جیت اپنی جگہ، کمزوریوں پر نظر بھی ضروری - حبیب الرحمن

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف کرکٹ کا معرکہ بہت آسانی سے سر کر لیا۔ ٹی 20 کے تین میجوں میں سے 2 میچ اپنے نام کئے اور 2 ٹسٹ میچوں کی سیریز میں جنوبی افریقہ کی ٹیم پر بالکل ہی چونا پھیر کر رکھ دیا اس طرح دونوں سیریز اپنے نام کر کے نہ صرف ٹیم کا حوصلہ بہت زیادہ بلند کیا بلکہ کھلاڑیوں میں اس جیت کی وجہ سے ایک نئی تازگی سی دوڑ گئی۔ جس کی وجہ سے یہ امید ہو چلی ہے کہ آئندہ کھیلی جانے والی جتنی بھی سیریز ہونگی وہ بھی پاکستان اپنے حق میں کرنے میں کامیاب و کامران ہو گا۔

جیت اپنی جگہ لیکن 3 ٹی 20 اور دو ٹسٹ میچوں میں جو کمزوریاں سامنے آئیں وہ کمزوریاں پاکستان کو کسی بھی وقت شکست در شکست سے دو چار کر سکتی ہیں اور اگر ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش نہ کی گئی یا ان سے چشم پوشی اختیار کرکے جیت کو اسی طرح مناتے رہے جس طرح اب تک مسلسل منایا جا رہا ہے تو یہ رویہ پاکستان کی کرکٹ کے زوال کا سبب بھی بن سکتا ہے۔سیریز ٹی 20 کی ہو یا ٹسٹ میچ کی، اگر کھیلے گئے میجوں پر بھر پور نظر ڈالی جائے تو کئی ایسے پہلو ہیں جو اس بات کی مسلسل دعوت دے رہے ہیں جس پر محنت کرنے اور ان کو "صفر" تک لانے کی از حد ضرورت ہے۔ان سارے میچوں میں جو کمزوریاں سامنے آئی ہیں ان میں "مس فلڈنگ" بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ اگر تمام میچوں میں ہاتھوں میں آئے کیچوں کا اس طرح گر جانا جیسے ہاتھوں میں بڑے بڑے چھید ہوں، کسی بھی صورت قابل معافی کمزوری نہیں گنی جا سکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کہ پورے پورے میچ میں کوئی ایک آدھ بار تو ضرور ہوتا ہے کہ وکٹ کیپر سمیت کسی بھی کھلاڑی کے ہاتھوں سے کوئی کیچ گر جائے لیکن ایسے زیادہ تر وہ کیچز ہوا کرتے ہیں جس کو کرکٹ کی اصطلاح میں "مشکل" سمجھا اور کہا جاتا ہے۔ بہت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آسان سا کیچ کسی کھلاڑی کے ہاتھ میں آکر نکل جائے لیکن ٹی 20 کی سیریز ہو یا ٹسٹ میچوں کی، ان میں بلا شبہ درجن بھر سے زیادہ کیچز ڈراپ ہوئے اور ان میں 99 فیصد وہ کیچز تھے جو آسان بھی تھے اور ہاتھوں کی پہنچ سے دور بھی نہیں تھے۔

جیت میں اچھی یا خراب فیلڈنگ کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ اچھی فیلڈنگ سے چوکے ایک یا دو دوڑوں میں یا جہاں دو دوڑیں یقینی نظر آ رہی ہوں وہاں کھلاڑیوں کو ایک ہی دوڑ میں محدود کر دینے سے کسی بھی ٹیم کو بڑا اسکور کرنے سے روک دیا جاتا ہے جبکہ خراب فیلڈنگ 1 دوڑ کو دو دوڑوں اور باز اوقات ایک بھی دوڑ کے نہ ہونے کے یقین کو چوکے میں بدل دیا کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ اسکور جس کو بہت محدود دوڑوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہو، ایک بڑے اسکور کی صورت میں سامنے آ کر اپنی ٹیم کیلئے ایک نئی آزمائش کو جنم دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔پاکستان کی خراب فیلڈنگ کے باوجود بھی جنوبی افریقن پاکستان کی اس کمزوری کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکے جس پر اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ بحیثیتِ مجموعی جنوبی افریقہ کی ٹیم پاکستانی ٹیم کے مقابلے میں کافی کمزور ٹیم تھی۔پاکستانی ٹیم کی ایک بڑی کمزوری اور بھی سامنے آئی جس پر پر جتنی بھی تشویش کا اظہار کیا جائے اور آنے والا دنوں میں جتنی بھی محنت کی جائے شاید وہ کم ہی ہو۔ سارے میجوں، یعنی ٹی 20 اور ٹسٹ میچوں کو سامنے رکھ جائے تو بہت تشویشناک بات جو سامنے آئی وہ پاکستان کے سارے چوٹی کے بلے بازوں کی مکمل نامی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چوٹی کے ایک دو بلے بازوں نے سنچریاں اور ففٹیاں بھی اسکور کی ہیں لیکن کسی بھی جیت کیلئے جو دوڑیں درکار ہوتی ہیں وہ تمام کی تمام یا تو آل راؤنڈرز نے بنائیں یا پھر بالرز نے اچھی بیٹنگ کرتے ہوئے اسکور کیں۔ کوئی ایک میچ بھی ایسا نہیں جس میں دوڑوں کے پہاڑ بلے بازوں نے کھڑے کئے ہوں۔ ایک جانب تمام تر مناسب یا جیت کیلئے درکار دوڑیں چوٹی کے بلے بازوں کی بجائے آل راؤنڈرز یا بالرز نے بنائی ہیں تو دوسری جانب مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو کوئی بھی بڑا اسکور کرنے سے روکنے یا ہدف کے حصول میں ناکام بنانے میں بھی بھی نمایاں کردار بالرز ہی کا نظر آیا۔

ایماندارانہ تجزیہ کیا جائے تو ٹی 20 کے میچز ہوں یا ٹسٹ میچز، ان میں ڈوڑیں اسکور کرنے میں چوٹی کے بلے بازوں سے زیادہ بالروں کا ہی ہاتھ رہا ہے تو دوسری جانب بالز ہی مخالف ٹیم کو مسلسل کم اسکور تک محدود رکھنے یا پاکستان کے دیئے گئے دوڑوں کے اہداف کے اندر اندر جنوبی افریقہ کی ٹیم کو آؤٹ ہی نہیں آؤٹ کلاس کرنے میں کامیاب و کامران نظر آتے ہیں یعنی اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ بھی بالرز ہی کرتے نظر آئے تو بالنگ کا اعلیٰ معیار بھی ان ہی کی جانب سے دیکھنے آیا۔ بیشک ٹیم کا ہر فرد ایک مکمل ٹیم ہوا کرتا ہے اور بالرز ہوں یا بلے باز، سب کی مربوط کوششیں ہی کسی بھی ٹیم کو کامیابیاں دلایا کرتی ہیں لیکن جو جو کمزوریاں سامنے آئی ہیں اگر ان کی جانب توجہ نہ دی گئی تو آنے والے میچوں میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو کافی مشکلات کا سامنا در پیش ہو سکتا ہے۔ امید کہ صرف جیت کا جشن ہی نہیں منایا جاتا رہے گا بلکہ پوری سنجیدگی کے ساتھ ہر ہر شعبے کو مزید بہتر بنانے کی جانب بھی بھرپور توجہ دی جائے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */