ویلنٹا ین ڈے کی حقیقت - نا دیہ سید

14فر وری،یہ دن خا ص طور پر یو رپ میں یو م محبت کے طو ر پر منا یا جاتا ہے۔ اہل مغرب یہ دن بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ وہاں یہ دن بے حیائی کی ایک علامت بن گیا ہے۔اور اب ان کی دیکھا دیکھی مسلم ممالک میں بھی لوگ اس فضول لغو دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ اس بے ہو دہ تہوا ر کے با رے میں کئی قسم کی روایا ت رو میو ں اور ان کے وارث عیسا ییو ں کے ہا ں معر و ف اور مشہو ر ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں ۔

شہنشا ہ کلا ڈ یسس دوم کے دور میں سر زمین روم مسلسل جنگو ں کی و جہ سے جنگو ں کا مر کز بنی رہی اور یہ عا لم ہوا کہ ان کی فوج کی تعداد دن بدن کم ہونےلگی۔ وجہ یہ تھی کہ فوجی لوگ اپنی بیویوں کے بغیر رہنے سے انکاری تھے۔ اس کا حل با د شا ہ نے یہ نکا لا کہ کچھ عر صے کے لے شا د یو ں پر پا بند ی لگا دی۔ تا کہ نو جو نو ں کو فو ج میں جا نے کے لے آ ما دہ کیا جا سکے ٠ اس مو قع پر سینٹ ویلنٹا ین نے سینٹ ما ر یو س کے سا تھ مل کر خفیہ طو پر نو جو نوں کی شا دی کر وانی شر وع کی ; لیکن ان کا یہ عمل چھپ نہ سکا۔ کلا ڈ یسس کے حکم پر سینٹ ویلنٹا ین کو گرفتار کر لیا گیا اور 14 فر وری کو 280ء میں قتل کر دیا گیا۔ اس لے 14 فر وری کو سینٹ ویلنٹا ین کی مو ت کے بعد اہل روم کے لے یہ معز ز دن ہے ۔

اس سلسلے میں ایک وا قعہ یہ بھی ملتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے نام کا برطانیہ میں ایک شخص تھا جس کو 14 فر وری کو پھانسی دی گئی تھی ۔کہا جا تا ہے کہ قید کے دوران بشپ کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہو گئی تھی۔ وہ اسے محبت بھرے خطو ط لکھتا تھا ، اس محبت نا مو ں کو ویلنٹا ین کہتے ہیں ٠ چو تھی صد ی عیسو ی تک اس دن کو تعز یتی اندا ز میں منا یا جا تا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ اسے محبت کی یا د گا ر کے طور پر منا یا جا نے لگا ۔ اپنے محبو ب یامحبو بہ کو اس دن کا رڈز ، اور سر خ گلا ب بھیجنے کا رواج پا گیا ۔ اس کے بعد امر یکہ اور جرمنی میں بھی منا یا جا نے لگا۔ اس دن کے حوا لے سے یہ تما م خرافات تا ریخ کے اوراق میں موجود ہیں۔یہ دن محبت کے تہو ار میں بت پرست رو میو ں اور اہل کتا ب عیسائیوں کے ساتھ مشابہت ہے. کیو نکہ انھو ں نے اس میں رو میو ں کی تقلید کی ہے . اور یہ دن عیسائیوں کے تہوار میں بھی نہیں ہے۔ دین اسلا م میں غیر مسلم اقوام کی مشا بہت سے مما نعت ہے ۔ ہمارے لئے دین اسلام ہی جامع دین ہے۔

اور یہ تہوار تو اہل کتاب کے حقیقی دین میں بھی نہیں ہے۔ ہمیں ایسے تمام تہو ارو ں سے بچنا چا ہے اور اسلا م میں مسلم قو م کیلے وا ضح طو ر پر دو تہوار ہیں ۔جنکے بارے میں ہا دی عا لم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا; اے ابو بکر ہر ملت وقو م کی کوئی عید ہو تی ہے۔ اور یہ ہما ری صرف دو عیدیں ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحی۔ ّ ویلنٹا ین ڈ ے منا نے کا مطلب مشر ک ، رومی اور عیسا ییوں کی مشا بہت کر نا ہے ۔ رسو ل اعظم صلی اللہ علیہ وسلّم نے فر ما یا ; جو کسی قو م کی مشا بہت اختیا ر کر ے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ خلا صہ کلا م یہ ہے ویلنٹائن ڈے منا نا غیر شر عی ہے۔ اللہ تعا لی سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں اور دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت کی جانب گامزن کرے اور صر ط مستقیم پرچلنے کی تو فیق دے آ مین ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */