قصور وار کون - نبیلہ شہزاد

ان دنوں ایک دلخراش واقعے کی خبر میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ کہ ایک اوباش قسم کے آدمی نے ایک بیس سالہ لڑکی سے جھوٹی محبت کا ڈرامہ رچا کر اس سے ناجائز تعلقات قائم کئے اور اس کے حاملہ ہونے کی صورت میں حمل گرانے پر زور دیا۔ اب لڑکی نے حمل ساقط کروانے کے لیے شیرا کوٹ لاہور میں ایک نجی ہسپتال رابطہ کیا۔ جنہوں نے اس کام کے لیے سوا لاکھ معاوضہ مانگا ۔ مریم نامی اس لڑکی نے والدین سے رقم یونیورسٹی کی فیس کے بہانے لی اور اس اوباش کے ساتھ ابارشن کے لیے ہسپتال چلی گئی۔ وہ ہسپتال میں عطائی قسم کے نا تجربہ کار ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ گئی اور اپنی جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھی۔ پھر یہ جھوٹا اور حرامی عاشق اسے کسی اور ہسپتال میں پھینک کر خود رفو چکر ہو گیا۔

اس نوعیت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ماضی میں کئی ایسے واقعات وقوع پذیر ہوئے جہاں یہ جھوٹے عاشق اپنی ہوس پوری ہو جانے کے بعد، دام فریب کا شکار لڑکیوں کو کبھی کوٹھوں پر بیچ دیتے ہیں اور کبھی انکی درندگی وسفاکی کے ساتھ قتل ہوئی بوری بند لاشیں کوڑے کے ڈھیروں پر ملتیں ہیں اور کبھی لاشیں گٹروں میں پھنسیں ہوتیں ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے افسوسناک و دردناک واقعات کن وجوہات کی بناء پرجنم لیتے ہیں۔اگر ہم ایسے واقعات و حوادث کے پیچھے چھپے عوامل کی تحقیقات میں جائیں تو سو فیصد وہی ہوں گےجن میں ہم اپنے پروردگار کی نافرمانی کر کے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارتے ہیں۔ مالک کائنات نے ایک ایک حکم واصول ، انسانی فطرت، نفسیات، ضروریات وبھلائی کو مدنظر رکھ کر دیا ہے۔ قرآن و حدیث میں ہمیں وہ قوانین کھول کھول کر بتا دیئے جو ہمیں ایسے سفلی جذبات کی یلغاری سے محفوظ و مامون رکھتے ہیں۔ مرد وعورت سب کے لیے حدود و قیود مقرر کر دیئے۔ اور جب ہم ان حدود سے تجاوز کریں گے تو فساد برپا تو ہو گا ہی نا ۔ اللّہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا، زنا کے قریب بھی مت جانا۔ ہر اس عمل سے روک دیا جو اس قبیح راستے کی طرف مدد گار ثابت ہو ۔ مرد ہو یا عورت غص بصر کا حکم دیا۔ شروع میں انسان صرف اپنی نظر کی ہی حفاظت کر لے تو اس انتہا پر آنے کا کوئی جواز ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مغرب کا دیا ہوا تحفہ، گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ کی ہمارے ہاں گنجائش ہی کب ہے۔ سورہ نساء میں اس چوری چھپے کی آشنائی سے منع کر کے عزتوں کو محفوظ کیا۔ بلکہ مومن صالحہ مردوں اور عورتوں کو بے حیائی میں ملوث لوگوں سے نکاحِ کرنے سے اجتناب کا حکم دیا۔ البتہ ہاں، جہاں مرد اور عورت ایک دوسرے کو پسند کریں تو معروف طریقے سے نکاح کر لیں لیکن معاشرے میں غلاظت و بد امنی پھیلانے کی ہر گز اجازت نہیں۔

ہمارا ملک تو اسلامی جمہوریہ ہے۔ تو پھر اس ملک کے حکمران، مخلوط نظام تعلیم کے معاملے میں کیوں غور وفکر نہیں کر رہے۔ اب جبکہ کچھ سطحوں پر یہ مجبوری بن چکی ہے اور اس طرح ہاسٹل میں رہائش بھی بوجہ مجبوری ہے۔ تو ایسی صورت حال میں والدین پر ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتیں ہیں۔ پہلی ذمہ داری تو یہ ہے کہ شروع سے ہی بچوں کو نعمت ہدایت کے ساتھ جوڑ دیں اور یہ نعمت ہدایت قرآن و حدیث ہیں۔ تاکہ کم از کم انہیں زندگی گزارنے کے لیے اپنے لیے مقرر کر دہ حدود کا درست علم تو ہو۔ اگر نعمت ہدایت ساتھ ہے تو زندگی میں جس میدان میں بھی جائیں اور جہاں بھی جائیں گے تو ان شاءاللہ کبھی والدین کے لئے شرمندگی و پریشانی کا باعث نہیں بنیں گے۔ دوسرے نمبر پر بچے گھر میں ہوں یا باہر ان کی نگرانی متواتر جاری رکھیں۔ کبھی ان سے غفلت نہ برتیں۔چاہے یہ سب بچوں کو اچھا لگے یا برا اس بات کی پرواہ نہ کریں۔ والدین بننے کی ذمہ داری کوئی آسان یا ہلکی پھلکی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک سخت ،پر مشقت اور گراں قدر اہمیت کا حامل فریضہ ہے۔ یہ خیال رکھیں کہ آپ نے ان کے معاملے میں اپنے رب کو حساب دینا ہے۔ آپ سے صرف ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا، ان کی تربیت کے بارے میں بھی سوال ہو گا۔ اگر وہ آپ کی کوتاہی کی وجہ سے بھٹکتے ہیں تو اس جرم میں آپ بھی شامل ہیں۔ علاوہ کسی سخت ضرورت کے بچوں کو موبائل ہر گز نہ لے کر دیں۔ اگر بوجہ ضرورت دیا ہے تو ان کے تمام اکاؤنٹس اپنی نگرانی میں رکھیں۔

کبھی کبھی ان کے تعلیمی اداروں میں بھی چکر لگا لیا کریں۔ ان کے حلقہ دوستاں کے بارے میں بھی معلومات رکھیں۔ ایک مشہور جملہ ہے کہ بچوں کو کھلائیں سونے کا نوالہ اور دیکھیں شیر کی نگاہ سے، مراد یہی ہے کہ ان کی ہر ضرورت پوری کریں۔ انہیں نرمی، شفقت ومحبت بھی دیں لیکن ان کی تربیت کے معاملے میں کسی قسم کا کمپرومائز نہ کریں۔ اور تربیت کس نہج پر کرنی ہے؟ اس کے لیے قرآن، حدیث وسنت کی صورت میں ہمارے پاس پورا نصاب موجود ہے۔ اور ساتھ ساتھ اپنی بھی اصلاح کرنی ہے۔ کیونکہ والدین کی صالحیت بھی بچوں پر خوب اثر رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ہدایت و راہنمائی اور دنیاوی و اخروی کامیابی کے لیے اپنے رب سے خوب مناجات بھی کرنی ہیں۔ یہ جو مذکورہ واقعہ کی آگ آج ہمیں باہر کسی دوسرے گھر میں نظر آئی ہے اس تصور کے ساتھ کہ غم، دکھ،درد اور شرمندگی سے لڑکی کے والدین اور بہن بھائیوں کا کیا حال ہوگا؟ اور لڑکے کے والدین اور بہنیں، لوگوں کا سامنا کس ذلت ورسوائی کی کفیت میں میں کر رہے ہوں گے۔ خدا نخواستہ ہماری غفلت ولاپرواہی کی وجہ سے یہ آگ کل کو کہیں ہمارے دروازے کے سامنے نہ آ جائے۔ اللّہ نہ کرے۔۔۔۔ اللّہ تعالیٰ ہم سب کے بچوں کو محفوظ و مامون رکھے اور ہدایت نصیب کرے۔ انہیں ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور آخرت میں ہمارے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */