زندگی باپ کی کما ئی ہو جیسے - رومانہ گوندل

دنیا کی ہر خوشی ، ہر خواب، ہرمقام زندگی سے جڑا ہےاور زندگی کیا ہے؟ کچھ گھڑیاں، تھوڑی سی مہلت ۔جس کو بڑی خاموشی اور تسلسل سےگھڑی کی ٹک ٹک کھا رہی ہے ۔ اور لوگ کلائی پہ باندھی گھڑی کی چھوٹی سی سوئی سے ڈر کے بھاگ رہے ہیں ہر کسی کے پاس کاموں کی لمبی لسٹ ہے جو کبھی پوری نہیں ہوتی ۔ ہر کسی کو وقت کی رفتار سے گلہ ہے ۔

ایک گھڑی کیا خرید لی میں نے

وقت پیچھے ہی پڑ گیا میرے

وقت انسان کا ساتھ نہیں دے رہا یا ہم انسانوں نے قدر نہیں کی۔ وجہ کچھ بھی ہو یہ سچ ہے کہ وقت میں برکت نہیں رہی۔ وقت کی بے برکتی کیا ہے ؟ دن ، رات کا سفر جاری رہتا ہے لیکن زندگی وہی کھڑی رہتی ہے اس میں سالوں کے اعدود وشمار کے علاوہ کچھ نہیں بدلتا ۔ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ کیسی انمول نعمت ہاتھوں سے پھسل رہی ہے۔ جس کی اہمیت کا اندازہ یہاں سے کریں کہ دنیا کی ہر نعمت میں اللہ نے فرق رکھا ہے۔ کسی کو ذیادہ اور کسی کو کم دی ہے ۔ کیونکہ کسی کو ایک چیز کم دے کے نعم البدل میں دوسری ذیادہ دی ہے لیکن وقت کی نعمت وہ ہے جس میں اللہ نے سب کو برابر رکھا ہے۔ بادشاہ سے فقیر تک سب کے پاس دن چو بیس گھنٹے کا ہی ہوتا ہے ۔ شا ید اس لیے کہ یہ ایسی نعمت ہے جس کا کو ئی نعم البدل نہیں ہوتا اس لیے اس میں فرق نہیں رکھا گیا اس لیے اللہ سے ہمیشہ وقت اور زندگی میں برکت کی دعا کیا کریں۔ کیونکہ وقت کی بے برکتی انسان کا یقین چھین لیتی ہے۔اللہ نے انسان کو وقت کی اہمیت کا احساس دلایا ہےاس لیےاسلام کا ہر حکم وقت کے ساتھ مشروط ہے۔دن مقرر کر دیا گیا کتنے گنٹھے ، کتنے منٹ کتنے سکینذ ہو ں گئے۔ رات کتنی لمبی ہوگی ، دن کتنے لمبے ہوں گئے۔ کتنے وقت کے بعد موسم بدلے گئے۔

عبادات میں حج کا دن ، نماز اور روزے کے اوقات سب بتا دئیے گئے۔ زندگی کے معاملات میں انسان کی پیدائش کا وقت، دودھ پینے کا، عدت، سوگ سب کے لیے وقت اسی لیے متعین کیا گیا کہ انسان کی زندگی ضائع نہ ہو جائے ۔ جو اس کو سمجھ گئے وہ کامیاب ہیں لیکن پھر بھی ذیادہ تر لوگ نہیں سمجھے ہم نے بے دریغ وقت ضائع کیا۔ لوگ اپنی پوری رفتار سے بھی بھا گ کے وقت سے ہار جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جو ساری زندگی دوڑتے رہتے ہیں لیکن آخر میں ان کے حصے میں کچھ نہیں ہوتا کیونکہ وقت بدلتا ہے تو وقت کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں لیکن جو یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے وہ ہار جایا کرتے ہیں۔ زندگی کو ہمیشہ ایسے دیکھیں کہ اگر ابھی آخری پل ہو تو میرے کون سے کام ادھورے رہنے کی فکر ہو گی۔ انہیں مکمل کرنے کی کوشش کریں۔

یوں اجاڑ دی ہم نے

زندگی باپ کی کمائی ہو جیسے

اسلام کہتا ہے تین دن سے ذیادہ سوگ نہیں ہے۔ لیکن کتنے ہی لوگ سوگ میں بیٹھے رہتے ہیں اور چند دن میں ان کی اپنی موت کا وقت آ جاتا ہے۔وہ دن جو ان کے لیے بہت قیمتی تھے، جس میں عبادت اور دعا کی جاسکتی تھی ، وہ معاملات جن کا حساب ہونا ہے ٹھیک کئے جا سکتے تھے ، ضائع ہو جاتے ہیں۔ بے مقصد زندگی بذات خود ایک روگ ہے۔خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں وقت پہ مقصد مل جاتا ہے کیونکہ اس معین اور محدود وقت میں ضائع کرنے کا وقت تو ہوتا ہی نہیں لیکن بہت کم خوش نصیب پوری زندگی با مقصدبنا لیتے ہیں، کچھ لوگ تھوڑا سا وقت ضائع کر کے سمجھ جاتے ہیں اور ذیادہ تر پوری زندگی ضائع کر کے چلے جاتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */