آہ دو ہزار بیس - شہلا ارسلان

گلوں نے اب کے بار اپنے رنگ و بو لٹا دیے

یہ سال غم کا سال ہے تمہارا کیا خیال یے

دو ہزار بیس کاسال ابتدا ہی سےغم ودکھ اور مشکلات کا سال رہا،وبائ مرض نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ھے وہ جوحجاب اتر وا رہے تھے خود حجاب پہنے پر مجبور ھو گئے(ماسک)وبائ امراض انسانی تاریخ اور انسانی زندگی کا حصہ ہیں،بہرحال پاکستان میں اس وبا سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں،داخلی طور پر اس وقت سب سے بڑا چیلنج اس وبا سے نمٹنا ھے جو ہرلمحے پھیل رہی ہے اس سال زیادہ تر لوگ وبا سے اور کچھ اپنی موذی بیماریوں کی وجہ سے اس دنیا سے چلے گئے-

اس سال کئ اکابرین دین اپنے رب کے پاس چلے گئے،بریلوی،دیوبندی اور اہل حدیث کے نایاب ہیرے اپنے رب کے حضور پیش ھوگئےجن میں حافظ صلاح الدین یوسف،مفتی نعیم،منور حسن،مولانا عمر بن تاج،مولاناشمس الدین، علامہ طالب جوہری اور ایسے کتنے ہی علماء دنیا سے رخصت ھو گئے"آپ صل اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے پوچھا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ھے کہ علم سینوں سے اچک لیا جائے گا تو آپ نے فرمایا نہیں علماء اٹھا لیے جائے گے"علم اٹھالیا جائے گا،جہالیت عام ھو جائے گی-آج علم کا گلا گھونٹا جا رہا ہے سوشل میڈیا اور دوسری نوٹنکیوں کے زریعے مخطلف بھانڈوں کے زریعے لوگوں کو دینی علم سیکھایا جا رہا ھے-

سیکھنے والے بھی ھونگئے اور سیکھانے والے بھی لیکن عمل نہیں ھوگا-علم مومن کے سینے کا جمال اور باطن کا نور ہے انسان کو انسانیت سیکھاتا ھے،کائنات کی ہر شے علماء کی زندگی مانگتی ھے-

افق پار کیا علمی محفل ھے کوئ

سب ہی اہل دانش چلے جا رہے ہیں

اللہ تعالی ان سب بزرگان دین اور ہمارے والد محترم اور وہ تمام لو گ جو اس سال وفات پا چکے ہیں کروٹ کروٹ رحمتوں کی برسات کریں - آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */