جواب چاہیے - حبیب الرحمن

کوئٹہ میں ہزارہ برادی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ پہلی بار تو ہوا نہیں۔ ایک طویل عرصے سے ایسا ہی ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس سے قبل ہونے والے واقعات اور اس واقعے میں فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بم دھماکوں کی دھمک یا گولیوں کی تڑتڑاہٹیں اموات کا سبب ہوا کرتی تھیں، اس مرتبہ 11 افراد کو ہاتھ پاؤں باندھ کر گلے کاٹے گئے۔ یہ کام ملک میں موجود "ہزارہ" دشمنوں نے کیا ہو یا شنید کے مطابق داعش کی درندگی اس واقعے میں شامل رہی ہو، اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس مقام پر یہ وحشتناک واقعہ ہوا ہے وہ وقوعہ واردات نہ تو ایرانی سرحدوں کے قریب ہے اور نہ ہی افغانستان کی سرحد کے ساتھ جڑا ہوا۔

واقعہ کوئی بم دھماکہ بھی نہیں اور نہ ہی کسی کلاشنکوف کے دہانے سے اگلنے والی گولیوں باڑ کا نتیجہ، بلکہ نہایت مضبوط و توانا انسانوں کو بھیڑ بکریوں کے سے انداز میں ہاتھ پاؤں باندھ کر ذبح کیا جانا ہے۔ کہنے کا صرف اتنا مطلب ہے کہ بم دھماکوں یا گولیوں کے ذریعے کسی کو مارا جائے تو ایسا کام ایک انسان کی مدد سے بھی کیا جا سکتا ہے لیکن ایک دو نہیں، گیارہ انسانوں کے ہاتھ پاؤں باندھنا اور وہ بھی نہایت مضبوط و توانا انسانوں کے، کوئی ایک دو افراد کا کام کیسے ہو سکتا ہے۔ اتنے انسانوں کو، جن کو اپنے مار دیئے جانے کا بھی پورا یقین ہو، ممکن ہی نہیں کہ چند افراد یہ سب کچھ انجام دے سکتے ہوں۔ سوال یہی ہے کہ بیس پچیس مصلح افراد اگر کسی مزدور کالونی میں داخل ہوں، 11 افراد کو قابو کرنے کے بعد ان کے گلے بھی کاٹ دیں اور وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب بھی ہو جائیں تو کیا یہ بات سکیورٹی نقطہ نظر سے نہایت ناقص نہیں کہلائے گی۔یہ درندگی جس گروہ نے بھی کی اس کی معلومات پر آفرین تو نہیں کہنا چاہے لیکن ملک کے سکیورٹی اداروں کیلئے ایک ایسا سوالیہ نشان ضرور ہے جس کا جواب پاکستان کے بااختیار اداروں سے طلب کیا جانا بہت ضروری ہے۔ اول تو ہزارہ کمیونٹی کے سارے کے سارے افراد کسی ایک ہی کمرے میں قیام پذیر تو نہ ہونگے۔ اگر ہونگے بھی تو وہاں صرف ان ہی کے کمرے تو نہیں بنے ہوئے ہونگے۔ ان کی شکلیں، ان کے نام، ان کا مسلک اور ان سب کے متعلق اتنی مکمل معلومات تو شاید ہمارے خفیہ ادارے بھی نہ رکھتے ہوں جتنی وہاں آکر ان کو ذبح کرنے والوں کو حاصل تھیں۔ یہی نہیں، ان کو رہائش کے آس پاس کی چوکیداری کرنے والوں کی مکمل غفلت کا بھی بخوبی علم رہا ہوگا جس کی وجہ سے وہ اپنی کارروائی کرنے کے بعد نہایت اطمنان کے ساتھ جہاں سے بھی آئے تھے وہاں لوٹ گئے۔

ہزارہ برادری اب لاشوں کو ہمراہ رکھ کر دھرنا دینے کے بعد حکومت وقت سے جو بھی مطالبہ کر رہی ہے وہ اپنی جگہ کتنا ہی درست کیوں نہ ہو لیکن ملک میں ان سے اظہار یک جہتی کرنے والے جس انداز میں چوک چوراہوں پر دھرنا دیکر عام زندگی کیلئے دشوایاں کھڑی کرنے کے درپے ہیں اس پر مجھے شدید اعتراض ہے۔ ایک جانب تو اسے مسلکی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی تو دوسری جانب پاکستان کی امن عامہ کی صورت حال کو خراب کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کے ہر شہر میں موجود جو کمیونٹی سب سے زیادہ ان دھرنوں میں شامل ہے ان کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ جس گروہ نے بھی یہ گھناؤنی حرکت کی ہے وہ کسی مسلک کو ماننے والوں کے خلاف نہیں بلکہ کوئٹہ میں مقیم ایک خاص نسل کے خلاف ہے جو اتفاق سے ایک خاص مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ کوئٹہ میں ہی نہیں، پورے پاکستان میں اس مسلک سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں میں نہیں، ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ اگر ایک طویل عرصے سے ایسی کارروائیاں صرف اور صرف بر بنائے مسلک ہی کی جا رہی ہوتیں تو کوئٹہ اور اس کے گرد نواح جتنی آبادیاں ایسے مسالک والوں کی ہیں، وہ یقیناً ان شر پسندوں کا ہدف ضرور بنائی جاتیں۔

اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دیگر شہروں کے لوگ اس احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں تو بات میں وزن تو ہے لیکن کیا ہزارہ کمیونٹی پر ہی ہونے والی زیادتی پاکستان کو ایک خاص مسلک والوں اور تمام اہل پاکستان کو انسانی حقوق کی پامالی دکھائی دیتی ہے۔ کیا کراچی میں پیدا ہونے اور رہنے والے، کوئٹہ سمیت پورے پاکستان کو انسان نظر نہیں آتے۔ ایوبی دور میں کراچی میں ہونے والی لشکر کشائیاں، قائد کی بہن کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے کا سنگین واقعہ، بھٹو دور کی نسلی خونریزیاں، 1973 کے آئین میں کوٹا سسٹم کا نفاذ، علی گڑھ کی آبادی کو خاکستر کر دینے اور جیتی جاگتی آبادی کو بھسم کر دینے کی وحشتناک کارروائی، پکا قلعہ آپریشن میں ایک ہی دن میں 350 سے زائد انسانوں کا قتل عام اور کراچی کے آپریشن در آپریشن کے نام پر ہزاروں جوانوں کو قتل کئے جانے میں پورے پاکستان کو کسی ایک مقام پر بھی کوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر آئی۔

ایک ادارہ ہر فورم پر یہ تو کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے کراچی کو دہشتگردوں سے آزاد کرایا ہے لیکن وہی ادارہ کراچی کے 22 مقامات سے بھی زیادہ مقامات پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو شاہراہیں بند کر دینے پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ اب وہی کام جو ان کی نظر میں پہلے والے دہشتگرد کیا کرتے تھے، اس سے بڑھ کر امن پسند دہشتگرد کرتے ہوئے اس کو ذرا بھی برے نہیں لگ رہے ہیں۔ یہی وہ امتیازی رویہ ہے جو پورے پاکستان میں بے چینی میں اضافے در اضافے کا سبب بنا ہوا ہے لیکن نہ تو اربابِ اقتدار اور نہ ہی ارباب اختیار اس پر غور کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جب تک پاکستان کے سارے "ارباب" اس پر غور کرنے کیلئے سر جوڑ کر نہیں بیٹھیں گے اور ہر الزام غیر ملکی سازشوں پر لگاتے رہے گے، اندر اور باہر، دونوں جانب سے تخریب کاروں کو سہولت کار دستیاب ہوتے رہیں گے۔عوام اور پاکستان کو کچھ بھی نہیں چاہیے، اٹھائے گئے سوالات کے عملاً تسلی بخش جوابات چاہئیں بصورت دیگر ان تخریب کاریوں کا دائرہ ملک کے دیگر علاقوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */