کل کے حکمران - معاذ معروف

خلیفۃ المسلمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت المال میں مالِ صدقات کی ترتیب وتقسیم میں مشغول تھے کہ اس دوران ایک شخص شکایت لیکر حاضر ہوئے، مصروفیت کی بناء پر آپ نے انکی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اپنے کام میں مشغول رہے البتہ وہ شخص بار بار اپنی جانب توجہ مبذول کرانے کی خاطر اے عمر! اے عمر! کہہ کر توجہ طلب نظروں سے انہیں دیکھتے رہے لیکن آپ نے فرض منصبی کی ادائیگی میں خلل انداز ہونے کی وجہ سے انکو کوئی جواب نہیں دیا، چونکہ جلال فطرتا آپ کی سرشت میں خمیر کی مانند گندھا ہوا تھا بالآخر تنگ آکر آپ نے پاس رکھے درے سے اسکے سر پہ دے مارا، جسکی بناء پر وہ شخص مغموم و پریشان ہوکر واپسی کی راہ لئے چلا گیا انکے جاتے ہی آپ رضی اللہ عنہ ایک حساس انسان اور ایک عہدہ شناس و ذمہ دار حاکم کی حیثیت سے اپنے کئے پر سخت رنجیدہ و افسردہ ہوئے اور فورا حکم صادر فرمایا کہ اس شخص کو فورا میرے پاس حاضر کیا جائے امیر المؤمنین کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے وہ دوبارہ حاضر ہوئے انکے آتے ہی آپ نے انکے آگے اپنا سرمبارک خم کرکے ہاتھ میں چھڑی تھماتے کہا کہ یہ لو اور لو اپنا بدلہ ! یہ وقت کے خلیفہ، امیر المؤمنینِ زمانہ، مراد پیغمبر، جنکے جلال کی لاج پیغمبر نے بھی رکھی، جنکی رائے کی تصویب کی خاطر رب کریم نے آیتیں اتار کر اسے اپنے ازلی و آخری کتاب کا حصہ بنایا، ایک عام شخص کے سامنے اپنا سر جھکا کر اسکو بدلہ لینے کا کہہ رہے ییں اور آگے سے اس شخص کا جواب دیکھئے کہتے ہیں کہ نہیں !

میں تو اپنا بدلہ آخرت کے لئے چھوڑ رہا ہوں وہاں دیکھیں گے اب تو میں نہ کچھ کہونگا اور نہ ہی کچھ کرونگا، جواب جس کے سامنے دیا جارہا ہے وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں جنکے سامنے اس جرات کا اظہار کیا جارہا ہے خود انکے وقار و دبدبہ کے بارے میں آپؐ فرماتے ہیں: شیطان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سائے سے بھاگتا ہے، ایک اور مقام پر فرمایا: اے عمر ! جس راستے پر تم چل رہے ہو تو شیطان اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر بھاگ جاتا ہے، انکے اس جواب میں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے جیل کی سلاخوں کو تیار کیا ہوگا یا انکو سزا دینے کے لئے عصا منگوائی ہوگی تاکہ ان کو زد و کوب کرے کہ جسکی وجہ سے وہ شخص معاشرے میں امیر کا نافرمان اور سزا یافتہ کہلائے اور بد نام کیا جائے، نہیں ہر گز نہیں بلکہ آپ اس شخص کے دامن سے چمٹ کر روتے چلاتے رہے اور پکار پکار کر فریاد کرنے لگے اے آدمی ! میں نے اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے معافی کا مطالبہ کیا ہے مجھے معاف کردیں، مجھے معاف کردیں الحاح و زاری کی انتہاء دیکھ کر اس شخص نے تین دفعہ کہا "عمر! میں نے تجھے معاف کردیا" پھر روتے ہوئے عمر رضی اللہ اپنی ذات کو مخاطب کرکے بارگاہ الہی میں التجا کرتے ہوئے گویا ہوئے : افسوس ہے تم پر اے عمر! کل کو تم پست ترین لوگوں میں سے تھے اللہ نے تجھے بلند ترین لوگوں میں سے بنایا، اس سے پہلے تم گمراہ ترین لوگوں میں سے تھے آج کے دن تم ہدایت یافتاؤں میں سے ہو، اور جب تمہارے ناتواں کندھوں پہ رعایا کی بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی تو شکایت لیکر آنے والے کو دھتکار کر بھگاتے ہو قیامت کے دن اپنے رب کو کیا جواب دوگے ؟

یہ تھے ہمارے کل کے حکمران کہ جن کے رعب و داب کے سامنے تمام کی تمام باطل قوتیں خوف و پریشانی کے سبب پر نہیں مار سکتے تھے، جنکی شان و شوکت اور دشمن پر یلغار کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا باوجود اسکے اپنے منصب کا غلط فائدہ اٹھا کر کسی کا حق نہیں دبایا، غلطی کرکے اس پر معافی مانگنے کو عار نہیں سمجھا، اپنی رعایا کی خاطر جانوں کو داؤ پہ لگائی مگر انکی جان ہاتھ سے جانے نہ دی، خشیت الہی کے سبب کوئی گھڑی اپنے رب کی یاد سے غافل نہ رہے اور دوسری طرف ہمارے آج کے صاحب منصب و مسند جو قرآنی احکامات اور نبوی تعلیمات سے بے بہرہ ہیں جنکی رگ رگ میں نخوت وغرور خون کے قطروں کی طرح دوڑتا ہے، اپنی رعایا سے معافی تو کجا انکو باقاعدہ کسی کیس میں پھنسا کر، ایف آر کٹوا کر زندگی بھر کورٹ اور جیلوں کے چکروں میں پھنسا کر جینا دو بھر کردیتے ہیں، اپنی رعایا کے ساتھ ہمدردی کو شادی کی خوشی میں شریک ہوکر اور کسی کی وفات کے غم میں نماز جنازہ پڑھ کر میں تقسیم کرکے بند کردیا ہے، چند مخصوص افراد پر اپنی مہربانیاں نچھاور کرکے باقی افراد کو حقارت بھری نگاہوں سے دیکھ کر نظر انداز کرکے اسکو رسوا ہوتا دیکھ کر بتیسیاں نکالنا تو گویاکہ فیشن بن چکا ہے،اسکے علاوہ دیگر بہت ساری خرابیاں اور کوتاہیاں ہیں کہ جنکی وجہ سے ہمارے حکمران اور کرسی نشین ہر گذرتے دن کے ساتھ اپنا وقار اور عزت کھوکر تضحیک و تمسخر کا نشانہ بنتے جارہے ہیں جو یقینا خلفاء اربعہ و دیگر کی زندگیوں سے بے خبری کا نتیجہ ہے، جو امۃ مسلمہ کی موجودہ قیادت کے لئے چاہے نیچے کی سطح کا ہو یا اوپر کی سطح کا ہر ایک کے لئے کسی المیہ سے کم نہیں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */