صرف کراچی ہی ہدف کیوں - حبیب الرحمن

دنیا میں دو ہی ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو دنیا اور دنیا کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کر پاتی اور دونوں ہی کی شہرت آسمانوں کی بلندیوں کو چھونے میں کامیاب ہو جایا کرتی ہیں۔ فرق صرف مثبت اور منفی کا ہوتا ہے۔ نیک کو اچھے اور بد کو برے لفظوں سے یاد کیا جاتا ہے۔ اب کراچی اور کراچی والے پاکستان کیلئے ازل سے نیک ہیں یا نہایت بد، اس کا فیصلہ تو چاند ماری کرنے والے ہی کر سکتے ہیں لیکن جو بات طے ہے وہ فقط اتنی ہے کہ کراچی کے معاملات اگر مثالی ہوں تو پورے پاکستان کی حالت بقول جون ایلیا کچھ یوں ہو جاتی ہے کہ

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

کوئی سیاسی چپقلش کی صورت حال پیدا ہو جائے، کسی بھی قسم کے الیکشن میں کوئی ہنگامہ برپا ہو جائے، کوئی سیاسی قتل ہو جائے، کوئی ایسی پارٹی جس کا طوطی بولتا ہو، وہ الیکشن ہار بیٹھے، کسی عام سی لڑائی جھگڑے میں دو چار قتل ہو جائیں، بینک لٹ جائے، بم دھماکا ہو جائے حتیٰ کہ فراط کے کنارے کی طرح گجر نالے کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر جائے تو پورا پاکستان اور سارے ٹیلیویژن اسٹیشن ایک دم جاگ جاتے ہیں اور پھر کئی کئی دن اس پر ہزارہا زاویوں سے ایسے ایسے تبصرے ہوتے ہیں کہ نہ صرف عوام کے دل ان کے پہلوؤں میں دہل کر رہ جاتے ہیں بلکہ کئی کمزور دل والے اس جہانِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔ پورے پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران کیا کچھ نہیں ہوتا رہتا۔ کتنے بینک لوٹے جاتے ہیں، ڈکیتیوں کی کتنی وارداتیں ہو تی ہیں، کتنی خواتین کی آبرو ریزی کی جاتی ہے، کتنے بچے درندوں کی ہوس کا نشانہ بن کر قتل کردیئے جاتے ہیں، سر عام خواتین کو برہنہ کرکے بازاروں میں پھرایا جاتا ہے، کتنی پسند کی شادیاں کرنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے، کتنے غیرت مند ماں باپ اپنی لڑکیوں کو اپنے ہاتھ سے پٹرول جھڑک کر نذر آتش کر دیا کرتے ہیں، قبیلہ جاتی جنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد مار دیئے جاتے ہیں، خاندانی دشمنیوں کے نتیجے میں پورے پورے خاندان کو ذبح کر دیا جاتا ہے اور مزاحمتی کوشش کے نتیجے میں لوٹنے والے کتنے انسانوں کو ابدی نیند سلا کر فرار ہو جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن ان کانوں اور روشن آنکھوں نے کبھی کوئی ایک تبصرہ ٹی وی چینلوں پر ایسا نہیں دیکھا اور سنا جو ازل سے کراچی کے حالات پر کیا اور دکھایا جاتا ہے۔

کل ضمنی الیکشن میں کیا کچھ نہیں ہو گیا، دو قتل اور سات زخمیوں کا ہوجانا تو ہے ہی دردناک بات لیکن پورے شہر میں موٹر سائیکل سواروں کا آزادانہ گشت اور غیر ممنوعہ بور کے ہتھیاروں کے ساتھ چاند ماریاں جیسے واقعات کیا ایسے نہیں تھے جس پر اسی انداز کے تجزیے اور تبصرے کئے جاتے جو کراچی میں ایک مچھر اور مکھی کے مارے جانے یا کسی چوہا بلی کے کسی گاڑی کے ٹائروں کے نیچے آجانے کے بعد کئی کئی گھنٹے کئے جاتے تھے۔ کیا پاکستان کے تین صوبوں میں حکومت کرنے اور مرکز میں تخت اقتدار پر براجمان پارٹی کی پاکستان میں غیر مقبولیت کی بنیاد پر ہار جانے والی نشتوں پر اسی انداز کے تبصرے سامنے نہیں آنے چاہئیں تھے جو کراچی کی مقبول پارٹی کی کوئی نشست ہاتھ سے نکل جانے پر کئے جاتے رہے تھے۔
کل ہونے والے ضمنی الیکشن میں کیا نہیں ہو گیا، وہ کونسی سے دہشتگردی اور غنڈہ گردی تھی جو نہیں کی گئی۔ این اے 75 سیالکوٹ کے الیکشن میں 2 افراد جان سے گئے، 7 افراد زخمی ہوئے، پورا شہر فارنگ سے گونجتا رہا، غڈے غیر ممنوعہ بور کی گنوں سے سیدھی اور ہوائی فائرنگ کرتے رہے اور پولیس تماشہ دیکھتی رہی۔ یہ کوئی ایسی خبر تو نہ تھی جسے کراچی کے گجر نالے کے کنارے کسی کتے کے مرجانے کے ہم پلہ قرار دیا جا سکتا تھا نہ ہی بیلٹ پیپروں کا پورا تھیلا لیجانے کے واقعے کو اتنی اہمیت دی جا سکتی تھی جو کراچی والوں کے "ٹھپوں" کو حاصل رہی ہے۔ لہٰذا تمام چینلوں نے اپنے اپنے منہ پر ٹیپ لگا کر چپ سادھ لی۔ ہار جیت تو ہر کھیل کا حصہ ہوا کرتی ہے اس لئے کسی کی مقبولیت یا غیر مقبولیت پر بحث تضیع اوقات کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے البتہ سندھ اور کراچی میں ایسا ہو جائے تو چینلوں کی بنیادیں تک ہل کر رہ جاتی ہیں۔یہاں مثبت کام خواہ عبدالستار افغانی کے ہوں، نعمت اللہ صاحب کے ہوں یا مصطفیٰ کمال کے، پورے پاکستان کو یہ کبھی اور کہیں بھی دکھائی نہیں دیتے رہے۔

بات اس تنگ نظری و امتیازانہ رویے کی کچھ بھی رہی ہو، اس پر تبصرہ اس لئے بھی فضول ہے کہ ہر کلاس، ہر گھر، ہر گلی، ہر شہر اور ہر ملک میں ایک طالبِ علم، ایک فرد، ایک سیاسی گروہ، ایک شہر ایسا ضرور ہوتا ہے جس پر غصہ نکال کر، برا بھلا کہہ کر، الزامات کی بوچھاڑ کرکے اور لعنت ملامت بھیج کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کا سارا بخار اتر گیا، جی کو بوجھ ہلکا ہو گیا، دنیا بھر کے شکوے گلے دور ہو گئے اور سارے ملک کے الزامات کا قرض ادا ہو گیا۔جب پورے بر صغیر کے مسلمانوں کی تربیت "ہندوانہ" ماحول میں ہوئی ہو تو ان کی ساری رسومات، رواج، بود و باش اور ملحدانہ نظریات کا غلبہ روئیں روئیں میں کیوں نہ رچ بس گیا ہوگا۔ جس طرح کالی دیوی کے چرنوں میں کسی معصوم کے چڑھاوے کے بعد یہ سمجھ لیا کرتے ہیں وہ "پوتر" ہو گئے ہیں اسی طرح پورا پاکستان ہر معاملے میں کراچی اور اہل کراچی کی گوشمالی کے بعد یہ سمجھ بیٹھتا ہے جیسے سارے مذہبی، آئینی و قانونی تقاضے پورے کر لئے گئے ہیں۔ جب تک اس سوچ کو نہیں بدلا جائے گا اس وقت تک اگر کوئی یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ پاکستان کے حالات بدل سکتے ہیں تو یہ اس کی اور پاکستان کی خام خیالی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */