سائنس کے ذریعے خداکی معرفت - پروفیسر جمیل چودھری

ایک درخت جس کی جڑ کٹی ہوئی ہو۔اس کو زمین میں لگائیں توپہلے دن بہ ظاہر وہ ہرابھرا دکھائی دے گا۔مگراگلے ہی دن اس کی پتیاں مرجھانا شروع ہوجائیں گی۔یہاں تک کہ وہ سوکھ کرختم ہوجائے گا۔یہی حال موجودہ زمانے میں الحاد اورانکار مذہب کاہوا ہے۔ابتدا میں ایسا معلوم ہوتاتھا،گویامذہب کادور ختم ہوگیا ہے۔اوراب انسانی تاریخ ہمیشہ کے لئے لامذہبیت کے دورمیں داخل ہوگئی ہے۔مگرجلد ہی یہ خیالات بکھر گئے۔مذہب نئی طاقت کے ساتھ دوبارہ انسانی زندگی میں لوٹ آیا۔19ویں صدی کے آخر تک علمی دنیا میں اس چیز کا زورتھا۔جس کو علمی الحاد کیاجاتا ہے۔مگر20۔ویں صدی میں سائنس میں جونئی تحقیقات ہوئیں انہوں نے علمی الحاد کو بے زمین کرناشروع کردیا۔20۔ویں صدی کے آغاز میں سرجیمز جینز نے اعلان کیاتھا۔جدید سائنس نے جوکائنات دریافت کی ہے۔وہ مشینی توجیہ کو قبول کرنے سے انکار کررہی ہے۔اب20۔ویں صدی کے آخر میں نظریاتی طبیعت دانوں کی بڑی تعداد ایسی پیداہوگئی ہے جو کائنات کی تشریح ایسے انداز میں کررہی ہے جس کے مطابق خداکومانے بغیر کائنات کی تشریح ممکن نہیں۔21۔ویں صدی میں بھی کام آگے بڑھتا نظر آرہا ہے۔سٹیفن ہاکنگ کی کتاب A brief History of timeکے مطابق بگ بینگ(big bang)نظریہ کہتا ہے۔کہ کائنات اپنے آغاز سے اب تک ایک خاص رفتار سے پھیل رہی ہے۔سٹیفن ہاکنگ نے بتایا کہ کائنات کے پھیلنے کاعمل نہایت سوچاسمجھا ہے۔

توسیع کی ابتدائی رفتار حد درجہ صحت کے ساتھ مقرر کی گئی ہے۔کیونکہ توسیع کی یہ ابتدائی رفتار حددرجہ صحت کے ساتھ مقرر کی گئی ہے۔کیونکہ توسیع کی یہ رفتار اس نازک رفتار کے بالکل قریب ہے۔جوکائنات کودوبارہ انہدام سے بچانے کے لئے ضروری ہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ اگربگ بینگ کاماڈل درست ہے اور اسی سے وقت کا آغاز ہوا ہے توکائنات کی ابتدائی حالت حددرجہ احتیاط کے ساتھ منتخب کی گئی ہوگی۔اگرایسا نہ ہوتا تو کائنات اب تک پھٹ کرختم ہوچکی ہوتی۔اس ظاہرے کی کوئی توجیہ نہیں کی جاسکتی جب تک یہ نہ مانا جائے کہ کائنات کی توسیع کی شرح رفتار حددرجہ احتیاط کے ساتھ منتخب کی گئی ہے۔ہاکنگ نے اس قسم کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا ہے۔کہ کائنات کیوں ٹھیک اس انداز پر شروع ہوئی۔اس کاجواب انتہائی مشکل ہوگا۔سوائے اس کے یہ ماناجائے کہ یہ خدا کاعمل ہے۔جس نے چاہا کہ وہ ہماری جیسی مخلوق کویہاں پیداکرے۔کائنات کی ایک حیرت ناک صفت یہ ہے کہ وہ خدائی تعبیر کے سواکسی اور تعبیر کوقبول نہیں کرتی ۔کائنات ایک معلوم اورمشہور واقعہ ہے۔اسکے وجود سے انکار ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہرزمانے میں ذہین ترین دماغ اس کی تشریح وتعبیر میں مصروف رہے ہیں۔کسی نے کہا کہ اسباب وعلل کا ایک سلسلہ ہے۔کسی نے کہا کہ کائنات قدیم ہے اورایسے ہی ہے کسی نے اصول ارتقاء کوکائنات کاخالق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔مگر خود انسانی معلومات ان تمام تشریحات وتوجیہات کوردکرتی ہیں۔کائنات کے نظام کے بارے میں انسان جتنا زیادہ واقفیت حاصل کرتا ہے اتنا ہی زیادہ یہ بات بے معنی معلوم ہوتی ہے کہ اس کائنات کاخالق ومالک ایک خدا کے سوا کوئی اورہو کائنات اپنے وجود کے ساتھ یہ گواہی دیتی ہے کہ اس کاخالق خدا ہے۔

خداکے سوا کسی اور کوکائنات کاخالق بنانا صرف ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔جس کے حق میں کوئی حقیقی ثبوت موجود نہیں ہے۔جتنے دعوے یانظریے پیش کئے گئے وہ خود علم انسانی کی روشنی میں غلط اوربے بنیاد ثابت ہوگئے۔انسان کی تخلیق کامقصد قرآن میں ایسے بتایاگیا ہے۔"میں نے جن اورانسان کوصرف اس لئے پیدا کیاکہ وہ میری عبادت کریں"اﷲکی عبادت کرنے مقصد اﷲ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔اس معرفت کاتعلق انسان سے ہے۔انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیداکیاگیا ہے۔انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے۔کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ کی صلاحیت ہے۔انسان کے لئے معرفت کاتعین اسی بنیاد پرکیاجائے گا۔اس اعتبار سے انسان کے لئے معرفت کامعیار خود دریافت کردہ معرفت ہے۔یہی انسان کااصل امتحان ہے۔انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ سوچنے کی طاقت کوDevelopکرے۔یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوجائے کہ وہSelf Discoveryکی سطح پراپنے خالق کودریافت کرے۔اس دریافت کے2۔درجے ہیں۔پہلادرجہ ہے کامن سنس کی سطح پر اپنے خالق کودریافت کرنا۔اوردوسرا درجہ ہے سائنس کی سطح پراپنے خالق کودریافت کرنا۔پچھلے ہزاروں سال سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنے کامن سنس کوبے آمیز انداز میں استعمال کرے۔اوراپنی فطرت کوپوری طرح بیدار کرے۔

اس طرح وہ اس قابل ہوجائے گا۔کہ وہ کامن سنس کی سطح پراپنے خالق کی شعوری معرفت حاصل کرے۔اس دریافت کی صرف ایک شرط تھی اوروہ ہے ایمانداری۔اگرآدمی کامل ایمانداری کی سطح پرجینے والاہو تویقینی طورپر کامن سنس اس کے لئے اپنے خالق کی دریافت کے لئے کافی ہوگی۔معرفت کی دوسری سطح سائنٹفک معرفت ہے۔یعنی فطرت میں چھپی ہوئی نشانیوں کوجاننا۔اوران کی مدد سے اپنے خالق کی عقلی معرفت تک پہنچنا۔سائنٹفک معرفت کے لئے ضروری تھا۔کہ آدمی کے پاس غوروفکرکے لئے سائنس کا سپورٹنگ ڈیٹا موجود ہو۔اس سائینٹفک ڈیٹا کے حصول کاواحد ذریعہ قوانین فطرت کاعلم ہے۔قدیم زمانے میں انسان کوقوانین فطرت کاعلم نہ تھا۔اس لئے خالق کی سائنسی معرفت بھی ممکن نہ ہوسکی۔خالق کی ایک سنت یہ ہے کہ وہ انسانی تاریخ کو Manageکرتا ہے۔یعنی انسانی آزادی کوبرقرار رکھتے ہوئے انسان کومنصوبہ تخلیق کے مطابق مطلوب حالت تک پہنچاتا ہے۔خالق اپنا یہ کام انسانی آزادی کومنسوخ کئے بغیر انجام دیتا ہے۔ہمارا کام اس منصوبہ بندی کوسمجھنا ہے اور اس کوخالق کائنات ہی اپنی برترطاقت کے ذریعے انجام دے سکتا ہے۔ہماراکام اس منصوبہ بندی کوسمجھنا ہے۔نہ کہ اس کے کورس کو بدلنے کی کوشش کرنا۔کیونکہ وہ ممکن ہی نہیں۔قرآن کے ذریعے اﷲتعالیٰ نے باربار اہل ایمان کوبتایاتھا کہ کائنات انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہے۔تم ان تسخیری قوتوں کودریافت کروتاکہ تم معروف کے اس درجے تک پہنچ سکوجس کوسائنسی معرفت کہاجاتا ہے۔

مگر اہل ایمان اس کام کو کرنے میں عاجز ثابت ہوئے۔مسلمان تھوڑا عرصہ اس کام کوابتدائی شکل میں کرتے رہے۔اس کے بعد اﷲ نے اپنی سنت کے مطابق ایک اورقوم کوکھڑا کردیا یہ یورپ کی مسیحی قوم تھی۔ایسااس طرح ہوا کہ صلیبی جنگوں میں یورپ کی مسیحی قوم کو اتنی سخت شکست ہوئی کہ بہ ظاہر ان کے لئے جنگ کا آپشن باقی نہ رہا۔اب عملاً ان کے لئے کوئی چارہ نہ تھا۔کہ وہ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کریں۔اوراپنی کوشش کسی دوسرے میدان میں جاری رکھیں۔چنانچہ انہوں نے میدان جنگ کی بجائے قوانین فطرت کے دریافت کی طرف بتدریج رخ موڑلیا۔اٹلی کے سائنسدان گلیلیو کوجدیدسائنس کاباواآدم کہاجاتا ہے۔اس کاسبب یہ ہے کہ وہ پہلاسائنسدان تھاجس سے ماڈرن سائنس کاسفر باقاعدہ طورپر شروع ہوا۔یہ عمل تقریباً4سوسال تک باقاعدہ جاری رہا۔یہاں تک کہ وہ20۔ویں صدی میں کافی حد تک کامیابی کے قریب پہنچ گیا۔20۔ویں صدی میں انسان کو وہ تمام سائنٹفک ڈیٹا حاصل ہوگئے جوخالق کوسائنسی سطح پر دریافت کرنے کے لئے ضروری تھے۔21۔ویں صدی میں یہ سفر مزید تیزی سے آگے بڑھ رہاہے۔مریخ پرآباد کاری اس نئی صدی کی بڑی کامیابی نظرآرہی ہے۔یہ زمین کے بعد دوسرا سیارہ انسانوں سے آباد ہوتانظر آرہا ہے۔اﷲ نے جس عالم کو تخلیق کیااس کے ہرجزو پر خالق کی شہادت ثبت ہے پھر اس نے اس علم سے فرشتوں کوواقف کررہا۔

اس کے بعد اس نے اس حقیقت کوچھپے طورپر اس کائنات میں رکھ دیا۔جس کو انسان خود سے دریافت کرسکتاتھا۔یہی وہ چھپی ہوئی حقیقت ہے جودریافت کے بعد ماڈرن سائنس کے نام سے جانی جاتی ہے۔سائنس دراصل ایک منظم علم کانام ہے۔سائنس سے مراد وہ علم ہے جس میں کائنات کامطالعہ موضوعی طورپر ثابت شدہ اصولوں کی روشنی میں کیاجاتا ہے۔کائنات کی حقیقت کے بارے انسان ہمیشہ غوروفکرکرتا رہاہے۔سب سے پہلے روایتی عقائد کی روشنی میں اس کے بعد فلسفیانہ طرز فکر کی روشنی میں اورپھر سائنس کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں سائنس کاموضوع کائنات کامطالعہ ہے تقریباً4سوسال کے مطالعہ کے ذریعے سائنس نے جودنیا دریافت کی ہے۔وہ استنباط کے اصول پر خالق کے وجود کی گواہی ہے۔لیکن قدیم زمانے میں غالباً کسی سائنسدان نے کھلے طورپر خداکے وجود کااقرار نہیں کیا ہے۔ان کے بارے یہی کہا جاسکتا ہے۔کہ البرٹ آئن سٹائن کی طرح ان کا کیس کھلے طورپر خدا کے انکار کاکیس نہیں ہے۔بلکہ ان کا کیس لاادری کاکیس ہے۔طبیعاتی سائنس کے میدان میں پچھلی 4۔صدیوں میں3۔انقلابی ڈویلپمنٹ پیش آئے ہیں۔اول برٹش سائنسدان نیوٹن کامفروضہ کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ"مادہ"ہے۔اسکے بعد20۔ویں صدی کے آغاز میں جرمن سائنسدان آئن سٹائن کایہ نظریہ سامنے آیا کہ کائنات کی تعمیری اینٹ توانائی ہے۔اوراب ہم آخر میں امریکی سائنسدان ڈیوڈ بام کے نظریاتی دور میں ہیں۔جب کہ سائنسدانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد یہ مان رہی ہے کہ کائنات کی بنیادی تعمیری اینٹ"شعور" ہے۔یہ تبدیلیاں لازمی طورپر ایک فلسفہ کوجنم دیتی ہیں۔جب کہ فلسفہ مادیت سے گزر کرروحانیت تک پہنچ گیا ہے۔وہ دور جس کوسائنسی دورکہا جاتا ہے۔

اس کاآغاز تقریباً 100سال پہلے مغربی یورپ میں ہوا۔دھیرے دھیرے عمومی طورپریہ تاثر بن گیا۔کہ سائنس حقیقت کوجاننے کاسب سے اعلیٰ ذریعہ ہے۔جوبات سائنس سے ثابت ہوجائے وہی حقیقت ہے۔جوبات سائنسی اصولوں سے ثابت نہ ہو وہ حقیقت بھی نہیں ہے۔ابتدائی صدیوں میں سائنس خالص مادی علم کے ہم معنی بن گیا۔چونکہ مذہبی حقیقتیں مادی معیار استدلال پر بظاہر ثابت نہیں ہوتی تھیں۔اس لئے مذہبی حقیقتوں کوغیر علمی قرار دے دیاگیا۔لیکن علم سائنس کادریامسلسل آگے بڑھتا رہا۔یہاں تک کہ وہ وقت آیا۔جب کہ خود سائنس مادی علم کی بجائے عملاً غیرمادی علم بن گیا۔پچھلی چند صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقاء کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی جو عالمی سطح پرمسلمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی۔پھر اس میں مزید ارتقاء ہوا۔اورآخرکارسائنس ایک ایسا علم بن گیا۔جومسلمہ عقلی بنیاد پریہ ثابت کررہاتھا کہ کائنات ایک بالاتر شعور کی کارفرمائی ہے۔ایک سائنسدان نے کہا"کائنات کامادہ ایک ذہن ہے" 1927میں بلجیم کے ایک سائنسدان جارجز لیمسٹری نے بگ بینگ کانظریہ پیش کیا۔اس نظریے پرمزید تحقیق ہوتی رہی۔یہاں تک کہ اس کی حیثیت ایک مسلمہ واقعہ کی ہوگئی۔آخر کار 1965ء میں"بیک گراونڈ ریڈایشن"کی دریافت ہوئی۔اس سے یہ معلوم ہوا کہ کائنات کی بالائی خلاء میں ہردار سطح پائی جاتی ہے۔یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ان لہروں کودیکھ کر ایک امریکی سائنسدان جوئل پرائمک نے کہاتھا کہ یہ لہریں خداکے ہاتھ کی تحریر ہیں۔چارج سمورٹ1945ء میں پیداہوا۔وہ ایک امریکی سائنسدان ہے۔اس نے فزکس میں2006ء میں انعام لیا۔یہ انعام ان"کا سمک بیک گراونڈ ایکسپلورر"کے لئے کام کرنے پر دیاگیا۔

1992ء میں جارج سمورٹ نے یہ اعلان کیاکہ بالائی خلاء میں لہردار سطحیں پائی جاتی ہیں۔یہ بگ بینگ کی باقیات ہیں۔اس وقت جارج سمورٹ نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیاتھا۔"یہ خدا کے چہرے کودیکھنے کی مانند ہے"اس طرح سائنس کامطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزاء آپس میں بے حد مربوط ہیں۔اوران کے درمیان ایک انتہائی فائن ٹیوننگ پائی جاتی ہے۔کوانٹم فزکس کے نظریے کواگراس معاملے پرمنطبق کیاجائے تویہ کہاجاسکتا ہے''Probably,there is a God''یہ خالص سائنٹفک موقف ہے ۔لیکن جہاں تک انسان کے وجدان کاتعلق ہے اس کی سطح پرخدا کاوجود اتنا ہی یقینی ہے جتنا کہ انسان کاوجود۔جب یہ بات ثابت ہوجائے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم ذہن کی کارمائی ہے۔کائنات کے اندر جو معنویت ہے جومنصوبہ بندی ہے۔جوبے نقص ذیزائن ہے۔وہ حیرت انگیز طورپر ایک اعلیٰ ذہن کے وجود کوبتاتا ہے۔کائنات میں بے شمار اشیاء ہیں لیکن ہرچیز اپنے فائنل ماڈل پرہے۔کائنات میں حسابی درستگی اتنے زیادہ اعلیٰ معیار پرپائی جاتی ہے کہ ایک سائنسدان نے کہا کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن(Mathematical Mind)کی موجودگی کاپتہ دیتی ہے۔اس موضوع پراب بہت زیادہ لٹریچر تیارہو چکا ہے۔جس کو انٹرنیٹ پردیکھا جاسکتا ہے۔

کائنات میں ذہین ذیزائن ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارا سولرسسٹم جس میںہماری زمین واقع ہے وہ ایک بڑی کہکشاں کاایک حصہ ہے۔لیکن ہمارا شمسی نظام کہکشاں کے بیچ میں نہیں ہے بلکہ اس کے کنارے پرہے۔اس بنا پر ہمارے لئے ممکن ہے کہ ہم محفوظ طورپر زندگی گزاریںاور یہاں تہذیب کی تعمیر کریں۔اس حکیمانہ واقعہ کااشارہ قرآن میں موجود تھا۔مگرموجودہ زمانے میں سائنسی مطالعہ کے ذریعے اس کی تفصیلات معلوم ہوئیں جوگویا قرآنی اجمال بیان کی تفسیر ہے۔جب علم کادریا یہاں تک پہنچ جائے تو اس کے بعد صرف یہ کام باقی رہ جاتا ہے ۔کہ اس دریافت کردہ شعور یااس ذہن کومذہبی اصلاح کے مطابق خداکانام دے دیا جائے۔ایک ریاضیاتی ذہنMathematical Mindکی موجودگی کااشارہ کرتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */