یہ ہو کہ ان کے دور میں موسم کی تبدیلیاں، فضاؤں کی آلودگیاں، بے اندازہ فوگ اور دھند کا چھائے رہنا، زمین کا بار بار لرزنا، بے تحاشہ بارشوں کا ہونا اور نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں کوویڈ 19 کا پھیل جانے جیسی علامتوں کا کس کی نحوست میں شمار کیا جائے گا۔ عوام میں پائی جانے والی بے چینی و بے سکونی کو گزشتہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ کہنے والوں سے کیا یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ موجودہ عوامی بے چینی و پریشان حالی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی، ملوں اور کارخانوں کی نجکاریاں، پاکستان اسٹیل کا بند ہو جانا، پی آئی اے کا جنازہ نکل جانا اور معاشی پالیسیوں کا بھٹہ بیٹھ جانا کس حکومت کی ناکامی میں شمار کیا جانا چاہیے۔ وہی جماعت جو آئی ایم سے قرضہ لینا غیرت و حمیت کے خلاف سمجھ کر خود کشی کرنے کا دعویٰ کیا کرتی تھی آج پوری قوم اور ریاست کو گروی رکھنے جیسی قیمت پر آئی ایم ایف سے قرضہ منظور ہونے پر نہایت بے شرمی و بے غیرتی کے ساتھ جشن منانے کے سے انداز میں قوم کو نویدیں سنانے میں فخر و غرور کرتی نظر آتی ہے۔

امیر جماعت کی کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جس میں غلو کا کوئی ایک پہلو بھی نظر آتا ہو، خاص طور سے ان کا یہ فرمانا کہ ہر قسم کے مسائل کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم اللہ کی جانب رجوع کرتے ہوئے اس نظام کو پاکستان میں رائج کر لیں جس کیلئے اس ملک کو لاکھوں انسانوں کی قربانی کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ ان کی اس آخری بات سے صرف وہی لوگ انکار کر سکتے ہیں اور کرتے چلے آئے ہیں جو اسلامی نظام سے محض اس لئے گھبراتے ہیں کہ ان کو مخالف سمتوں سے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ پاؤں، سنگساری کے نتیجے میں برسنے والے پتھروں، شراب خوری کے نتیجے میں برسنے والے کوڑے اور بدعنوانیوں کے نتیجے میں دیگر سزاؤں کا خوف ہے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن کوئی بھی فرد، گروہ یا جماعت جب تک دوسروں کی جانب انگلی کو اٹھاتے ہوئے اگر اس بات کی جانب کبھی غور نہیں کرے گی کہ وہ 3 انگلیاں جو دوسروں پر انگلی اٹھانے کی وجہ سے خود ان کی جانب مڑی ہوئی ہیں تو اس پر نہ تو کوئی فرد اپنی اصلاح کر سکتا ہے اور نہ کوئی گروہ اور جماعت۔ کسی بھی فرد، گروہ اور جماعت کا ایک تسلسل کے ساتھ تباہی و بربادی کی جانب بڑھتے چلے جانے اور ملک میں امن و امان سمیت ہر قسم کی صورت حال کے بگڑ جانے کے اسباب میں سب سے بڑا سبب ہی یہ ہے کہ سب ایک دوسے کی جانب انگشت شہادت تو سیدھی کئے ہوئے ہیں لیکن کوئی ایک فرد بھی 3 مڑی ان انگلیوں کی جانب دیکھنے اور غور کرنے پر تیار نہیں جو خود ان کی جانب موڑی ہوئی ہیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا، ویسا کبھی نہیں ہو سکتا جیسا امیر جماعت دیکھنا چاہتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */