کس کس کو روئیں - حمیرا حیدر

نئے سال کی آمد پر پارٹیاں، ناچ ،گانےکا کلچر روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جو پارٹیاں صرف غیر مسلموں کے ہاں ہوا کرتی تھیں اب اس کا شکار مسلمان بھی ہوتے جا رہے ہیں۔ تفریح کے نام پر بے ہودگی اور اللہ کے قوانین کو توڑا جاتا ہے۔ اس وقت دنیا کرونا کے دوسری لہر کا شکار ہے مگر مجال ہے کہ کہیں نئے سال کی تقریبات رکی ہوں۔اسی حوالے سے فلسطین سے خبر ہے کہ ہفتے کے روز رقص و سرور کی محفل کا انعقاد قدیم تاریخ مسجد مسجد نبی موسی (علیہ السلام) میں کیا گیا ۔

7جس کو rave party کہا جاتا ہے ۔ فلسطین کی مشہور ڈی جے سما عبدالہادی کی اس پارٹی میں وہی سب کچھ تھا جو ان پارٹیوں کا خاصہ ہے یہ فلسطینی عیسائیوں کے لئے سجائی گئی تھی۔ مسجد نبی موسی علیہ السلام وہ تاریخی مسجد ہے جس کو جلیل القدر نبی حضرت موسی علیہ السلام کا جائے مدفن و مقبرہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مسجد تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد یہاں آتی ہے۔ ایسے میں مسجد میں کسی بھی قسم کے رقص و سرور کی محفل کا اہتما23م کرنا یا وزارت سیاحت کی طرف سے اسکی اجازت دینا انتہائی قبیح عمل ہے۔ جب اس پارٹی کے خلاف عام افراد نے مسجد میں داخل ہو کر مزاحمت کی تو سما عبدالہادی کا کہنا تھا کہ ہم نے اس کی اجازت لے رکھی ہے۔ حیرت ہے فلسطینی حکومت پر؟ عوام کی طرف سے اس واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ عوام کے دباؤ پر سما عبدالہادی کو گرفتار کر لیا گیا۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ وزارت سیاحت نے خود کو بچانے اور عوامی احتجاج سے بچنے کے لئے اسے گرفتار کیا ہے۔

یہ خبر کافی افسوس ناک ہے مگر یہ پڑھتے ہوئے مجھے مسجد وزیر خان کا گزشتہ سال کا واقعہ یاد آ گیا۔افسوس کہ ہم کس کس کو روئیں ۔ سمجھ نہیں آتی کہ مسلمان جب کہیں کسی وزارت یا عہدے پر براجمان ہوتے ہیں تو ان کی دینی غیرت و حمیت کومے میں کیوں چلی جاتی ہے؟؟ ہم تو صرف اپنے ملک کو روتے تھے یہاں تو عالمی طور پر مسلمان صاحب اقتدار مشترکہ کومے کی حالت میں ہیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */