جسارت کا اداریہ "حکومتی بد نیتی اور خوف" - حبیب الرحمن

جسارت میں آج 6 جنوری 2021 کو شائع ہونے والا اداریہ، بعنوان " حکومتی بد نیتی اور خوف"، موجودہ تبدیلی والی سرکار کی ڈھائی سالہ کارکردگی کا نچوڑ ہی نہیں پاکستان میں 73 برس سے جاری تجربوں در تجربوں کا ایک ایسا سلسلہ ہے جس کا دوسرا کنارہ دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ہر گزر جانے والے دورِ حکومت کے بعد ہر آنے والا دور منیر نیازی کے اس شعر کی تشریح نظر آتا ہے کہ

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

پاکستان بننے کے فوراً بعد اول اول ہوا یہ کہ دھوتیوں کی طرح بدلتی حکومتیں پوری دنیا میں ایک مذاق بنتی رہیں۔ دوسرے اسپل میں مارشلائی حکومت بھی ایک نئے تجربے میں داخل ہوئی اور پھر یہ دور خواہ سول حکومت میں تبدیل ہوا یا براہ راست فوجی حکومتیں آتی جاتی رہیں، نظامِ حکومت کے تجربے در تجربے سامنے آتے رہے اور عالم یہ کہ 1958 سے لیکر تا دمِ تحریر "سرِ آئینہ و پسِ آئینہ" کا علم ہی ہو کر نہیں دے رہا کہ آئینے کے سامنے والا سرِ آئینہ مانا جائے یا پسِ آئینہ والا۔جس طرح کوئی بھی شخص روز و شب کی تلخیوں کو مسلسل سہتے سہتے خود بھی زہر بجھا ہو جاتا ہے بلکل اسی طرح پاکستان میں نظام حکومت کے مسلسل تجربوں در تجربوں کی وجہ سے نہ صرف تمام سیاسی جماعتیں تلخیوں سے بھر گئی ہیں بلکہ ملک کی ایک دو نہیں، 22 کروڑ سے کہیں زیادہ آبادی اسقدر کڑواہٹ کا شکار ہو چکی ہے اب اس کی زبان سے ایک شستہ لفظ بھی معجزانہ طور پر ادا ہو تو ہو ورنہ دشنام طرازیاں اور گالم گلوچ ہر فرد کا وتیرہ بن چکا ہے۔
حکومتوں کے بار بار آنے جانے اور اداروں کی مداخلت در مداخلت نے آئین و قانون کو ایسا ورق ورق کرکے رکھ دیا ہے کہ جب بھی اس کے پرزے جمع کرکے جوڑے جاتے ہیں، آئین کی ہر شق ایک دوسرے سے یوں پیوست ہو جاتی ہے کہ آرٹیکلز کے مفاہیم کچھ سے کچھ ہو کر رہ جاتے ہیں۔

پاکستان میں حکومتوں کی بار بار الٹ پھیر اور ہر آنے والے حکمرانوں کی بے دست و پائیوں نے ہر حاکم وقت پر اتنا دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ اپنے حکومتی امور کو خوشگوار انجام دینے کیلئے یہ چاہتا ہے کہ باد شاہوں کی طرح اس کے ہر فرمان کو مانا بھی جائے اور اس پر عمل در آمد کو یقینی بھی بنایا جائے۔ ہر حکمران کے پاس آئینی مدت صرف 60 ماہ ہوا کرتی ہے لیکن حاکم بننے سے قبل ہر آنے والے کو یہ 60 ماہ پہلے والے کے 60 سال کے برابر لگتے ہیں جس میں وہ اپنے سے قبل حکمران سے پہاڑ جیسے مسائل کو رائی بنا دینے کا مطالبہ کرتا ہے لیکن جیسے ہی وہ خود حکومت میں آتا ہے اس کو اپنے 60 مہینے لمحوں برابر لگتے ہیں اور جو مسائل باہر سے رائی سے بھی چھوٹے دکھائی دے رہے ہوتے ہیں وہ ہمالیہ کی چوٹی سے بھی بلندی اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی لئے اقتدار میں آنے سے قبل ہر سیاسی پارٹی ایسے ایسے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے کہ اوج ثریا بھی شرمانے لگتا ہے اور قوم کوباندھی گئیں یہی بے پناہ توقعات اس کو جمہوری سے آمر حکمران بنانے کی سوچ پیدا کر دیتی ہے اور وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کی "کن" فوراً "فیکون" کی شکل اختیار کرلے۔ ہر سابقہ حاکموں کی طرح اگر عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کے منہ سے نکلنے والا ہر فرمان، شاہی فرمان بن جائے تو کوئی ایسی بات نہیں جس پر بہت زیادہ حیرت کا اظہار کیا جائے۔

ایک جمہوری حکومت "جمہور" کی رائے سے آیا کرتی ہے اور اس کے پس پشت صرف عوام اور آئین کی طاقت ہوا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ جمہوری حکومتوں کے پیش نظر یا تو اس کے عوام ہوتے ہیں یا پھر آئین و قانون کی بالا دستی۔ سابقہ حکومتیں بے شک آئین و قانون کی بالادستی کا وہ احترام تو نہ کر سکیں جیسا کہ آئین و قانون تقاضہ کرتا ہے لیکن وہ یا ان کے سپورٹرز کھل کر کبھی ان طاقتوں کا دفاع کرتے نظر نہیں آئے جو ملک کی سرحدوں کی محافظت کیلئے بنائی گئی ہیں۔ موجودہ عمرانی حکومت اور سپورٹرز کو سابقہ حکومتوں کے بر عکس عوام سے زیادہ تحفظ اور بہبود کا خیال اس ادارے کا رہتا ہے جو خود اپنی بہبود اور تحفظ کرنا خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ عوام کی بہبود کو یکسر نظر انداز کرتے رہنا، ان کے مسائل کی جانب ذرہ برابر بھی توجہ نہ دینا اور ادارے کیلئے رات دن گھل گھل کر ہاتھی ہوجانے کی وجہ سے یقیناً عوام تو شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں ہی، خود ادارہ بھی شدید استعجاب اور پریشانی کا شکار ہوگا کیونکہ اسے دنیا کے سخت سوالات کا سامنا در پیش ہے۔

بات فقط سینیٹ الیکشن میں کسی قانون کے بدل دینے کی خواہش پر ہی ختم ہو رہی ہوتی تو اسے کئی جواز تراش کر ہضم کیا جا سکتا تھا لیکن یہاں تو پورے پورے نظام کو تبدیل کر کے رکھ دینے کی خواہشات سامنے آ رہی ہیں۔ مدیر جسارت نے ٹھیک ہی فرمایا ہے کہ جب حکمران اپنے کام چھوڑ کر یا اپنی نااہلی کی وجہ سے کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہیں ہوا کرتے تو وہ سارا الزام اپنے سے پچھلوں پر دھرنے یا پھر نظام ہی کو غلط قرار دینے پر اتر آتے ہیں۔ یہی حال موجودہ حکمرانوں کا ہے کہ وہ آئین و قانون کی پابندی کو یقینی بنا کی بجائے اپنی خواہشاتِ نفس کے مطابق پاکستان کو چلانا چاہتے ہیں۔ ان کو اپنی یہ روش ترک کرنی پڑی گی ورنہ یہ بات ناممکنات میں سے نہیں کہ وہ خود پاکستان کے آئین و قانون کی سخت گرفت یا عوام کے غیظ و غضب کے شکنجے پھنس جائیں جس کے آثار ہر آنے والے دنوں کے ساتھ واضح سے واضح تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */