عورت کا تحفظ مرد کی ذمہ داری نہیں، عورت اپنے معاملات میں خود ذمہ دار ہے‎ - حفصہ افضل

اگرعورت کا تحفظ مرد کی ذمہ داری نہیں ہے تو آج عورت مرد سے شادی کیوں کرتی ہے؟؟ کیا باپ بھائی ہمارے سر پرست نہیں ہیں؟؟ اگر آج ہمارے سروں پہ باپ بھائی بیٹا اور شوہر کا سایہ نہ ہو تو کیا ایک اکیلی عورت اس فحاشی والے معاشرے میں محفوظ ہے ؟ اسلام پھیلنے سے پہلے عورت کا کیا مقام تھا اور اسلام پھیلنے کے بعد عورت کو کتنی ہی عزت دی گئی۔ کیا میں اور آپ اس نعمت کے حقدار نہیں ہیں ؟ کیا مرد اور عورت کے حقوق مقرر نہیں کر دیے گۓ ؟؟ سنت نبوی کے مطابق عورت سے نکاح کرتے ہوۓ عورت کو ایک مضبوط سانچے میں مضبوط رشتے میں باندھ دیا گیا ہے تو کیا ہم اس چیز سے انکار کر سکتے ہیں ؟

اسلام میں مردوں کو عورتوں پہ قوام بنادیا گیا ہے مرد عورت کا سربراہ ہے جس کے ذریعے سے پورا خاندان عمل میں آتا ہے۔ مرد کے اوپر الگ ذمہ داریاں عائد کردی گئیں ہیں اور عورت کے اوپر گھر کا نظام زندگی عائد کردیا گیا ہے اور اس سب کو ملا کر ایک پورا خاندانی نظام عورت اور مرد سے تشکیل پاتا ہے۔ کبھی یہ سوچا ہے کہ ایک اکیلی عورت خود کیسے کما سکتی ہے ؟؟ عورت ایک حد تک باہر نکل کر اپنی ذمہ داریاں نبھا لے گی ناں لیکن مرد کو وہ قوت فراہم کردی گئی ہے کہ وہ ساری زندگی اپنی عورت کے لیے کماتا ہے ، اپنے بچوں کے لیے ، اپنی بہنوں اور ماؤں کے لیے کماتا ہے۔۔۔۔ تو پھر عورت کس طرح سے اپنے معاملات میں خود ذمہ دار ہے ؟؟

یہ کہنا جائز نہیں کہ کیا مرد نے عورت کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے ۔۔۔؟؟ پھر میں یہ کہونگی کہ عورت نے بھی مرد کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا۔۔۔۔ یہ باتیں تو محض میاں اور بیوی، بہن اور بھائی، باپ اور بیٹی کے رشتے کے درمیان انتشار پھیلانے والی ہیں۔۔۔ آج اگر اس معاشرے میں عورت ایک غیر مرد کے ہاتھوں ذلیل ہوتی ہے تو اسے تحفظ کون۔ دیتا ہے ؟؟؟ تحفظ تو پھر وہ اپنے باپ سے ، بھائی سے، شوہر سے اور بیٹے سے طلب کرتی ہے ناں ؟؟؟ تو پھر ہم کس طرح سے یہ باتیں کر سکتے ہیں آخر۔۔۔؟؟؟ خدارا دین کو سمجھیں۔۔ مغرب کی اندھی تقلید کو نہیں اپنائیں۔۔ ہمارا دین اسلام بہت ہی خوبصورت ہے اگر ہم اپنے دین کو بہترین طریقے سے سمجھ لیں۔۔۔ جس مغرب کی اندھی تقلید میں ہم مبتلا ہوتے جا رہے ہیں۔

آج وہاں کی عورتیں بذات خود مسلمان عورتوں کی طرح حقوق لینے کے لیے بے چین ہیں۔ جو حقوق مسلمان عورت کو ملے ہوۓ ہیں شاید اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔۔۔ یہ جو چار طاقتور رشتے ہمارے سامنے موجود ہیں ناں ( باپ، بھائی، بیٹا، اور شوہر) انھیں کی بدولت ہم اس معاشرے میں فخر سے جیتے ہیں نہیں تو جن بچیوں اور لڑکیوں کے سروں پہ یہ رشتے موجود نہیں ہیں تو ہم سوچ نہیں سکتے کہ وہ کیسے زندگی گزارتی ہیں۔۔؟؟ اسلام کے بعد عورت کی عزت محفوظ کردی گئی ، عورت کو ایک پاکیزہ رشتے میں باندھ دیا گیا، عورتوں کے حقوق مقرر کر دیے گۓ ، وہیں مردوں کے حقوق بھی مقرر کر دیے گۓ ، مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا سد باب بنادیا گیا ، مرد کے حقوق عورت پر اور عورت کے حقوق مرد پر مقرر کردیے گۓ۔

سورہ البقرہ میں اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

" عورت کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے"

اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو دین کا فہم عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */