شریعت شریعت ہے موم کی ناک نہیں - حبیب الرحمن

بہت دور نہیں جاتے، لاؤڈ اسپیکر آیا تو اذان دینا حرام قرار پایا۔ منطق زور دار تھی۔ اذان کی آواز جہاں تک بھی جائے مسلمانوں پر مسجد میں آکر با جماعت نماز فرض ہو جاتی ہے۔ لاؤڈ اسپیکر سے آواز کئی کئی میل دور تک پہنچے گی تو بہت فاصلے سے مسجد تک آنا دشوار تر ہوگا جبکہ بنا لاؤڈ اسپیکر کتنی ہی بلند آواز سے اذان کیوں نہ دی جائے، اس کا دائرہ محدود ہی رہے گا۔ پھر ہوا یوں کہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان ہی کیا، اردو اور عربی خطبہ بھی عام ہو گیا لیکن ٹھیک نماز کے وقت لاؤڈ اسپیکر بند کردیا جاتا تھا، کیوں؟، کہا گیا کہ نماز پڑھانے کے دوران اس میں شیطان بولتا ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ مسجد میں امام سمیت تین نمازی بھی ہوں تو بنا لاؤڈ اسپیکر نماز پڑھائی ہی نہیں جا سکتی۔

مارکیٹ میں ٹیلیویژن آگیا، ٹی وی کیا آیا سونامی آ گیا۔ خواتین کیسے دیکھیں، اس میں تو غیر مرد ہوتے ہیں۔ مردوں کیلئے ٹی وی دیکھنا کیسے جائز ہو سکتا ہے، اس میں نہ صرف غیر محرم خواتین ہوتی ہیں بلکہ پوری طوفان خیزی کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ ہر گھر میں ایک نئی لڑائی شروع ہو گئی اور نہ جانے کتنے مقامات پر ٹی وی توڑے اور سر پھاڑے گئے۔ اب عالم یہ ہے کہ کوئی گھر کیا خانہ بدوشوں کی عارضی بستیاں بھی ایسی نہیں جہاں ٹی وی موجود نہ ہو۔ حد تو یہ ہے کہ "ہجرے" تک اس کے دم سے آباد ہیں۔ ٹی وی نہ رکھنے اور دیکھنے کیلئے بھی ہزاروں جواز مانع تھے اور اب دیکھنے کیلئے بھی سیکڑوں بہانے تراش لئے گئے ہیں۔کسی محفل میں کیمرے کی ”کلک“ سنائی دی اور ایک ہنگامہ بپا ہو گیا، کیسی کافر مجلس ہے، نالائقوں کی مارکٹائی شروع ہو گئی۔ بزرگ تو بالکل جڑ سے ہی اکھڑ جایا کرتے تھے۔ حد یہ کہ طے شدہ رشتے ٹوٹ جاتے اور نکاح کی سجی سجائی محفلیں ماتم کدوں میں بدل جایا کرتی تھیں لیکن اب موویاں بنتی ہیں۔ کئی کئی گھنٹوں کی مجالسیں سجائی جاتی ہیں اور خطیبوں کے حلق کا "کوا" تک دکھا دینا ممنوع و حرام نہیں۔اخباری نمائندے علما کے خطاب کے موقع پر تصاویر لے نے کی کوشش کرتے تو علما منہ چھپالیا کرتے لیکن اب وارفتگی کا عالم یہ ہے کہ لپک لپک کر اپنا پورا وجود کیمرے کے منہ میں دے بیٹھتے ہیں۔

عورتیں پہلے ہی کونسی قابل احترام ہوا کرتی تھیں۔ خود جو مرضی کرتے پھریں، نہ عزت جاتی ہے اور نہ ہی غیرت جاگ کر دیتی ہے۔ خود کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہی کیوں نہ ہو لیکن عورتوں کی آواز کا بھی پردہ ہوا کرتا تھا۔ مثال دیتے کہ ازواج مطہرات آپ کی توجہ چاہنے کے لئے پردے کے پیچھے سے چوڑیاں یا تالیاں بجایا کرتی تھیں۔ اب بہت ساری عالمائیں اور عالموں کی بیٹیاں لاؤڈاسپیکروں اور ٹی وی شوز میں آتی ہیں۔ کچھ مکمل ساتر ہوتی ہیں تو کچھ کھلے چہروں کے ساتھ اپنی بلند آوازوں کے ہمراہ اسلام سے اپنی وابستگی و قابلیت پوری دنیا میں نشر کر رہی ہوتی ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے جلسوں میں پُر زور نعرے بازی کا مظاہرہ کرتی ہیں لیکن نہ تو اسلام بگڑتا ہے اور نہ ہی ایمان کے بنیادی اصولوں پر کوئی ضرب آتی ہے۔میں نے داڑھی رکھی تو سفیدی چھپانے کے لئے ڈائی کیا کرتا تھا۔ وضو نہیں ہوتی، اسلام میں اجازت نہیں، عمر چھپانا درست نہیں وغیرہ وغیرہ ، کی باتیں سننے کو ملیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آنکھیں ٹھنڈی کرنے کیلئے صرف پی ٹی وی ہی ہوا کرتا تھا۔ اب تو چینلوں کا شمار مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے عالم دین جو ڈائی نہیں کرتے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں ورنہ تو اب کوئی ایک مفتی و مولوی بوڑھا نظر ہی نہیں آتا۔

کراچی ہمیشہ سے پورے پاکستان کیلیے "چاند ماری" کا میدان ہی بنا رہا ہے اس لئے یہاں وقتاً فوقتاً صوبہ بناؤ یا حقوقِ کراچی کی مہمات چلتی رہی ہیں لیکن اس کے جواب میں اہل کراچی کو یہ سمجھایا جاتا رہا ہے کہ اس کا واحد حل "اسلام" ہے۔ جو لوگ "کل" کی بجائے "جزو" کی بات کرتے ہیں وہ "مشرف" بہ اسلام ہو کر اپنے مسائل کا حل تلاش کریں، بہت منافع ہوگا۔ جب کہا جاتا کہ پورا پاکستان تو کبھی "کل" کی بات ہی نہیں کرتا، ہر "قوم سید، مرزا اور افغان" بنی ہوئی ہے تو مذہبی جواب یہی آتا کہ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔ پاکستان بھی خالص اسلام کے نام پر ہی تو حاصل کیا گیا تھا اور بنانے والوں میں صف اول والے تھے بھی اہل کراچی۔ دلیل بھی وزنی ہو اور مذہب کی ملمع سازی کے ساتھ پیش کی جائے تو گولی کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو، میٹھی ہی لگا کرتی ہے اس لئے خاموشی کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ پھر ہوا یہ کہ صبر کا پیمانہ پہلے لبالب بھرا اور پھر چھلک جانے پر مجبور ہوا تو قومی شناخت نے زور لگانا شروع کردیا۔ بات نہ صرف کراچی بلکہ قومی پہچان تک پہنچی تو "قومیتیں اور پیاز کے چھلکے" میدان میں آ گئی۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق آج کل "قومیتیں اور پیاز کے چھلکے" حقوقِ کراچی" مہم میں سر گرم عمل ہے۔ علاقائی سیاست کی مخالفت ایک شہر کی کی سرحدوں میں مقید ہونے کی باتیں کرنے لگی ہے۔ اسلامی شریعت "لچک" کا شکار ہونے پر میں تو صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ اپنے تقریباً 70 سال کی عمر میں نہ جانے مولویوں اور مفاد پرست علما و مشائخ نے کس کس طرح شریعت کی موم کی ناک کو اپنی مرضی و منشا کے مطابق موڑا ہے۔ یہ سلسلہ معلوم نہیں کب سے رواں دواں ہے اور کب تک چلتا رہے گا۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ جب تک کسی بھی تحریک سے وابستہ لوگ اپنے تحریکی اصولوں سے مخلص اور اس پر کسی مصلحت کو غالب نہیں آنے دیں گے اس وقت تک وہ اپنی منزل کسی قیمت پر حاصل نہیں کر سکتے۔ کاش یہ بات قوم کو سمجھانے والوں کو سمجھ میں آجائے (آمین)۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */