اللہ کی یاد - ام محمد سلمان

"پتا نہیں کیا بات ہے امی..! روزانہ رات کو سوتے ہوئے کئی کئی بار آنکھ کھلتی ہے۔ آپ میرے لیے دعا کر دیں مجھے سکون کی نیند آئے ایک بار بھی آنکھ نہ کھلے۔" عرشیہ سونے کی تیاری کرتے ہوئے بولی۔

"دعا تو میں کر ہی دوں گی بیٹے لیکن پہلے یہ تو بتاؤ پریشانی کیا ہے جو بار بار آنکھ کھلتی ہے؟"

" ٹیسٹ ہو رہے ہیں نا امی جی! خوابوں میں بھی وہی ڈراتے رہتے ہیں، کبھی سوال حل نہیں ہو رہا ہوتا, کبھی یاد کیا ہوا بھول جاتا ہے اور کبھی نمبر کم آتے ہیں۔ بس یہی چلتا رہتا ہے رات بھر...."اوہو... تو یہ پریشانی ہے میری گڑیا کو (انھیں اس کے انداز پر ہنسی آئی) ویسے اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں بیٹا جی! بندے کی رات کو آنکھ کھلنا بھی غنیمت ہے چاہے تو اس میں بھی اپنی دنیا و آخرت کے لیے ڈھیروں کمائی کر لے۔"

"وہ کیسے امی جان؟" عرشیہ حیرت سے بولی۔"وہ ایسے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی بندے کی رات سوتے ہوئے آنکھ کھلے اور وہ یہ دعا پڑھے

لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِير ٌ

سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ

وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ

اور پھر کہے "اللھم اغفرلی.." یعنی اے اللہ میری مغفرت فرما دے. تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں یا وہ بندہ اپنی کسی بھی ضرورت کے لیے دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں۔ اگر اٹھ کر نماز ادا کرے تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے" تو میری پیاری بیٹی جب آدھی رات کو اچانک آنکھ کھل جائے تو اپنے رب کو یاد کیا کرو، اس کا ذکر کیا کرو پھر اللہ سے مغفرت طلب کرو اور جو کوئی بھی پریشانی یا دکھ تکلیف ہو تو اس کے دور ہونے کی دعا کیا کرو۔ ذرا سوچو تو یہ کتنی خوب صورت بات ہے کہ جب کسی کی رات کو سوتے ہوئے آنکھ کھلے اور وہ نیند میں مدہوش ہو... مگر پھر بھی اسے اس وقت اللہ یاد آجائے اور وہ اس کا ذکر کرنے لگے چاہے مختصر سی دعا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ کو کتنی خوشی ہوتی ہوگی کہ میرا بندہ اس حال میں بھی مجھے یاد کر رہا ہے، میری بڑائی بیان کررہا ہے، مجھ سے اپنی دنیا و آخرت کی بھلائیاں طلب کر رہا ہے.اور جانتی ہو عرشیہ! اللہ تعالیٰ کسی بندے کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا ۔ تو جب بھی رات کو آنکھ کھلے اس عمل کو ضرور کرنا چاہیے.. جتنی بار بھی نیند سے جاگیں اتنی ہی بار اس عمل کو کرتے رہیں تو یقیناً دنیا و آخرت کے خزانے انسان کے قدموں میں ہوں گے۔
دراصل ہم سمجھتے ہی نہیں کہ اللہ کی یاد کتنی بڑی چیز ہے کتنی بڑی نعمت ہے ۔ اللہ تعالیٰ یہی تو چاہتے ہیں ہم سے کہ ہم اسے ہر حال میں یاد رکھیں کبھی نہ بھولیں. سکھ میں دکھ میں سوتے میں جاگتے میں... بس اسی کا ذکر کریں اس کا دم بھریں۔"

" کیا واقعی ایسا ہے امی!! آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا.. میں ضرور اس پر عمل کروں گی ان شاء اللہ۔ اور جیسے ہی رات کو آنکھ کھلے گی تو سچے دل سے یہ دعا پڑھوں گی اور پھر اللہ تعالیٰ سے امتحان میں فرسٹ آنے کی دعا مانگوں گی ۔"

" ہاں ہاں ضرور کرنا بیٹی... بے شک دنیا و آخرت کی ہر ضرورت اللہ ہی سے طلب کرنی چاہیے لیکن دھیان رہے کہ یہ عمل صرف دنیا ہی کے لیے نہ رہ جائے. اصل چیز یعنی اللہ کے ذکر سے اصل مراد اللہ کی یاد ہے جیسے انسان کسی سے محبت کرتا ہے اور پھر اس محبت کی چاشنی کے ساتھ اسے یاد کرتا ہے اس کا تذکرہ کرتا ہے تو بالکل ایسے ہی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا چاہیے، اس کا ذکر کرنا چاہیے، یہ عمل بندے کو رب سے بہت قریب کرنے والا ہے ۔"عرشیہ بستر سے اٹھ بیٹھی تھی اور بہت غور سے امی جان کی باتیں سن رہی تھی ۔وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولیں.. پتا ہے عرشیہ! قرآن میں اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں؟

" کیا فرماتے ہیں امی جی؟"

" سورۃ الاحزاب میں ارشاد ہوتا ہے : وَالذّٰكِرِيۡنَ اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞35

اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتوں کے لیے اللہ نے مغفرت اور اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے ۔"یعنی بخشش بھی ہو جائے گی اور اس کے علاوہ بھی بیش بہا نعمتیں ملیں گی۔ اور ایسا نہیں کہ اللہ کے ذکر سے صرف آخرت کا فائدہ ہے بلکہ دنیا میں بھی انسان اس کے فائدوں سے محروم نہیں رہتا۔"

"دنیا میں کیا فائدہ ہوتا ہے امی..؟" وہ بھول پن سے پوچھ رہی تھی۔ "وہ یہ بیٹا جی کہ اللہ کو یاد کرتے رہنے سے انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے جس سے نیک اعمال کرنا آسان ہو جاتے ہیں ۔ بندے کے دل میں اللہ کی کبریائی کا احساس گھر کر لیتا ہے اور اس کے دل میں عاجزی پیدا ہوتی ہے اور یہ عاجزی اسے فخر و غرور میں مبتلا نہیں ہونے دیتی ۔ ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے سے انسان اللہ کی نافرمانی کا مرتکب نہیں ہوتا. اس کے دل میں اللہ کے سامنے جواب دہی کا خوف جڑ پکڑ لیتا ہے جو اسے گناہوں سے دور رکھتا ہے ۔ اور جب بندہ اللہ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتے ہیں یہاں تک کہ فرشتوں کی مجلس میں اس کا ذکر کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ مسنون اذکار کے ذریعے بندہ دہرا اجر پاتا ہے ایک عبادتِ ذکر کا اور دوسرا سنت پر عمل کرنے کا ۔ اللہ کا ذکر کرنے سے دلوں کو سکون ملتا ہے، اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے. غم اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں ۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ صبح و شام اور موقع موقع کے تمام مسنون اذکار کو اپنے معمولات میں شامل رکھیں اور اللہ کا قرب پانے والے بن جائیں ۔

اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ "آپ علیہ السلام اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے." (مسلم)

"لیکن امی جان! شیطان ہمیں اللہ کا ذکر کرنے ہی کہاں دیتا ہے وہ ہمیں بار بار اس کی یاد سے غافل کر دیتا ہے۔ صبح شام کے اذکار بھول جاتے ہیں، کھانے پینے کے کے بعد دعا پڑھنا بھول جاتے ہیں، موقع موقع کی سب دعائیں یاد ہوتی ہیں لیکن پڑھنے کا خیال ہی نہیں رہتا ۔" وہ منہ لٹکا کر بولی ۔"یہ تو ہم انسانوں کی کمزوری ہے نا بیٹا! کہ اللہ کے ذکر کو اہمیت ہی نہیں دیتے ورنہ دنیا کے باقی کام کیوں نہیں بھول جاتے..؟ جب ہمیں کھانا یاد رہتا ہے تو کھانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرنا اور مسنون دعا پڑھنا کیوں بھول جاتے ہیں؟ جب کپڑے بدلنا یاد ہیں تو کپڑے پہننے کی دعا کیوں بھول جاتے ہیں؟ جب صبح شام کے اور باقی سارے کام یاد رہتے ہیں تو صبح و شام کے اذکار کرنا کیوں بھول جاتے ہیں؟؟ اس کی یہی وجہ ہے بیٹی کہ ہمیں اللہ سے ایسی محبت نہیں جیسی کہ کرنی چاہیے۔ اور دوسری بات یہ کہ اللہ کا ذکر ہماری ترجیحات میں شامل نہیں.. ہم اسے دوسرے درجے کی چیز سمجھتے ہیں جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہمارے نزدیک ۔ حالاں کہ قرآن و حدیث کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اللہ کا ذکر دنیا میں سب سے بڑا ہے جیسا کہ اللہ نے سورۃ العنکبوت میں ارشاد فرمایا ہے

وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ (‌45)

"اور بے شک اللہ کا ذکر تو سب سے بڑی چیز ہے."

"لیکن امی جان! اگر اللہ کا ذکر ہی سب سے بڑی چیز ہے تو پھر نماز، روزہ، حج اور جہاد جیسے اعمال کیا ہوئے؟ کیا وہ چھوٹی چیزیں ہیں کیا ان پر ایسا ثواب نہیں؟"

"ایسی بات نہیں ہے بیٹا جی! ہر چیز کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے مگر یہ بھی جان لو کہ نماز روزہ حج زکوٰۃ جہاد قتال یہ سارے اعمال بھی تب ہی زیادہ اچھے ہیں جب ان میں اللہ کی یاد شامل ہو۔
ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جہاد کرنے والوں میں زیادہ اجر پانے والا کون ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو ان میں اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والا ہے"
اس شخص نے پھر نماز، روزہ، زکوٰۃ، صدقہ اور حج کرنے سے متعلق پوچھا تو آپ علیہ السلام نے ہر ایک کا یہی جواب دیا کہ جو ان میں اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والا ہے." (مسند احمد)
یعنی کہ نماز پڑھے تو بھی اللہ کو یاد رکھے کہ کیا کہہ رہا ہے، کیا مانگ ریا ہے اور کس ذات عالیشان کے دربار میں حاضر ہے ایسا نہ ہو کہ نیت باندھی تو پھر سلام پھیرنے پر ہی ہوش آیا کہ نماز ختم ہو گئی.
اسی طرح باقی اعمال کی انجام دہی کے وقت بھی اللہ کی ذات کو مستحضر رکھنا چاہیے کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے میرے ہر عمل کا بدلہ اسی نے دینا ہے اور اسی کو خوش کرنے کے لیے میں یہ سب کررہی ہوں اور اس کی ذات سے نہایت عاجزی کے ساتھ یہ امید رکھتی ہوں کہ وہ میرا یہ عمل قبول کر لے ۔
اور بات یہ ہے میری بچی کہ ہم کتنے بھی اعمال کرتے رہیں اصل چیز اللہ کے یہاں مقبولیت ہے. اس لیے اپنے کسی بھی نیک عمل پہ کبھی گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیشہ نہایت عاجزی کے ساتھ اس کے قبول ہو جانے کی دعا و التجا کرنی چاہیے۔"

ماں کی نصیحت بھری باتیں سن کر عرشیہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اپنے بستر سے اٹھی اور قریب آ کر ان سے لپٹ گئی اور کہنے لگی امی جی! اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے سارے نیک اعمال قبول کر لے اور ہمارے برے اعمال پر مواخذہ نہ کرے ہمیں معاف کر دے ۔

"آمین یا رب العالمین..." انھوں نے صدقِ دل سے کہا ۔ پھر عرشیہ اپنے بستر پہ جا کر لیٹ گئی اسے بھی سونے کی جلدی تھی کہ آج جب آنکھ کھلے گی تو اللہ کا ذکر کروں گی پیارے نبی علیہ السلام کی بتائی ہوئی دعا پڑھوں گی اور مغفرت کی دعا مانگوں گی اور اپنی دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگوں گی تاکہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جائیں خوش ہو جائیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */