جو تم مسکراؤ تو ہم مسکرائیں - ام محمد سلمان

رشتے دار بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ محبت اور خلوص سے ملنا جلنا لگا رہے تو زندگی میں رنگ سے بھر جاتے ہیں۔ اداس لمحوں میں جگنو کی سی روشنی لیے.. کبھی بھائی بھابھی کبھی دیورانی جیٹھانی، کبھی نندیں اور کبھی اپنی بہنیں، کبھی ان سب کے بچے. طول و عرض میں پھیلے رنگین خوشبو دار رشتے.! کبھی رات کی رانی کی طرح مہکتے کبھی گلاب کے کانٹوں کی طرح چبھتے.مگر سب رنگ پیارے.آخر کو قدرت کے ہیں نظارے.!! دیورانی کئی دن سے اپنے گھر بلا رہی تھیں کہ بھابھی بچوں کو لے کر آئیے. تو اسی سلسلے میں کل شام ان کے گھر جانا ہوا۔ حسبِ معمول حسبِ خواہش ہماری چھوٹی سی مریم رانی ہمیں دیکھ کر خوشی سے نہال ہو گئیں اور ہم نے بھی کورونا ایس او پیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انھیں گلے لگا لیا۔ کافی دیر تک گود میں بیٹھی اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے دل بہلاتی رہیں۔ پھر کہتی ہیں."تائی امی! اب میں بڑی ہو گئی، گود میں پوری نہیں آتی! آپ آرام سے بیٹھ جائیں نا." اور مسکراتے ہوئے پھسل کے گود سے نیچے جا اتریں۔

کھانے کے وقت گردن مٹکا مٹکا کے کہنے لگیں."تائی امی! جب میں بڑی ہو جاؤں گی نا تو میری بھی شادی ہو جائے گی!! اور میں اپنے گھر چلی جاؤں گی پھر میں مما سے ملنے آیا کروں گی۔""اپنے گھر".....!!!!! (اللہ ابھی سے اپنے گھر کی چاہ)

اس "اپنے گھر" والی اصطلاح نے بے ساختہ مسکرانے پر مجبور کر دیا۔ ہم نے ذرا شوخ سی نگاہوں سے محترمہ کو دیکھا تو وہاں ہنوز سنجیدہ پن طاری تھا سو ہم نے بھی مسکراہٹ دانتوں تلے دبا لی۔
اسی سنجیدگی میں آگے ارشاد فرمایا گیا... "اور جب میرے بچے ہوں گے نا تائی امی! تو میں بھی انھیں مارا کروں گی جیسے مما مجھے مارتی ہیں۔" (افف)

یا اللہ!! ابھی تو ہم "اپنے گھر" والی اصطلاح کو ہضم نہ کر پائے تھے کہ بی بی افلاطون اگلے پندرہ بیس سالوں بعد اس زمین پر قدم رنجہ فرمانے والی مخلوق پہ دستی حملوں کی منصوبہ بندی بھی کرنے لگیں....

اللہ خیر.. پانچ ساڑھے پانچ سال کی بچی آج تو حیران کرنے پر تلی تھی۔ ویسے تو بی بی سقراطن آئے دن کسی نہ کسی بات پر طبع آزمائی کرتی رہتی ہیں مگر یہ آج والی حرکت کچھ زیادہ ہی نرالی تھی۔ ہم نے ذرا تیکھی نظروں سے دیورانی کی طرف دیکھا تو وہ قہقہہ مار کے ہنس پڑیں..
"ارے بھابھی آپ کو نہیں پتا یہ بہت تیز ہو گئی ہے مریم کی بچی.. ہر ہر بات کو نوٹ کرتی ہے. اس نے تو پہرے بٹھا دیے ہیں ہم پر، بہت سوچ سمجھ کے بولنا پڑتا ہے اس کے سامنے۔"

"ٹھیک ہی کہہ رہی ہے وہ، کتنی بار سمجھایا ہے مت مارا کرو بچوں کو۔ چھوٹے بچے ہر بات نوٹ کرتے ہیں۔ اس نے بھی یہ سمجھ لیا ہے کہ بچوں کو مار پیٹ کرنا ضروری ہے جیسے باقی اور سب کام ہوتے ہیں." میں نے جواباً کہا ۔ "بھابھی آپ کو نہیں پتا نا یہ بچے تنگ کتنا کرتے ہیں۔ جب تک دو چار ہاتھ لگ نہ جائیں سکون سے بیٹھتے نہیں ہیں ایک طرف۔" دیورانی زچ ہو کر بولیں۔ کھانے کے بعد میں نے مریم کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا... "ہمممم! تو مما مارتی ہیں آپ کو؟" اُدھر سے بڑی معصومیت سے گردن اقرار میں ہلائی گئی۔

"اچھا.....! تو پھر اچھا لگتا ہے آپ کو جب مما آپ کو مارتی ہیں؟"

"مجھے بہت برا لگتا ہے تائی امی..!" سخت احتجاجی لہجے میں جواب آیا۔"تو بیٹا جی.. جب آپ اپنے بچوں کو ماریں گی تو انھیں بھی تو برا لگے گا نا...! بتاؤ، برا لگے گا نا..! جیسے آپ کو برا لگتا ہے۔" مریم کچھ دیر گہری نظروں سے مجھے دیکھتی رہی پھر بولی "جی تائی امی! انھیں بھی برا لگے گا جب میں ماروں گی تو... " انتہائی مدبرانہ تفکرانہ جواب تھا۔ مجھے اس کے انداز پہ ہنسی بھی آئی اور بھولی سی صورت پہ پیار بھی بہت آیا۔ "تو بیٹا اب سوچیں ذرا... جب انھیں برا لگے گا تو آپ پھر بھی انھیں ماریں گی؟" مریم نے شرارتی نظروں سے میری طرف دیکھا اور ایک دم کھلکھلا کے ہنس پڑی... پھر بولی... "نہیں ماروں گی، نہیں ماروں گی، میں اپنے بچوں کو بالکل نہیں ماروں گی تائی امی! انھیں برا لگے گا نا... اس لیے میں نہیں ماروں گی!" افف خدایا! ابھی جو خود معصوم سی بچی ہے اس کے منہ سے "میرے بچے" سن کر کیسا لگ رہا تھا یہ احساسات بتائے نہیں جا سکتے، بس یوں سمجھ لیں ممتا کے کلیجے پر کچھ بھاری پتھر سا آن گرا تھا۔ ہماری مریم کی باتوں پہ آپ حیران نہ ہوں، بہت آگے کی چیز ہیں۔ دماغ بہت تیز چلتا ہے اور تخمینے تو کیا غضب کے لگاتی ہیں۔ یہ پھر کسی تحریر میں بتائیں گے ان شاء اللہ۔ رات جب ہم واپس آنے لگے تو بڑے پیار سے کسی فلمی ہیرو کی طرح ہمارے ہاتھ کی پشت کو چوم کر فرمانے لگیں:

"تائی امی! رات کو یہی رکیں نا... ہمارے گھر پر سونا...!!"

"نہیں بیٹا آج نہیں رک سکتے، صبح بچوں کو اسکول جانا ہے!"

"اچھا جب دوبارہ آنا تو رکنا پھر... ہے نا تائی امی!!

"جی بیٹے ان شاء اللہ،"

خیر جناب آئندہ رات رکنے کے وعدوں ارادوں اور امیدوں پر جاں خلاصی ہوئی اور ہم اپنے گھر سدھارے۔ رخصت کرتے ہوئے بھی دروازے تک یقین دہانی کرواتی رہیں کہ وہ اپنے بچوں کو نہیں ماریں گی۔ رات سونے لیٹی تو مریم کی باتیں ذہن میں گونجتی رہیں. اور مجھے دور بہت دور اپنے بچپن میں لے گئیں۔ اپنے زمانے میں ہم بھی کسی سقراط بقراط سے کم نہ تھے. کبھی کسی بات پر اماں مار بیٹھتیں تو یہی سوچا کرتے کہ ناحق سزا دی۔ کیا تھا اگر پیار سے سمجھا دیتیں۔ ہم تو بچے ہیں، ہم نے کون سا دنیا دیکھی ہے. پہلے سے تھوڑا ہی سب کچھ جانتے ہیں۔ سب کچھ آہستہ آہستہ ہی سیکھیں گے اور نہیں تو کیا.!! اور اپنی ننھی سی ناک کو سکیڑ لیتے.!! گویا کچھ بھی ہوتا رہے دنیا میں، ہمیں کیا! ہم تو ٹھہرے معصوم بچے!! دنیا میں آنے سے پہلے آسمانوں پہ نہ جانے کہاں کس روپ میں رہتے تھے کہ کچھ بھی طور طریقے دنیا کے نہ سیکھے اور ایک دن یوں ہی کرہ ارضی پہ آن ٹپکے اور اب آئے دن کبھی اماں ابا، کبھی نانی دادی اور کبھی استانی جی کے ہاتھوں درگت بننے کے بعد عقل سیکھتے رہتے ہیں۔ پھر یوں ہی ایک دن ہم بھی بڑے ہو گئے اور بابل کی دعاؤں تلے پیا دیس سدھار گئے۔ وہاں جا کے جب والدہ ماجدہ کے عہدے پر فائز ہوئے تو پتا چلا کس بھاری لیکن دلفریب بوجھ تلے دب گئے ہیں۔ اولاد بھی اللہ تعالیٰ کا کتنا حسین دل نشین تحفہ ہے۔ زندگی کا سب سے خوب صورت اور دیدہ زیب رنگ۔ اور سارے رشتوں میں سب سے پیارا سب سے مضبوط رشتہ والدین اور اولاد کا ہوتا ہے۔ بس اسی وقت ایک اصول بنا لیا زندگی کا کہ اپنے بچوں کو بہت شفقت اور عزت و تکریم کے ساتھ پالنا ہے. کبھی ان کی بے عزتی نہیں کرنی، بے جا مار پیٹ نہیں کرنی۔ بچے ہی تو ماں باپ کے دل کا چین و قرار ہوتے ہیں۔ جب یہ خوش تو ماں باپ بھی خوش ۔

بچوں کی تربیت میں اعتدال بہت ضروری ہے۔ انھیں بے جا مارنا پیٹنا، بے عزتی کرنا، طعنے دینا بہت برا فعل ہے۔ بعض ماؤں کو دیکھا ہے کہ بچوں کو بہت بے دردی سے مارتی ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے بچوں کی شخصیت پہ بہت برا اثر پڑتا ہے۔ تادیب و تنبیہ کے لیے کبھی کبھار ڈانٹا اور مارا بھی جا سکتا ہے مگر وہ ایسی ظالمانہ مار نہیں ہونی چاہیے کہ بچوں کے اندر بغاوت اور انحراف پیدا ہو جائے. جہالت و شقاوت اور بد بختی کے گہرے گڑھوں میں گر جائیں۔ بچوں کو اس طرح مارنا کہ انھیں نشان پڑ جائیں، یا چہرے پر تھپڑ مارنا، یا چپلوں اور ٹھوکروں سے مارنا انتہائی ظالمانہ فعل ہے اور اس کی پوچھ ہوگی اللہ کے یہاں۔ یہ بچے ہمارے پاس اللہ کی امانت ہیں، ہماری ملکیت نہیں ہیں کہ جیسے چاہے سلوک کریں، کوئی پوچھنے والا نہیں!!

اللہ تعالیٰ نے والدین کے دلوں میں بچوں کے لیے پیار محبت اور رحم کا جذبہ رکھا ہے تاکہ بچوں کی بہترین تربیت اور اصلاح و پرورش کر سکیں ۔ ایک بار ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنے بچے کو بہت پیار کررہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا:

"کیا تمہیں اس بچے پر رحم آتا ہے؟"

انھوں نے جواب دیا کہ "جی ہاں،"

توآپ علیہ السلام نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے جو تم بچوں پر کررہے ہو اور وہ تو ارحم الراحمین ہے ۔"سبحان اللہ! کیا خوب صورت بات ہے اگر سوچا جائے تو انسان جتنی رحمت و شفقت اپنے بچوں پر کرتا ہے تو اس سے کہیں زیادہ خود کو اللہ کی رحمت و شفقت کا حق دار بنا لیتا ہے۔بچوں پر شفقت و رحم عطیہ ربانی ہے۔ اسلام ہمیں نرمی، خوش اخلاقی اور حسنِ معاملہ کی تلقین کرتا ہے. اگر ہم اپنے بچوں کو سیدھے راستے پر چلانا اور معاشرے میں با کردار دیکھنا چاہتے ہیں تو ان اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے. ہاں مگر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ شفقت و محبت میں اتنا تجاوز نہ کر لیا جائے کہ منکرات اور بری باتوں کی گرفت نہ رہے۔ بچوں کی لغویات اور بد تمیزی و نافرمانی کا بھی نوٹس نہ لیا جائے اور ہر چیز کو شفقت کے لبادے میں لپیٹ دیا جائے۔ دونوں چیزوں میں اعتدال انتہائی ضروری ہے۔ بے جا سختی کی طرح بے جا شفقت بھی بچوں پر ظلم کے مترادف ہے۔ مثلاً بچے اگر جھوٹ بولیں تو نظر انداز نہ کریں بلکہ پیار محبت سے تنبیہ کریں اور جھوٹ کی کراہت ان کے دل میں ڈالیں۔ بار بار جھوٹ بولیں تو ناراضی ظاہر کریں اور تھوڑی بہت سختی سے بھی تنبیہ کریں۔ سب سے اہم بات کہ بچوں کے اندر جو بھی کمی کوتاہی دیکھیں تو اس کے دور کرنے کے لیے رب سے خوب دعائیں مانگیں۔ اس کے علاوہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کے لیے اللہ تعالیٰ سے یہ قرآنی دعا بھی خوب مانگنی چاہیے :

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا.

"اے ہمارے رب! ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا دے."

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */