پچھلے والوں کو کب تک رویا جائےگا - حبیب الرحمن

پاکستان کے عوام سردیوں میں گیس کو اور گرمیوں میں بجلی کو رویا کرتے تھے لیکن اب رونا پیٹنا نہ تو سردیوں میں کم ہو کر دے رہا ہے اور نہ ہی گرمیوں میں۔ پاکستان میں پاکستانیوں کے ایک بہت بڑے ہمدرد ہوا کرتے تھے جن کی نظر میں پاکستان کا ہر مسئلہ رائی کے دانے سے بھی کہیں چھوٹا ہوا کرتا تھا لیکن نہ جانے جیسے ہی ان کے ہاتھ میں اقتدار کی باگ آئی، نظر آنے والے ایسے سارے مسائل جو رائی کے دانوں کے بربر بھی نہیں تھے اچانک ہمالیہ سے بھی بلند ہو گئے اور آج کل وہی صاحب کانوں کو ہاتھ لگا لگا کر پوری دنیا میں یہ کہتے پھر رہے کہ اللہ مجھے معاف کرے اور اپنے "لالن ہاروں" سے التجائیں کرتے پھر رہے ہیں کہ مجھے میری تربیت مکمل ہونے سے پہلے اقتدار کی کرسی پر کیوں بٹھا دیا۔

ویسے دیکھا جائے تو پاکستان میں اب تک جو بھی معاملات چل رہے ہیں اور ایک کے بعد ایک بحران سر اٹھاتے چلے جا رہے ہیں اس میں موجودہ ناخدا کا کہیں سے کہیں تک نہ تو کوئی قصور ہے اور نہ ہی نااہلی کا دخل۔ اگر گزشتہ حکومتیں پاکستان کو امریکا و برطانیہ یا روس و چین کے جیسا بنا دیتیں تو کم از کم پانچ دس برس تک ان سے زیادہ نااہل حکمران بھی ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ امریکا کے صدر ٹرمپ نے امریکا کی تباہی کیلئے کیا کچھ نہیں کرلیا، اسے دوسرا پاکستان بنانے کی ساری تگ و دو کے باوجود، امریکا کا بال تک بیکا نہ ہو سکا۔ ٹھیک اسی طرح 72 سال سے پاکستان پر حکومت کرنے والے پاکستان کو امریکا کی طرح مضبوط و طاقتور بنا جاتے تو اس کی نالائقی کا بھرم تو رہ جاتا اور کوئی یہ طعنہ تو نہیں دے پاتا کہ تم نے پاکستان کی شکل و صورت کو اتنا مسخ کرکے کیوں رکھ دیا۔

اب دنیا میں ہر فرد ایک جیسی صلاحیتوں کا مالک ہونے سے رہا۔ ایسے ہی تو نہیں کہا جاتا کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوا کرتیں۔ ان باتوں کو سامنے رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کا کسی بھی بحران کے سلسلے میں کوئی بھی قصور نہیں۔ اگر گیس کی کمی ہے تو اس لئے ہے کہ پچھلوں نے گیس کی تلاش اور دریافت کی کوشش نہیں کی، اگر پٹرول مہنگا ہے تو محض اس لئے کہ گزشتہ 73 برسوں سے ملک کے چپے چپے سے تیل نہیں نکالا گیا، اگر مہنگائی ہے تو اس لئے کہ ان سب نے اپنے دور میں ہر چیز کے نرخ اتنے کم کیوں رکھے کہ آنے والا ان کے نرخوں کو تین چار گنا بھی نہ بڑھا سکے، پورے پاکستان کا بچہ بچہ بر سر روزگار کیوں نہیں کیا گیا، لاکھوں میگاواٹ کے حساب سے بجلی کیوں پیدا نہیں کی گئی، سونے کی کانیں دریافت کیوں نہیں کی گئیں، ڈالر کے درخت کیوں نہیں لگائے گئے، دودھ اور شہد کی نہریں کیوں نہیں بہائی گئیں اور بے گھروں کیلئے تین چار کروڑ گھر کیوں تعمیر نہیں کئے گئے۔ اگر یہ سب کام پچھلوں نے کر لئے ہوتے تو آج پورے ملک میں ہاہاکار کیوں مچی ہوئی ہوتی اور میرے سر پر ذمہ داریوں کے پہاڑ ہر روز کیوں ٹوٹ رہے ہوتے۔

گزشتہ رات پورے ملک کی بجلی بھی پی ڈی ایم میں شامل ہو گئی۔ ایک تو پی ڈی ایم کی دھواں دار تقریریں سن سن کر دماغ لسی بنا ہوا تھا کہ اچانک بجلی کا پی ڈی ایم میں شامل ہوجانا دماغ کی چولھیں ہلا گیا۔ یہ بھی کوئی تک ہوئی کہ پیشگی اطلاع کے بغیر بجلی غائب۔ رات 11 بجکر 41 منٹ پر اچانک پورا پاکستان تاریکیوں میں ڈوب گیا۔ پاکستان کو اس طرح تاریکیوں میں ڈوبا ہوا دیکھ کر پہلے تو صاحب کا دل ڈوب سا گیا کہ کہیں عالم ارواح میں "مچ" کی 11 روحوں نے اللہ تعالیٰ کے پاس میری بے حسی کا گلہ تو نہیں کر دیا اور حکمِ الٰہی ہوا کہ دشمن پاکستان کے پاور اسٹیشن تباہ کر دے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ اس وقت سے لیکر تا دم تحریر اس بات کی کھوج لگائی جا رہی ہے کہ پھر یہ ہوا کیا لیکن اب تک ٹی وی پر ترجمانوں نے یہی اطلاع دی ہے کہ انھیں خرابی کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہو سکی البتہ یہ سب کچھ گزشتہ حکومتوں کی نالائقیوں کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے کوئی ایسا خفیہ بٹن اپنے پاس ایجاد کرکے رکھا ہواہے جس کو وہ جب چاہیں دبا کر پورے ملک کو ظلمت کدہ بنا کر رکھ دیتے ہیں۔

موجودہ ناخدا اکثر یہ سوچا کرتا ہے کہ اگر "گزشتہ" نام کی کوئی شے ہوا ہی نہیں کرتی تو وہ "موجودہ" ہونے والی کوتاہی، غفلت، خرابی، تباہی، بربادی اور ایک کے بعد ایک چلے آنے والے بحرانوں کو کس کے سر ڈالا کرتا۔ جیسے ہی دماغ میں ایسی فکر انگیزی جنم لیتی، سر فوراً سجدے میں جھک جاتا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ وہ 70 سال بعد پاکستان کی نیا کا ناخدا بنا۔
بات بر محل ہو یا بے محل، لبوں تک آ ہی گئی ہے تو برداشت کر لیں کہ کسی کا دوست بانسوں کی بنی سیڑھی ٹوٹ جانے کی وجہ سے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔ دوست نے سیڑھی ٹوٹنے کی وجہ پوچھی تو جواب ملا سب قصور اسی کا ہے۔ پوچھا کس کا ہے تو بتایا دیوار کے دوسری جانب تالاب میں نہانے والی نیم برہنہ لڑکی کا۔ دوست نے کہا کہ اس میں سیڑھی ٹوٹ جانے کی تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی تو اس نے کہا کہ میں اس سیڑھی پر اکیلا تھوڑی تھا سارے مزدور اسی پر چڑھے ہوئے تھے۔

بات ساری یہی ہے کہ پاکستان میں ہر آنے والا اپنے سے پچھلوں کو ہی روتا رہا ہے لیکن خود کچھ بھی کرنے کو اور اپنے سر کسی ذمہ داری کو لینے کیلئے تیار نہیں۔ جب تک کوئی بھی آنے والا مڑ کر دیکھنے کی بجائے صرف سامنے دیکھنے کیلئے تیار نہیں ہوگا اس وقت تک پاکستان کا پاکستان بننا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */