گزشتہ سے پیوستہ - سمیرا غزل

پھر بات ذرا آگے بڑھتی ہے۔الوداع کے بعد کی کیفیات مختلف ہوتی ہیں۔کبھی تسلی کے بادل چھائے ہوئے ہیں، تو کبھی تشفی کی پھوار بے اثر ہوتی ہے ،اور برگ و بار نہیں لا پاتی۔یہ بالکل وہی عمل ہے جس کی گواہی الکتاب میں موجود ہے کہ انسان نسیان کا مریض ہے،جلدباز واقع ہوا ہے۔

یہ دھند اسی طرح پھیلتی ہے ،کبھی چھٹتی ہے ،کبھی صبر کے مراحل سے گزر کر شانت ہوجاتی ہے۔ کبھی بے یقینی کے پھندوں میں الجھ جاتی ہے۔دل اضطراب کے کانٹوں سے بھر جاتا ہے اور جب خون رسنے لگتا ہے تو لذت کشید کرنے لگتا ہے۔ یہ لذت کبھی دو گز کے مکان تک لے جاتی ہے کہ جب تم خود سے بچھڑی روح جو کہ اب خاک کا بچھونا اوڑھے سورہی ہے کے سینے پر سر رکھ کر جاننے کی کوشش کرتے ہو کہ کیا دل بولتا ہے؟بولتا ہے تو کیا بولتا ہے؟کیا وہ بتا سکے گا کہ اس میں ہماری تصویر ہے جیسے اس کی تصویر ہمارے دل میں ہے؟پھر اسے یاد آتا ہے کہ دل وہی ہے جس سے سارا نظام ٹھیک رہتا ہے اگر یہ قلب مصفی لیے سورہا ہے تو غم کی بات نہیں اللہ اس کے ساتھ ہے۔

دراصل تم ساری چیزیں ایک ساتھ یاد نہیں کرسکتے کہ یہی تمھارے انسان ہونے کی نشانی ہے کہ بھول جاتے ہو اور اسی لیے کبھی تو اپنے ارد گرد جم غفیر کی باتوں سے بہل جاتے ہو اور کبھی آنکھیں پھاڑ کر انھیں دیکھتے ہو کہ یہ لوگ جو ہمیں صبر کی تلقیین کر رہے ہیں کیا جانتے ہیں؟کیا یہ جان سکتے ہیں اس لمحے کو اور پاسکتے ہیں اس احساس کو جب وہ روح ہمارے ہاتھوں سے نکلی تھی تو شب ہائے الم گائے گئے تھے؟جب سب کچھ کل من علیھا فان کہتا نظر آیا تھا؟مگر شدت گریہ سے آواز بھنچ جاتی تھی۔جب زمین سر پر گھومتی اور آسمان پیروں تلے آگیا تھا اس وقت جب سونا پیتل سب برابر ہوگئے تھے؟جب جانے والا جارہا تھا اور اس کے چاہنے والے ہم و غم میں ڈوبے مان بھی رہے تھے اور انکار بھی کر رہے تھے۔بیک وقت انکار اور اقرار کا لمحہ وہ لمحہ ہے جس نے عزازیل کو ابلیس بنایا کہ تم جان لو کہ آدم کی اولاد ہو اور رحمت خاص کے حق دار ٹھہرے ہو کہ تمھیں امت محمدی صہ ہونے تک کا سفر طے کرنا تھا سو گزاردیے گئے خارزاروں سے۔ اور بچا لیے گئے ۔ابلیس کے راستے سے۔معاف کردیے گئے۔دنیا عطا کردی گئ، جنت لے لی گئ لوٹائے جانے کے وعدے کے ساتھ۔

جو کچھ تم بو رہے ہو تمھارے ہاتھوں کی کمائ ہے کل اس کے پھل کھاو گے۔
تب جب اشہد ان لا الہ کے ساتھ کوئ رخصت ہورہا تھا دور پپیہا کوک رہا تھا بتان وہم و گماں لاالہ الا اللہ۔

ہمارے اوہام ہمارے بت لوگوں کی باتیں ہمیں ایک نہ ختم ہونے والے وہم میں مبتلا کرتی ہیں مگر کل من علیھا فان کا خالق فرماتا ہے کہ

اور (اس وقت) تمہاری تین جماعتیں ہو جائیں گی۔

فَاَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَآ اَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ

پھر داہنے والے کیا خوب ہی ہیں داہنے والے۔

وَاَصْحَابُ الْمَشْاَمَةِ مَآ اَصْحَابُ الْمَشْاَمَةِ

اور بائیں والے کیسے برے ہیں بائیں والے۔

وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ

اورسب سے اول ایمان لانے والے سب سے اول داخل ہونے والے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَ

وہ اللہ کے ساتھ خاص قرب رکھنے والے ہیں۔

فِىْ جَنَّاتِ النَّعِـيْمِ

نعمت کے باغات ہوں گے۔

ثُلَّـةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ

پہلوں میں سے بہت سے۔

وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ

اور پچھلوں میں سے تھوڑے سے۔

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَـةٍ

تختوں پر جو جڑاؤ ہوں گے۔

مُّتَّكِئِيْنَ عَلَيْـهَا مُتَقَابِلِيْنَ

آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔

يَطُوْفُ عَلَيْـهِـمْ وِلْـدَانٌ مُّخَلَّـدُوْنَ

ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے آمد و رفت کیا کریں گے۔

بِاَكْوَابٍ وَّاَبَارِيْقَ وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ

آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا۔

لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْـهَا وَلَا يُنْزِفُـوْنَ

نہ اس سے ان کو دردِ سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا۔

وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّـرُوْنَ

اور میوے جنہیں وہ پسند کریں گے۔

وَلَحْمِ طَيْـرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ

اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہوگا۔

وَحُوْرٌ عِيْنٌ

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔

كَاَمْثَالِ اللُّـؤْلُـؤِ الْمَكْـنُـوْنِ

جیسے موتی کئی تہوں میں رکھے ہوئے ہوں۔

جَزَآءً بِمَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ

بدلے اس کے جو وہ کیا کرتے تھے۔

لَا يَسْـمَعُوْنَ فِيْـهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِـيْمًا

وہ وہاں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔

اِلَّا قِيْلًا سَلَامًا سَلَامًا

مگر سلام سلام کہنا۔

وَاَصْحَابُ الْيَمِيْنِ مَآ اَصْحَابُ الْيَمِيْنِ

اور داہنے والے کیسے اچھے ہوں گے داہنے والے۔

فِى سِدْرٍ مَّخْضُودٍ

وہ بے کانٹوں کی بیریوں میں ہوں گے۔

وَطَلْـحٍ مَّنْضُوْدٍ

اور گتھے ہوئے کیلوں میں۔

وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ

اور لمبے سایوں میں۔

وَمَـآءٍ مَّسْكُـوْبٍ

اور پانی کی آبشاروں میں۔

وَفَاكِهَـةٍ كَثِيْـرَةٍ

اور با افراط میوں میں۔

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّّلَا مَمْنُـوْعَةٍ

جو نہ کبھی منقطع ہوں گے اور نہ ان میں روک ٹوک ہوگی۔

وَفُـرُشٍ مَّرْفُـوْعَةٍ

اور اونچے فرشوں میں۔

اِنَّـآ اَنْـشَاْنَاهُنَّ اِنْـشَآءً

بے شک ہم نے انہیں (حوروں کو) ایک عجیب انداز سے پیدا کیا ہے۔

فَجَعَلْنَاهُنَّ اَبْكَارًا

پس ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے۔

عُرُبًا اَتْـرَابًا

دل لبھانے والی ہم عمر بنایا ہے۔

لِّاَصْحَابِ الْيَمِيْنِ

داہنے والوں کے لیے۔

ثُلَّـةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ

بہت سے پہلوں میں سے ہوں گے۔

وَثُلَّـةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ

اور بہت سے پچھلوں میں سے۔

تو تمھاری آنکھ جیسے کسی خواب سے بیدار ہوتی ہے ۔ممکن ہے کہ تمھیں خود کو چٹکی کاٹ کر دیکھنا پڑے اس بھرے گھر میں ایک اہم جز کم ہے تو کیا وہ اپنے کل کے پاس پہنچ گیا ہے؟تب تم اس کی رفتار کا جائزہ لیتے ہو کہ کس ریس میں تھا ؟اس کی ریس اگر وہی تھی جس کے لیے وہ اتارا گیا اور آزمائش میں مبتلا گیا تو نتیجے سے اندازہ لگا لوگے کہ وہ ریس جیت کر السابقون الاولون یا اصحب الیمین میں شامل ہوگا یا اصحب الشمال میں؟

اگر ریس اس نے جیت لی ہے تو مان لو کہ اس کی حرکت قلب ہمیشہ کی تسکین پانے کے لیے بند ہوئ ہے اور وہ نعمت بھری جنتوں کا حق دار ٹھہرے گا۔

پھر تمھیں یاد آتا ہے کہ تمھارے رب نے مزید کیا فرمایا ہے؟

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے

مگر پھر بھی کبھی کبھی تمھارا دل اس روح سے آنے والی ننھی روحوں کو دیکھ کر پزمردہ ہوتا ہے اور تم پھر فراق اور وصل کے معرکے کا حصہ بن جاتے ہو مگر اس معرکے میں بے قراری اور بے چینی کو شکست ہوجاتی ہے جب تمھارا رب فرماتا ہے کہ

يَسْاَلُـهٝ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِىْ شَاْنٍ

اس سے مانگتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ہر روز وہ ایک کام میں ہے۔

فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَ الثَّقَلَانِ

اے جن و انس ہم تمہارے لیے جلد ہی فارغ ہو جائیں گے۔

فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ

پھر تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

تب تم اس سے حاصل ہونے والی لذت کو پہچان لیتے ہو جو فان کے لفظ سے ملتی ہےاور دائمی بقا کا اذن سناتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ ہی ہر چیز کا مالک ہے جو بکھرے ہووں کو سنبھالتا ہے چھوٹوں کو بڑا کرتا ہے کیڑے کو پتھر میں رزق عطا فرماتا ہے۔اور جب انسان اپنے حصے کی نیکی سر انجام دے چکا ہو،اپنے حصے کی آزمائش سے گزارا جا چکا ہو اپنے دکھ بھوگ کر غموں کی بھٹی میں تپ کر کندن بنا دیا جاتا ہے تو عزرائیل اسے موت کا جام حیات پلانے آجاتے ہیں جو ہر کامیاب کے لیے وہ جام شیریں اور لذیذ ہے ۔اور ہر دنیا دار محض ،اس کی لذت سے نا آشنا۔ تب جب تم جز کے کل سے ملنے کی حقیقت سے آشنا ہوجاتے ہو اور اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتے ہو تو کائنات قرات کرتی ہے کہ

فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */