بہروپیوں سے ہوشیار - محمد طاہر مرسلین

دنیا کے کسی بھی شعبے کو دیکھ لیں آپ کو دو طرح کے پروفیشنل ملیں گیں۔ سرٹیفائیڈ لوگ اور دوسرے عطائی اور بہروپیئے۔ دنیا کے تقریباً تمام ہی شعبوں کے لئے مخصوص ادارے موجود ہیں جو اس شعبے میں تعلیم دیتے ہیں اور اس تعلیم کو کامیابی سے مکمل کرنے والوں کواسناد عطا کرتے ہیں۔ان اسناد دینے والے اداروں کو حکومتی سطح پر جو اختیار دیا جاتا ہے اسکی حفاظت بھی ریاست کرتی ہے اور بغیر رجسٹرڈ اداروں اور غیر سند یافتہ لوگوں کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ خود کو اس فیلڈ کا ایکسپرٹ بتا سکیں۔

اگر کو ہیلتھ کونسل سے رجسٹرڈ نہیں تو وہ ڈاکٹری نہیں کرسکتا چاہے باہر سے میڈکل پڑھ آئے۔ اسی طرح فارمیسی کونسل، لاء بارز بھی اسی جعلی اور مستند میں تفریق کرنے کو بنائی گئی ہیں تاکہ کوئی بہروپیا عوام کی صحت سے نہ کھیل سکے، کوئی جعلی ادویات نہ بیچ سکے، کوئی جعلی وکیل انصاف کا مذاق نہ بنا سکے۔ان تمام اداروں کے اس منظم نظام کی موجودگی کے بعد کیا کوئی شخص یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ فلاں وکیل نے مدلل بحث جج صاحب کے سامنے نہیں رکھی اور قانون کی کتاب سے دیکھ کے بتائے کہ یہ شق موجود تھی لیکن وکیل نے بیان نہیں کی اسلئے یہ وکیل جعلی ہے دو نمبر ہے اور عوام کو لوٹنے کی دوکان کھول کے بیٹھا ہے؟ اور میں چونکہ اس شق کو بیان کر رہا ہوں حالانکہ مجھے قانون کی ڈگری نہیں ملی اور مجھے قانون کی زبان بھی نہیں آتی تو مجھے بڑا وکیل مانا جائے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ چند لوگوں کی یہ دلیل مان لی جائے کہ یہ عطائی ہماری بیماریوں کا سستا علاج کرتے ہیں اور اکثر چھوٹی موٹٰی بیماریوں کا وہی علاج بیان کرتے ہیں جو ڈاکٹر صاحبان بتاتے ہیں، اور چونکہ ڈاکٹر بھی غلطی کرتے ہیں تو اگر یہ کوئی غلطی کرتے ہیں تو اس کو بھی اچھی نیت کیوجہ سے معاف کیا جائے اور انکو کام کرنے کی اجازت دی جائے اور قانون اس معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کرے؟ اور اس دلیل کے بر خلاف کوئی ان عطائیوں کے خلاف آواز اٹھائے اور انکی غلطیاں عوام کو بتانا شروع کر دے تو قانون اسی کو آ دھرے؟

یہ جعلی، بہروپئے لوگ کسی علم سے مکمل نابلد نہیں ہوتے اور اکثر وہی کرتے ہیں جو اس شعبے کے ماہر اور اسناد یافتہ افراد کرتے ہیں لیکن اکثر ایسی غلطیاں کرتے ہیں جو جان لیوہ ہوتی ہیں، اگر سب غلط ہی کریں تو عوام جعل سازی میں کیسے آ سکتی ہے۔اسلئے ایک عطائی اگر چند امراض کی درست تشخیص کرلیتا ہو تو کیا اسکو ڈاکٹر مان لینا درست ہوگا؟ کیا جعلی فارماسسٹ کو فارمیسی چلانے کی اجازت ہونی چاہئے اگر وہ ڈاکٹر کا نسخہ پڑھنے کی اہلیت حاصل کر لے؟ کیا غیر تصدیق یافتہ انسان کو عدالت میں وکیل بن کر پیش ہونے کی اجازت ہونی چاہئے؟ کیا ایسے لوگوں کو اپنی تشہیر اور مستند لوگوں کی تضحیک کی اجازت ہونی چاہئے؟

مجھے یقین ہے ہماری ریاست اور عوام کا جواب یہی ہوگا کہ ایسی کھلی چھوٹ دینا ممکن نہیں بلکہ ایسے جعلی لوگ، بہروپئے، عطائی سزا کے مستحق ہیں اور انکو اپنی اشاعت اور تشہیر کی کسی صورت اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔ لیکن دیکھیں کیسی عجیب بات ہے کہ ہمارے ملک کا ایک شعبہ ایسا ہے جسکی تعلیم کے ادارے موجود ہیں ، انکو دنیا میں مانا بھی جاتا ہے جہاں آٹھ آٹھ سال کی ڈگریاں دی جاتی ہیں، اور وہ اپنے شعبے میں دنیا کے کسی ملک سے پیچھے نہیں، انکی تصنیفات انکے شعبے سے منسلک ہر مسئلے میں رہنمائی کے لئے موجود ہیں۔ لیکن انکے مقابلے میں کوئی بھی شخص اٹھ کر کچھ بھی کہہ سکتا ہے اوراس شخص کا کسی ادارے سے کسی استاد سے فارغ تحصیل ہونا بھی ضروری نہیں، وہ اسکی تکنیکی زبان سے بھی نا واقف ہو، وہ اس شعبے کے علمی ذخیرہ کی زبان سے بھی نابلد ہو تب بھی اسکو یہ اختیار عوام اور ریاست دیتی ہے کہ وہ اس شعبے کے بارے میں کوئی بھی بات کرے ، چاہے درست ہو یا بلکل جھوٹ کا پلندہ، اور یہ شعبہ بد قسمتی سے دینی شعبہ ہے جس میں ہر روز نئے عطائی ، بہروپیئے جنم لے رہے ہیں اور انکو کسی قانون کسی عوامی رد عمل کا کوئی ڈر نہیں بلکہ انکے خلاف کام کرنے والے سزا کے حق دار بنتے ہیں۔

میرا آپ سے سوال ہے کہ یہ دوہرا معیار کیوں؟ کیا صحت و انصاف ایمان سے زیادہ قیمتی شے ہیں؟ کیا حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دینا کسی کی جان لینے سے چھوٹا جرم ہے؟ کیا کسی بھی جلیل قدر دینی شخصیت کو بدنام کر دینا چھوٹا جرم ہے؟ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ان اناڑی مولویوں کو کھلی چھوٹ ملنی چاہیئے، جو نہ عربی جانتے ہیں ، نہ فقہ اور علماء بنے بیٹھے ہیں بلکہ معتبر علماء پر طعن کرتے ہیں؟ کیا جان ایمان سے زیادہ قیمتی ہے ؟ کیا نبی اکرم ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ قیامت کے قریب لوگ جہلا سے مسئلے پوچھا کریں گے اور کیا ہم وہی لوگ نہیں بنتے جا رہے؟ کیا کسی مستند عالم کی ایک غلطی سے کسی بہروپئے کو یہ اجازت مل جاتی ہے کہ وہ علماء کا مذاق بنائے اور پھر خود جیسی مرضی کہانیا پیش کرے اور غلطیاں کرے، اور اسے پوچھنے والا کوئی نہ ہو؟

کیا یہ ضروری نہیں کہ باقی تمام ٰ شعبہ جات کی طرح دینی شعبے کو بھی ریگولیٹ کیا جائے اور جیسے غیر سند یافتہ ڈاکٹر، انجنیئر کو اپنی دکان چلانے کی اجازت نہیں ایسے ہی مذھبی بہروپیوں کو بھی لگام ڈالی جائے؟ کیا دین ایسا لاوارث ہے کہ اس میں کوئی بھی آ کر کچھ بھی تبدیلی اور نئی بات پیش کرے اور سب خاموش بیٹھے رہیں؟ جیسے ڈاکٹر انجنیئرنگ کا کام نہیں کر سکتا، جیسے فارمسسسٹ ڈاکٹری نہیں کر سکتا، ایسے ہی ڈاکٹرز، انجنیئرز اور کسی بھی دوسرے شعبے کے ماہر کے لئے ممکن نہیں کہ وہ علماء کا کام کرسکے اور نہ ہی اسکی اجازت ہونی چاہیئے۔
میری عوام اور قانون بنانے اور نافذ کرنے والوے اداروں سے درخواست ہے کہ اس مسئلے پر توجہ دیں اور اس مسئلے کی حساسیت کو سمجھیں یہ نہ ہو کے بہت دیر ہوجائے اور صور پھونک دیا جائے اور ہم نبی پاکﷺ کی واضح ہدایت اور نصیحت کو نظر انداز کرنے والوں میں شامل ہوجائیں اور حضور اکرمﷺ ہم سے روز محشرمنہ پھیر لیں۔اللہ ہم سب کو راہ ہدایت پر چلائے اور اس پر استقامت نصیب فرمائے اور ایسے جعلی اور بہروپئے فتنہ پروروں کی سازشوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */