ٹی وی چینلز کے زہر پھیلاتے ڈرامے‎ - کرن وسیم

ہم زندہ قوم ہیں اور پائندہ قوم بھی

تو زندگی کا ثبوت دینا ہوگا

ٹی وی بذاتِ خود کسی میزبان سے کم نہیں ہے.. گھر آئے بیشتر مہمان ٹی وی سے ہی دل بہلا کر , پروگرامز پر تبصرے بحث و مباحثہ کرکے رخصت ہوجاتے ہیں.. ارے ارے!! رئیسہ خالہ آئیں بھی اور چلی بھی گئیں ان سے الائچی والی سادی بریانی کی ترکیب پوچھناپھر سے بھول گئ ... میں بھی کیا کرتی آخر کو پورا وقت وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھی ڈرامے دیکھتی رہتیں.. وقتاََ فوقتاََ کوئ بات کی بھی تو ڈرامے سے ہی متعلق.. کھانا کھایا , چائے پی اور جانے کا ٹائم آیا تو چلی گئیں... مگر اس بدھ کو آئیں تو آٹھ بجے ڈرامہ شروع ہوتے ہی کرسی کھسکا کر میری طرف کرلی .. ٹی وی سے نظر ہٹائ اور مجھ سے بات چیت شروع کردی ..

میرا چھوٹا بیٹا گزرا تو اس سے ٹی وی بند کرنے کا کہنے لگیں.. میں حیرت سے انہیں دیکھنے لگی تو انہوں نے صفائ پیش کی کہ یہ نیا ڈرامہ شروع ہوا ہے "ڈنک " نام کا... انتہائ فضول اور ناقابل قبول موضوع ... کافی غصے میں تبصرہ کرتی رہیں میڈیا کی موجودہ روش کا .. پتہ نہیں کس ایجنڈے کے تحت ہر بیہودہ , فحش موضوع کو ہی اپنا فن آزمانے کا ذریعہ بنالیتے ہیں.. تعلیمی ادارے , گھر , دفتر , بازار , خاندان کا تقدس ہی ختم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں.. آخر کو پہلے بھی ڈرامے بنتے تھے پاکستان میں.. تہزیب کے دائرے میں.. سب بچے , بڑے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے , خوش ہوتے تھے ... اب تو ہر ڈرامے کو دیکھتے دھڑکا لگا رہتا کہ کیا دیکھنے کو ملے گا اگلے منظر میں...بھلا بتاؤ تو , یہ ریپ , غیر فطری تعلقات , شادی شدہ مردوخواتین کے افیئرز دکھانے کی کیا منطق ہے سوائے اسکے کہ یہی کچھ معاشرے میں پھیلانے کی کوششیں ہیں..

بحر حال خالہ تو میڈیا کے کرتا دھرتاؤں کو کوستی ہوئ اپنے گھر کو سدھاریں.. میں اسی سوچ میں ہوں کہ ٹی وی دیکھنے والے بھی صحیح اور غلط کو بخوبی محسوس کر ہی رہے ہیں.. مگر میڈیا ریگولیشنز کے ذمہ دار کون سی بھنگ پی کر سوئے ہیں کہ جاگتے ہی نہیں.. پاکستانی ٹی وی چینلز اور میڈیا کمپنیز کی پالیسیز ایک انتہائ عام ذہنیت رکھنے والا پاکستانی بھی سمجھ چکا ہے ...
میری بھتیجی بھی ذکر کررہی تھی " وقار ذکاء " نامی ایک بے تُکے حلیئے والے کا کوئ شو آرہا ہے " بول " چینل سے .. کہہ رہی تھی کہ اس شخص کی صورت ٹی وی پر نمودار ہوتے ہی ہم ٹی وی بند کردیتے ہیں یا چینل تبدیل کردیتے ہیں.. پھپو !! اسکے بقول یہ نوجوانوں کا پروگرام ہے ٹیلنٹ ہنٹنگ کے واسطے .. مگر انتہائ قابل نفرت حرکات دکھا دکھا کر نجانے ہمارے Youngsters کو کیوں اتنا Useless بنانا چاہ رہے ہیں.. ہمارا میڈیا اچھا کام نہیں کررہا .. ہمارے نوجوان پوری دنیا میں سب سے زیادہ تعداد رکھتے ہیں جو Family system میں رہتے ہوئے Grow up ہوتے ہیں.. ہمیں اس واہیات تربیت کی کوئ ضرورت نہیں.. ہم بے عقل نہیں کہ جو جہاں چاہے ہانک دے ..

یہ خیالات ایک نوجوان کے سننے کے بعد واقعتاََ حوصلہ ملا ... دراصل ہمارا میڈیا بیرونی فنڈنگ پر چلنے والی این جی او کا روپ دھار چکا ہے جو Hurry and Worry کا شکار ہے اور اپنا بیرونی , دجالی ایجنڈا ہم پر مسلط کرنے کیلیئے اپنے فحش ہتھیار لے کر کھل کے سامنے آچکا ہے.. عام افراد کے شعور کو کچلنے اور بے راہ روی مسلط کرنے کی پالیسی پر پوری ڈھٹائ کے ساتھ عمل درامد کررہا ہے.. یہ ممکن ہی نہیں کہ ارباب اختیار کا اس گمراہ کن ایجنڈے میں کوئ حصہ نہ ہو.. ان کی اس حساس معاملے سے چشم پوشی اور غیر فعالیت اس بات کو سچ ثابت کررہی ہے کہ یہ سب انکی مرضی سے چل رہا ہے.. اس معاشرتی تباہی اور بے راہ روی میں قوم کو مبتلا کرکے اہم مقاصد اور معاملات سے بیگانہ کرنا ہی انکا منشور ہے.. عوام خود ہی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیا کے بےلگام گھوڑے کو لگام ڈالنے کیلیئے آگے بڑھیں .. ورنہ حملہ آوروں نے اس بار ہمارے گھروں اور خاندانوں پر گھات لگائ ہے .. ہماری نسلوں کی تربیت پر یہ حملےہمیں ہی روکنا ہیں.. محاذ کوئ بھی ہو ہم خالی نہیں چھوڑ سکتے ... زندہ قوم آنکھیں کھلی رکھتی ہے ہر لمحہ ...

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */