جنتِ نظیر گھپ اندھیرے میں - اشفاق پرواز

کشمیر اپنے حسن فطرت، دلکش نظاروں اور اعلی آپ و ہوا کی بدولت دنیا بھر میں سیاحوں کی جنت کے نام سے مشہور ہے۔ وادی کشمیر سرسبز پہاڑوں، جھاگ اڑاتے دریاؤں، دل کش وادیوں، جھلملاتی برفوں، کنمناتے جھرنوں اور شور مچاتی آبشاروں سے مالامال ہے۔ کسی فلم کا وہ گانا اس پہ صادق آتا ہے ”یہ وادئ کشمیر ہے جنت کا نظارہ“۔ ہر سال یہاں لاکھوں کی تعداد میں سیاح اپنے احباب کے ہمراہ سیروتفریح کرنے آتے ہیں۔ یہاں کے سیاحتی مقامات میں سے گلمرگ وہ واحد جگہ ہے جو سیاحوں کی آمد کا مرکز بنا رہتا ہے۔ امسال بھی نئے سال کی تقریبات اسی معروف سیاحتی مقام پر منعقد ہوئے۔

راقم کو یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ وادی کشمیر سیاحوں کے لئے جنت سے کم نہیں ہے اور یہاں کی پوری آبادی کو اس پہ فخر ہے کہ یہاں کی خوبصورتی کے پیش نظر ہر سال یہاں ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اہل کشمیر کے لئے کشمیر جہنم سے کم نہیں ہے۔ یہاں موسم خزان کی آمد کے ساتھ ہی بجلی کی آنکھ مچولی شروع ہوتی ہے جو مارچ کے بعد ہی ختم ہوتی ہے۔ خیال کریں کہ یہاں کی زندگی کتنی کٹھن ہوتی ہوگئی۔ راقم کا تعلق بارہمولہ کے کنزر علاقے سے ہے یہاں بجلی کب آتی اور کب جاتی ہے کوئی شیڈول ہی مرتب نہیں ہے۔ متعلقہ حکام اپنی مرضی کے مطابق جب چاہتے ہیں تب بجلی فراہم کرتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق ہی بجلی کو غائب کیا جاتا ہے۔ دن میں محض ایک سے دو گھنٹے بجلی رہتی ہے اور اس دوران بے شمار بار آتی جاتی ہے۔ اور یہی حال کم و بیش کشمیر کے ہر علاقے کا ہے۔ آپ کشمیر کے کسی بھی فرد سے پوچھیں کہ بجلی کا کیا حال ہے وہ آپکو مایوسی میں ہی جواب دے گا۔

سردی کی لہر میں اضافے کے بیچ نئے کٹوتی شیڈول کو لاگو کرنے کے بیچ وادی کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی بار بار کٹوتی سے عام لوگ پریشان ہیں۔ ابھی معمولی برف ہی پڑی ہوتی ہے لیکن بجلی کی سپلائی میں اعلان شدہ شیڈول سے بھی زیادہ کٹوتی اور آنکھ مچولی سے سر شام ہی ہرسو اندھیرا چھا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس بار بجلی کا جو برا حال ہے۔ اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ محکمہ بجلی عوام کو معقول بجلی فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔مزکورہ محکمہ نے عجیب و غریب کٹوتی شیڈول پر عملدرآمد شروع کیا ہے اچانک اور غیر متوقع طور پر برقی رو منقطع کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں عوام کو شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ بھی اپنے آپ میں ایک واضح حقیقت ہے کہ دربار مو کے دفاتر جموں منتقل ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی سرکاری انتظامیہ مکمل طورپر غائب ہو گئی ہے۔ تب سے ہی بجلی کی عدم دستیابی نے سنگین رخ اختیار کیا ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ کوئی عوام کی فریاد سننے کو تیار ہی نہیں۔

اب جب اور جہاں بجلی آتی ہے وہاں کم وولٹیج نے صارفین کو پریشان کر رکھا ہے۔ کم وولٹیج کے نتیجے میں لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بجلی کی عدم دستیابی سے عوام کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے طلباء امتحانات دے رہے ہیں اور کئی نوجوان مختلف مسابقتی امتحانات کی تیاری کررہے ہیں۔ امتحانات کی تیاری کے لئے بچے دن رات محنت کرتے ہیں، جب بجلی میسر ہی نہیں تو خیال کریں کہ پڑھائی کہاں ممکن ہوپائے گی۔ گھروں میں بچے، بزرگ اور بیمار ہوتے ہیں جنہیں گرمی کی سخت ضرورت ہوتی ہے، ذرا محکمہ بجلی اور متعلقہ حکام یہ سوچیں کہ انکا کیا حال ہوتا ہوگا۔ میرے خیال میں اس وقت کشمیر کی بیشتر آبادی بجلی کے نہ ہونے کے سبب دن رات پریشانی کا شکار ہے کیونکہ محکمہ اپنے ہی مرتب کردہ شیڈول کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔

یہاں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ شدید برف باری کی وجہ سے اگرچہ بجلی کا ترسیلی نظام بھی تہس نہس ہوجاتا ہے تاہم مزکورہ محکمے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر بجلی سپلائی کی بحالی کا کام شروع کریں۔ سرکار اور محکمہ بجلی کو چاہیے کہ عوام کے مشکلات کو سمجھیں اور بجلی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ تبھی عوام کے گونا گوں مشکلات کا اذالہ ممکن ہوسکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */