دوئی کے رنگ بڑھائیں نہیں کم کریں - حبیب الرحمن

خیال تھا کہ دو پاکستان کا تصور ختم ہو جائے۔ ہر قسم کی تفریق مٹ جائے گی۔امیر صرف اپنی امارت کی وجہ سے مراعات کا حق دار نہ بن سکےگا اور غریب محض اس لئے محروم نہیں رہ جائے گا کہ وہ غریب ہے۔کوئی طاقتور اپنی طاقت کی وجہ سے کسی پر کچھ بھی برتری نہیں رکھ سکےگا اور کمزور محض لاغر ہونے کی وجہ سے کسی طاقت کے شکنجے میں نہیں کسا جا سکے گا۔ غرض جتنے بھی خواب تھے وہ سب کے سب آہستہ آہستہ صرف خواب ہی بنتے جا رہے ہیں اور گزشتہ ادوار سے کہیں زیادہ بڑھ کر سماجی امتیازات اور دوریاں بڑھتی جا رہی ہے۔

پچھلوں کے دور حکومت میں یہ امتیاز نظامِ انصاف میں ہی زیادہ نظر آیا کرتا تھا جہاں کسی کو ایک ہی قتل اور وہ بھی ایسا قتل جس میں ابہام در ابہام موجود ہوں،اس کو عدالتیں یقین میں بدل کر سزائے موت سنا دیا کرتیں تھیں لیکن اب عالم یہ ہے کہ 97 قتل کرنے والا ہو یا پورے کراچی کو خرخشے میں ڈال کر پاکستان سے باہر ایرانی پاسپورٹ پر بھاگ جانے والا ایسا قاتل جس کو انٹر پول کی مدد سے ملک کی اعلیٰ ترین ایجنسیوں کے ذریعے گرفتار کیا گیا ہو، تمام جرائم سے پاک در پاک ہوتا جا رہا ہے اور کوئی بعید نہیں کہ چند دنوں بعد ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ اور مضبوط ترین ادارے اسے باقائدہ کراچی میں قتل و غارت گری کا مستند اجازت نامہ حوالے کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر وہی حالات پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں جن حالات سے کراچی کئی دھائیوں سے گزرتا چلا آ رہا ہے۔

یہ تو وہ صورت حال تھی جو صرف نظام انصاف کی خرابی تک ہی محدود تھی لیکن لگتا ہے کہ اب دوئی کا رنگ اپنا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرتا چلا جا رہا ہےاور پاکستان کے تمام ادارے آہستہ آہستہ اس کی لپیٹ میں آتے جا رہے ہیں۔اب تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ پاکستان کا شاید ہی کوئی شعبہ زندگی ایسا باقی بچ سکے جہاں دوہرا معیار کار کردگی یا سوچیں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کامیاب نہ ہو سکیں۔ایک ریاست کے متعدد محکمے، ادارے اور شعبے ہوا کرتے ہیں جن کی مضبوطی اور استحکام ایک مستحکم اور خوشحال ریاست کی ضمانت ہوتے ہیں۔

ان میں سے چند شعبے تو کسی بھی قسم کی کمزوری یا خراب کار کردگی دکھانے کے متحمل کسی صورت نہیں ہو سکتے۔ان میں جہاں داخلہ و خارجہ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں وہیں دفاع بھی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ ادارے کسی صورت "دو" آرا یا "دو" سوچیں برداشت نہیں کر سکتے۔داخ لی امور جہاں ملک کی امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کیلئے بے حد ضروری ہوتے ہیں وہیں خارجی معاملات میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا شش و پنج کی کیفیت دنیا سے کمزور تعلقات رکھنے کی صورت میں ریاست کیلئے مسائل کھڑی کر سکتی ہے۔ داخلی اور خارجی معاملات کا غیر مستحکم ہونا ریاست کی دفاع کو کسی بھی لمحے ہلا کر رکھ سکتا ہے۔

دو تین دھائیوں کی اکھاڑ پچھاڑ کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان کے داخلے اور خارجی محاذ اندرونی محاذ آرائیوں کی وجہ سے ریاست کیلئے ہر آنے والے دنوں کے ساتھ مسائل میں اضافہ در اضافہ کرتے چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے دفائی ادارے شدید مشکلات کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے خارجی سطح پر جو بھی تعلقات ہیں وہ شدید کشمکش کا شکار ہیں۔ اس الجھن کی شاید وجہ یہ ہو کہ ذہنی طور پر ہمارے حکمران ہوں، دفاعی ادراے ہوں یا ملک کے عوام، سب ہی اس الجھن کا شکار ہیں کہ ہمیں کن ممالک سے بہت قریبی اور کن ممالک کے ساتھ محتاط تعلقات رکھنے میں فائدہ ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان گزشتہ 73 برس گرز جانے کے باوجود بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔اب عالمی دباؤ ہو یا ممکن ہے کہ صاحبان اقتدار و اختیار کی نظر میں اسرائیل کو تسلیم کر لینے میں پاکستان کے مفادات ہوں، عوامی رائے بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اسرائیل ہو یا پاکستان کی اقلیت "قادیانی"، ان کی قربت کو پاکستان کے 99 فیصد سے بھی کہیں زیادہ عوام ایسا کرنے یا ماننے کیلئے تیار نہیں۔ اسی طرح پاک امریکا اور پاکستان اور چین کے تعلقات میں بھی کئی ایسی پیچیدگیاں ہیں جس کو عالمی اور اندرونی سطح پر کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ ملک کے اندر کے معاملات ہوں یا ان کا تعلق خارجی مسائل سے ہو، ان دونوں کے بیچ اگر کہیں بھی کوئی الجھاؤ آ جائے تو ان کا اثر دفاعی امور پر لازماً پڑتا ہے۔

ان تمام حالات کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ پاکستان آج کل نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے اور اگر اس بھنور سے وہ اپنے آپ کو جلد نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکا تو ملک کا مستقبل شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔جیسا کہ بیان کیا گیا کہ پاکستان میں نظامِ عدل و انصاف تک محدود رہنے والا دوئی کے رنگ کا دائرہ اب ملک کے دیگر حساس اداروں اور محکموں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتا چلا جارہا ہے تو اس کی جھلک پاک چین اور امریکا و پاکستان کے درمیان تعلقات میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے حساس ادارے اور محکمے اس سلسلے میں ذہنی تناؤ کا شکار ہیں اور یہ ذہنی کشمکش ریاست پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹیوں سے کم نہیں۔

لگتا ہے کہ ریاست صرف اداروں اور محکموں میں ہی نہیں، اپنے تمام شعبوں میں آرا کے ٹکراؤ کا شکار ہےاور یہ ٹکراؤ آنے والے ماہ سال میں ریاست کیلئے مشکلات میں اضافے در اضافے کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہر قسم کے فروعی اختلافات سے صرف نظر کرتے ہوئے، نہ صرف پورا پاکستان اپنی تمام تر توجہ خارجی و داخلی معاملات پر مرکوز کرے بلکہ شعبوں اور اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے 22کروڑ عوام کو بھی ہم رنگ و ہم خیال بنانے کا آغاز کرے ورنہ پاکستان کا مستقبل کئی مصائب کا شکار ہو سکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */