جلتا سلگتا کشمیر‎ - گل رخ

مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا ناجائز قبضہ، لاگ ڈاؤن کے 17 مہنے ، خوراک وادویات کی قلتوادی میں بھوک، افلاس کے ڈیرے، چاروں طرف موت کے اندھیرے ، انٹر نیٹ سروس معطل جس کا مطلب یہ ہوا کہ کشمیر یوں اندرونی و بیرونی دنی سے رابطہ منقطع، دس ہزار سے زائد کشمیر ی پابندسالا سال اعلی کشمیر سیاسی شخصیتیں نظر بند۔روزانہ تین کشمیری نوجوانوں کی شہادت یہ ہیں وہ حقائق جو اقوام عالم پر عیاں ہوچکےہیں۔

مگرحیرانی تو نہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ یورپی یونین امریکہ اور بر طانیہ اس مسلے سے مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔کیونکہ مسلہ ایک ریاست کا ہےاقوام متحدہ جو عالمی مسلے کے تحت وجود میں لائ گی مسلہ کشمیر پراس کا اغماض حیران کن ہے حالانکہ بھارت خوداس مسلہ کواقوام متحدہ میں لے جاچکا ہے۔اور مسلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق ہی حل ہونا تھا۔لیکن جناب یہ ارادہ تو وجود میں لایا ہی نہیں گیا۔یہویوں اور نصاری کو فائدہ پہچانے کے لیے عالمی امن کے ٹھیکیدار امریکہ اور بر طانیہ جو مسلمان ملکوں کو تہس نہس کرنے کے لیے preemtive strike پیشگی حملے کی اصطلاح گھڑ کے افغانستان اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا چکے ہیں۔ امریکہ نے ٹوئن ٹاور پر حملوں کا الزام طالبان کے سر تھوپ کر افغانستان میں لاکھوں افۼانیوں کو موت کی گھاٹ اتارا اسی امریکہ نے اور برطانیہ نے عراق پر ایٹیمی ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹا الزام لگاکر لاگھوں عراقیوں کو موت ک6 گھاٽ اتارا حالانکہ عراق میں ایٹمی ہتھیار نہ تھے۔اب بھارت کے اس اقدام پر سب مۼربی ممالک پاکستان کو افہام و تفہم سے کام لینے کو کہ رہےہیں۔

اور اس مسلے کو مزاکرات کہ زریعے حل کرنے کا کہ رہے ہیں اقوام متحدہ اور مغربی ممالک نے ابھی تک اس مسلے پر تشویش کا اظہار ہی کیا ہے اس زیادہ انھوں نے کھچ نہیں کیا ۔دراصل معاشی اور تجارتی مفادات نے ان ممالک کے لب سی رکھے ہیں ادھر بھارت مقبوضہ کشمیر کی 1 کروڑ کی آبادی پر نو لاکھ فوجی مسلط کر کے یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کی آزادی کی خواہش کو بزور طاقت دبا دے گا تو یہ اسکی خام خیالی ہے مقبوضہ کشمیرمیں ہر دس کشمیریوںپر ایک بھاتی فوجی بندوق تانے کھڑا ہے لیکن بھارت ہی یاد رکھے کہ اس اقدام نے مقبوضہ کشمیر کہ ہر کشمیری کے سینے میں آتش فشاں کو دہکادیا ہے۔جس دن یہ آتش بھڑکے گا اپنی لپیٹ میں ساری فوج کو لے لےگا۔آزادی اور شہادت کی تمنا کرنے والے بہادر کشمیر ی موت اور فوج سے کب درتے ہیں۔اس سلسلے میں یہ بھی واضح کرنا چاہہونگی کہ یہ مسلہ کھبی بھی مذاکرات سےحل نہیں ہوگا کیونکہ ہندو بنیا اتنا سیدھا نہیں ہے۔ کہ مذاکرات کے لولی پاپ سے بہل کر کشمیر کو پلیٹ میں سجا کر پاکستان کے حوالے کردے پاکستان کو بزور طاقت بھارت سے کشمیر چھینا پڑے گا۔ یعنی کشمیر جنگ یا جہاد کے زدیعے ہی حاصل ہوگا۔میں اس سلسلے میں موجودہ حکومت کی کشمیر کے سلسلے کی کاوشوں کو بھی سراہنا چاہونگی۔کیونکہ سابق حکومتوں نے کشمیر کاز کے لیے کوئ خاطر خواہکام نہیں کیا۔

اور غدار وطن مشرف نے تو کشمیر کی آزادی کی تحریک کو اور مجاہدین کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔وزیراعظم عمران خان کی کوششوں سے مسلہ کشمیرکو عالم اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسلہ کشمیر کو عالم اقوامکے سامنے پیش کر کے اسے زندہ کردیا۔ اس سلسلے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی مسلسل متحرک رہے ہیں۔آخیر میں یہ کہونگی کہ ظلم جب حد سے بڑ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے کشمیر میں بھی آزادی کا سورج طلوع ہوگا آزمائشوں اور ابتلا کا یہ دور ان شاء اللہ جلد ختم ہوگا اور کشمیر ی آزاد فضا میں سانس لیں گے دیکھنا یہ ہے کہ آزادی کا سہرا کس کے سر پر بندھتا ہے پاک فوج کے یامجاہدین کے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */