الٹی آنتیں گلے پڑ گئیں - حبیب الرحمن

لوگ کہتے ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہونگے لیکن محبت سو فیصد اندھی ہو یا نہ ہو، نفرت محبت سے کئی گنا اندھی ہوتی ہے۔ نفرت محبت کی ضد ہے اور جب محبت نفرت میں بدلتی ہے تو پھر یہ کبھی نہیں دیکھا کرتی کہ سامنے کون ہے۔محبت صرف اُسے ہی نہیں کہا جاتا جو تذکیر و تانیث کے بیچ ہو جائے، یہ کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ اقتدار سے، دولت سے، زمین سے، وطن سے، محرم رشتوں سے، نا محرموں سے یا اپنے اپنے تراشیدہ نظریات سے۔ بے شک محبت کے سامنے جان جیسی چیز بھی اپنی قدر و قیمت کھو بیٹھتی ہے لیکن نفرت کا رد عمل محبت سے بھی کہیں زیادہ شدید ہوتا ہے۔

جب متذکرہ کسی شے کی محبت نفرت میں بدل جاتی ہے تو پھر اس کے سامنے کسی کی عزت، احترام، رشتوں کا تقدس، یہاں تک کے کسی کا پہاڑ جیسا جاہ و جلال بھی رائی دکھائی دینے لگتا ہے اور وہ اس نفرت کی آگ میں یا تو اپنے مدمقابل کو جھونک دیتا ہے یا پھر اس میں خود بھسم ہوکر رہ جاتا ہے۔ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کیلئے محبتیں پائی جاتی ہوں یا نہیں، نفرتیں ضرور پائی جاتی ہیں۔ کسی زمانے میں بغض و عداوت کا سبب مسالک ہوا کرتے تھے لیکن اب نفرت کا دائرہ وسیع ہوتے ہوتے ذاتی اور سیاسی معاملات تک پھیل چکا ہے۔ عالم یہ ہے کہ پہلے تو صرف سیاسی پارٹیاں ہی ایک دوسرے کا خون چوسنے کی حدت تک نفرت رکھا کرتی تھیں، اب ادارے بھی ایک دوسرے کی جانب نظر بھر کر دیکھنے کے روادار نظر نہیں آتے۔ ان کی رات دن یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ نفرت کا ایسا معیار قائم کر جائیں جس کی بلندی کو کوئی چھو ہی نہ سکے۔

سیاستدان تو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے برس ہا برس سے پاپی تھے ہی اب اداروں کا بھی یہ عالم ہو گیا ہے کہ وہ ہر حکومت کے آلہ کار بن کر حکومت مخالفین کے گلے گھونٹنے کیلئے رات دن تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ ایسے اداروں میں سرِ فہرست "نیب" ہے جس نے حکومتی آلہ کار کا کردار ادا کرنا اپنا مقصد وجود قرار دے رکھا ہے۔روزنامہ جسارت، 2 جنوری 2021 کو شائع ہونے والی خبر کچھ یوں ہے کہ "نیب نے برطانیہ میں دائر کیس میں شکست کے بعد برطانوی لیگل فرم براڈ شیٹ کو جرمانہ ادا کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لندن ہائیکورٹ میں کیس ہارنے کے بعد نیب نے براڈ شیٹ فرم کو 4 ارب 58 کروڑ روپے ادا کردیے ہیں۔ نیب کے وکیل اور لیگل فرم کو فیس کی ادائیگی کے بعد یہ رقم 7 ارب 18 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔ برطانوی ہائی کورٹ کی جانب سے جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں پاکستان کو 90 لاکھ ڈالر سود ادا کرنا پڑا ہے، نیب کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث پاکستان کو برطانوی لیگل فرم کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ادا کرنے پڑے ہیں"۔ یاد رہے کہ برطانوی ہائی کورٹ نے جرمانے کی رقم 30 دسمبر تک ادا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن نیب بر وقت یہ رقم ادا نہ کر سکا جس کی وجہ سے برطانوی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سر بمہر کر دیئے گئے ہیں جو کسی بھی ملک کیلئے نہایت سبکی کا باعث ہیں۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ 17سال قبل درجنوں پاکستانیوں کے مبینہ غیر ملکی اثاثوں کی تلاش کیلیے براڈ شیٹ فرم کی خدمات حاصل کی گئی تھیں تاہم ایک روپے کا بھی پتا نہیں لگایا جاسکا تھا۔ ان پاکستانی شہریوں میں متعدد بیوروکریٹس ، بزنس مین ، سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری سمیت متعدد پاکستانی سیاستدان شامل تھے۔

اگردیانتدارانہ انداز میں دیکھا جائے تو بلا شبہ نیب ایک ایسا ادارہ ہے جو پاکستان میں کسی بھی قسم کی کرپشن کی بینح کنی میں اہم رول ادا کر سکتا ہے لیکن بد قسمتی سے یہ ادارہ اپنے قیام سے لیکر اب تک، ہر حکومت سے اپنی وفاداریاں ہی نبھا تو ہوا نظر آیا ہے۔ اس کی زد میں زیادہ تر یا تو سیاستدان ہی آتے رہے ہیں یا پھر ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جو حکومت کی نظر میں سر پھرے کہلایا کرتے ہیں۔اگر نیب کی تاریخ پیدائش سے لیکر اب تک کا حساب کتاب لگایا جائے تو اس نے پاکستان کیلئے اتنا نہیں کمایا جتنا خود اس ادارے پر پاکستان خرچ کرتا رہا ہے جس کی تازہ ترین مثال کرپشن کے شک میں برطانیہ میں مقیم یا برطانیہ میں اپنی رقوم رکھنے والوں کے خلاف مقدمہ ہار جانے پر ایک خطیر رقم کی ادائیگی ہے جو نیب کو ادا کرنی پڑی۔بر طانیہ تو خیر بہت دور کی بات ہے، پاکستان کے اندر بھی گرفتار کئے جانے والوں کے خلاف نیب 90 فیصد سے بھی کہیں زیادہ ناکام ہے۔ نیب کی ناکامی اپنی جگہ، اب تک گرفتار شدگان کے خلاف مہینوں اور برسوں کی تحقیقات پر ہونے والے بھاری اخراجات وصول کی جانے والی رقوم سے نہیں زیادہ ہیں۔

ایک ایساادارہ جو بے شک پاکستان کیلئے نہایت شاندار کردار ادا کر سکتا ہے،اس کاپاکستان کاوفادار بننے کی بجائے حکومتوں کا تابعدار ہوجانا پاکستان کیلئے کوئی اچھی علامت نہیں۔ پاکستان کے ہر مجرم، چور، ڈاکو اور لٹیرے کا احتساب ہونا چاہیے لیکن یہ بات بہت ضروری ہے کہ احتساب حکومتوں کے اپنے اپنے مفادات کے مطابق نہیں ہونا چاہیے۔ جب تک نفرتوں میں اندھا بن کر صرف اور صرف سلیکٹڈ افراد ہی کو نشانہ بنا یا جاتا رہے گا اس وقت تک ایک جانب نیب اپنا اعتماد اور اہمیت کھوتا چلا جائے گی تو دوسری جانب ہر نفرت کا نتیجہ الٹی آنتیں گلے پڑ جانے کی صورت میں سامنے آتا رہے گا لہٰذا بلا امتیاز اور بے رحمانہ احتساب کے علاوہ کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں جس کو اختیار کرکے کرپشن سے پاک معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */