میڈیا کا منفی کردار، معاشرے کے لئے وبال - صائمہ وحید

ہم ٹھرے باخبر رہنے کے شوقین ،ٹی وی آن کیا موسم ،حالات کی خبر لی جائے۔ایک چینل پر مہوش حیات جلوہ گر تھیں۔نہایت عریاں لباسِ،فحش منظر لکس کا اشتہار تھا۔ہم نے لاحول ولاقوۃ کہہ کر چینل بدلا،ہر چینل پر اشتہارات دکھائے جارہے تھے۔ان اشتہارات کو دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارے میڈیا پر ایک ہی موسم ٹھر گیا ہے۔

تہذیب،اقدار،حیا،اخلاق سے عاری موسم،اشتہار سگریٹ کا ہو،بسکٹ،سرف،چائے،ریزر،شیمپو خواہ کوئ اشتہار ہو۔نہایت نامناسب،قبیح،عریاں انداز میں عورت کو پیش کیا جاتا ہے۔
عورت قابل عزت،محترم ہستی ہے۔جسے ہمارے میڈیا نے بازار جنس،برائے فروخت بنادیا ہے۔یہ کمرشلز جو ہر تھوڑی دیر بعد دکھائے جاتے ہیں۔سامعین کے لئے انتہائی کرب و اذیت کا باعث بنتے ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔یہاں نوے فیصد سے زیادہ ابادی مسلمانوں کی ہے۔مسلم معاشرہ اپنی تہذیب،تشخص،اقدار رکھتا ہے۔باحیا،مہذب معاشرہ ہوتا ہے۔ہمارا میڈیا ہمارے تشخص کو مجروح کررہا ہے۔ہماری پاکیزہ طرز معاشرت کو آلودہ کررہا ہے۔ میڈیا پر پیش کئے جانے والے ڈرامے ہندوانہ رسم و رواج،اور مغربی زوال پذیر معاشرت اور کلچر کا عکس ہیں۔پہلے پی ٹی وی پر بہترین ڈرامے دکھائے جاتے تھے۔اندھیرا اجالا،افشاں،تنہائیاں،دھوپ کنارے جو ہمارے معاشرے کے مطابق تھے۔

اسی طرح بہترین تاریخی ڈرامے محمد بن قاسم، شاھین،آخری چٹان دکھائے گئے۔نوجوان نسل کو ہمارے اسلاف کی جدو جہد،مقصد،قربانیوں سے آگہی،شعور منتقل کرنے،تربیت کا ذریعہ تھے۔
اب بھی پی ٹی وی پر وزیرآعظم کے حکم پر ارطغرل غازی دکھایا جارہا ہے۔جس نے عوام میں بے گناہ مقبولیت حاصل کی ہے۔اج بھی ہمارے عوام تاریخی،صاف ستھرے،معیاری ڈرامے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔مگر ہمارے میڈیا کے چینلوں کی بھر مار ،مقابلے میں کوئ تاریخی،ہماری تہذیب،روایات ،معیار کے مطابق ڈرامے پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ گویا ہمارا میڈیا دجالی مافیا کا آلہ کار بن کر رہ گیا ہے۔ بین الاقوامی خبروں میں کتےبلی،پانڈے ہاتھی کی خبریں ،کیٹ واک،فیشن شوز،ریلیز فلموں کے ٹریلر سب دکھائے جاتے ہیں۔مگر فلسطین،شام برما کے ظلم کی چکی میں پستے مسلمانوں کے حالاتِ کی کوئ خبر نہی دکھائ جاتی۔

ایک وقت تھا پی ٹی وی پر ہر روز کشمیر فلسطین ،اسرائیلی مظالم کی خبر نشر کی جاتی تھی۔میڈیا رہنمائ تربیت کا ذریعہ ہے۔وہاں عوام کو دنیا کے مسلمانوں کے حالات سے عوام کو باخبر رکھنے کا بھی ذمہ دار ہے۔میڈیا تفریح،شعور و آگہی فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ہمارا میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں ناکام ہے۔اپنی زمہ داری ادا کرنے میں غفلت کا مرتکب ہے۔ قومی نظریات کو پس پشت ڈال کر مغربی ایجنڈے کو فروغ دینا۔لمحہ فکریہ ہے۔اور اس پر ارباب اقتدار کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔اس سے پہلے ہمارہ معاشرہ میڈیا کے ذریعے فروغ دیئے جانے والے عدم برداشت بے حیائ ، بےراہ روی کے کلچر،ملحدانہ نظریات کا مکمل عکس بن جائے۔ہمیں بیدار ہونا ہوگا۔

اپنی نسلوں،خاندان،معاشرے کو ان تباہی کن اثرات سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ میڈیا پالیسی ازسر نو تشکیل دی جائے۔ہمارے تہذیب وتمدن ،تشخص،اقدار،ملی و قومی نظریات کو فروغ دینے پر مبنی پالیسی بنائ جائے۔تمام چینلز کو قوانین و ضوابط کا پابند کیا جائے۔غیر اخلاقی پروگرامز پر پابندی عائد کی جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */