شہید عظیم بلوچ‎ - رمشاجاوید

عظیم بلوچ شہید ہمارے عہد کے ایک ایسے انتھک ساتھی تھے جو مسلسل دین کی خدمت میں مصروف عمل رہے۔ انہیں خدا نے اپنی رحمت سے اتنا خاص کردیا تھا کہ وہ بغیر تھکے خدمت خلق میں لگے رہتے تھے اللہ تبارک و تعالی انکی قبر کو نور سے بھردے ' انکے درجات بلند فرمائے اور انکے بچوں کو وہ مقام عطافرمائے جو عظیم بھائی کے پیش نظر تھا۔آج ان کو ہم سے بچھڑے ایک سال ہوگیا اور اس ایک سال میں جہاں کہیں بھی انکا زکر سنا اس میں ایک جملہ بھی ایسا نہ تھا جس میں کسی کو عظیم بھائی سے معمولی سا بھی شکوہ ہو یا بےتوجہی اور رویے کی سختی کی شکایت ہو۔ ہر فرد انکے کردار ، محبت اور خلوص کی گواہی یوں دینے کو تیار تھا گویا ہر کسی کو یہی گمان تھا کہ انکا سب سے زیادہ قریبی اور محبت بھرا لہجہ ہمارے ساتھ ہی تھا۔

بلاشبہ انکی محبت ، توجہ اور ہمدردی سب کے لیے یکساں تھیں۔ ہم میں سے کوئی بھی اپنی تحریروں ، اور جزبات کی ترجمانی کے زریعے انکے لیے نعرہ ہائے تحسین بلند نہیں کررہا بلکہ درحقیقت میرے رب نے انہیں جس بلند مقام اور مرتبے سے نوازا وہ پوری دنیا کے سامنے ہے اور تعریف و تحسین سے بھی کہیں زیادہ بلند اور پرکشش ہے۔ ان کے جنازے پہ سردی کی ٹھٹھرتی رات میں بھی حد نگاہ تک لوگ ہی لوگ موجود تھے ۔ جن داعیان حق کی زندگی میں انکی دعوت اثر انگیز ثابت ہوتی ہے انکی موت کے بعد ان کی مثالیں سنگ میل کا کام کرتی ہیں ، وہ درحقیقت مرا نہیں کرتے بلکہ دعوت و اخلاق کے میدان میں زندہ رہتے ہیں اور ایسے لوگوں کے جنازے بھی ان کے شایان شان عظیم الشان ہوا کرتے ہیں۔ انکی شہادت پر کشمیر مجاہدین کے کمانڈر اور غازیوں کے غازی سید صلاح الدین صاحب کو آنسو بہاتے دیکھ کر احساس ہوتا تھا کے کیا ہی گوہر نایاب تھا وہ بندہ جو رب کے حضور جاپہنچا۔ وہ اسلامی تحریک کے رول ماڈل تھے ، سادہ لباس ، سادہ مزاج ، خوش گفتار ، خوش اخلاق ، ، کاش کے اللہ پاک وطن عزیز کے ہر مرد کی شخصیت میں انکا کردار جزب کردے۔

وہ حیات عارضی کے محدود ماہ و سال لیکر آئے تھے اور ایک ایک لمحے کا بہترین استعمال کرگئے۔میں ماہم اور عدیل بھائی کے زریعے عظیم بلوچ سے متعارف ہوئی تھی اور انکی بےشمار خوبیوں کا مشاہدہ کیا تھا ۔ دعوت دین عظیم ترین کام ہے اللہ اپنے جن بندوں سے یہ کام لیتا ہے وہ بلاشبہ بڑے خوشبخت ہوتے ہیں۔ عظیم بلوچ کا دعوت دین کا انداز محض درس و تدریس اور تبلیغ و ابلاغ تک محدود نہ تھا بلکہ دعوت کے ابلاغ کے ساتھ ساتھ انکا ذاتی کردار ، نرم دلی ، اخلاق ، خیرخواہی اور اپنائیت بھی انہیں ممتاز بناتی تھی۔ انہوں نے دین کے کاموں میں جس طرح خود کو مصروف کررکھا تھا وہ قرون اولی کے سلف صالحین کے ایمان پروراسوہ کی تجدید ہے ۔ کسی بھی شخص کی سب سے بڑی عظمت یہ ہے کے اسے اسکی موت کے بعد بھی ہر شخص خیر و محبت کے الفاظ سے یاد کرے ۔اللہ تعالی انکو ابدی زندگی میں سکون و راحت عطا فرمائے آمین

زمین کے اندر بھی روشنی ہو

مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */