کشمیر اور ہندوستان کا دوہرا قانون - محمد حنیف عبدالعزیز

تقسیم پاک وہند کے وقت کئی ریاستیں ایسی تھیں جو پاکستان کے ساتھ الحاق کر نا چاہتیں تھیں ان میں جوناگھڑ ، مناور ، حیدرآباد دکن ناگالینڈ بھوپال اور کشمیر شامل تھیں ان میں جوناگھڑ مناورکے راجہ مسلمان تھے اور ان دونوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا علان بھی کر دیا تھالیکن ہندوستان کی فوج نے حملہ کر کے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ حیدر آباد کے نظام عثمان علی خان تھے انہوںنے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کر نے کی کوشش کی مگر ہندوستان نے زبردستی قبضہ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا ۔

ناگا لینڈ ہندوستان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا تھا اسے بھی ہندوستان نے اپنے ساتھ ملا لیا اس بنا پر ہی ابھی تک ناگالینڈ میں علیہدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں بھوپال کے نواب حمید اللہ خان تھے اور ریاست میں مسلم اکثریت بھی تھی مگر یہ ہندوستان کے درمیان میں تھی اسوجہ سے حمید اللہ خان صاحب کو کچھ لالچ وغیرہ دے کر اپنے ساتھ ملا لیاگیا ۔کشمیر میں مسلمانوںکی اکثریت تھی اور اب بھی ہے اس کا راجہ ہری سنگھ تھے یہ ہندوستان کے ساتھ الحاق پر رضامند نہیں تھے یہ آزاد رہنا چاہتے تھے انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق بھی کر لیا تھامگر ہندوستان نے اپنی فوج کشمیر میں داخل کر دی قائداعظم نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل ڈگلس گریسی کو دفاع کا حکم دیا اس نے دفاع کر نے سے انکار کر دیا جس پر بلتستان اور قبائلی مجاہدین نے کشمیر کا دفاع کیا اور ہندوستان کی فوج کو پیچھے دھکیل دیا ہندوستان نے جب سارا کشمیر جاتے دیکھا تو یو این او میں چلا گیا اور جنگ بند کرانے اور حق خود ارادیت کی تحریک پیش کی جسے سب نے فوراً منظور کرلیا گیا جس پر آج تک عمل نہ ہو سکا ۔

کشمیر کے جھنڈے میں تیں لکیریں ہیں جسے اس وقت کی کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے منظور کیا تھا یہ تین لکیریں کشمیر کے تین علاقے جموں کشمیر اور لداخ کو ظاہر کر تیں تھیں ۔ کاغذی دستور کے نام پر ریاست کے تعزیرات و دفعات جو ۱۸۴۶ میں بنائے گئے تھے تقسیم کے وقت باقی تو سب منسوخ کر دیے گئے تھے کچھ بچ گئے تھے ان آرٹیکل میں ۳۵ اے اور ۳۷۰ تھے ان آرٹیکل کے تحت غیر ریاستی افراد کے لئے زمین کی خرید ممنوع تھی اور ان آرٹیکل کے تحت ہی ریاست کے باسیوں کو ملازمت میں ترجیح دی جاتی تھی ۔ حکومت ہند نے آر ایس ایس کی خواہش پر ۵ اگست ۲۰۱۹ کو یہ دونوں آرٹیکل منسو خ کر دیے کیونکہ آر ایس ایس کا بہت دیر سے یہ مطالبہ چلا آ رہا تھا۔ اگر دیکھا جائے توآرٹیکل ۳۷۱ اے میں بھی یہی کچھ ہے جو ۳۷۰ میں ہے ۔ انڈیا کی دیگر ریاستو ں جس میں ہماچل پردیس ،اٹار کھنڈ اور پنجاب کیساتھ شمال مشرق کی سات ریاستیں آسام ، ارونا چل پردیس ،میکھالیہ ،میذورم ، منی پور ،تریپورہ ا ور ناگا لینڈ (جنہیں سیون سسٹر کے نام سے جانا جاتا ہے )ہیں ان ریاستو ں کے باسیوں کے علاوہ غیر ریاستی افراد زمین کی خریداری نہیں کر سکتے ۔ جھاڑ کھنڈ میں تو عار ضی ر ہائشی بھی زمین نہیں خرید سکتا ۔

شمال مشرقی ریستوں میں سب سے اہم ناگا لینڈ کا معاملہ ہے اس نے حکومت ہند کے خلاف بغاوت کی ہوئی ہے ۔ وہ اپنا یوم آزادی پاکستان کے ساتھ چودہ اگست کو مناتے ہیں اور اپنا پرچم بھی لہراتے ہیں وہ مودی حکومت سے مکمل آزادی مانگ رہے ہیں ۔ اب مودی حکومت نے ان کے کچھ مطالبات مان لئے ہیں اس میں پرچم اور انٹرسٹیٹ پرمنٹ شامل ہیں ۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت کے باقی ریاستوں کے لئے ایک ہی آرٹیکل پر عمل کرنے کا طریقہ اور ہے اور کشمیر کے لئے وہی آرٹیکل اور ہے ۔ کشمیر میں سولہ ماہ سے کرفیو لگایا ہوا ہے لوگ غلاموں سے بھی ابتر زندگی گزار رہے ہیں ۔ نہ ریاست ٹس سے مس ہو رہی ہے اور نہ ہی عالمی برادری ہندوستان پر زور ڈا ل سکی ہے اسلامی ممالک کا خداہی حافظ ہے وہ تو ہندوستان پر زور ڈالنے کی بجائے اس کے قریب ہو رہے ہیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */