یتیم رکشہ ڈرائیور بچی اب بزدار سرکار کا رکشہ چلائےگی عظیم بیٹی کےلیے رکشےکا "عظیم تحفہ" - محمد عاصم حفیظ

شیخوپورہ کی کمسن یتیم بچی کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔ گیارہ سال کی نور فاطمہ اپنی ماں کا سہارا بنی ہے ۔ موٹر سائیکل رکشہ چلا کر روزی روٹی کا انتظام کرتی ہے ۔ کئی چینلز نے اس پر ویڈیوز بنائیں ۔ گزشتہ روز اس کمسن بچی کی ویڈیو پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے نوٹس لیا ۔ ڈی پی او شیخوپورہ کو اس کے گھر بھیجا گیا ۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے جو ریلیف پیکج دیا گیا آپ سن کر حیران و پریشان ہو جائیں گے۔ کمسن بچی کو ایک نیا رکشہ لے کر دینے کا فراخدلانہ اعلان ہوا ۔ ایک لاکھ کا چیک دیا گیا۔

جی ہاں۔ اس کمسن رکشہ ڈرائیور بچی کو اب چلانے کے لیے" سرکاری رکشہ" دیا جائے گا ۔ آپ تصور کریں کہ گیارہ سالہ بچی کے لئے سرکار یہی " باعزت و محفوظ" انتظام کر سکی ۔ وزیر اعلیٰ یا ان کے سٹاف کے اس آفیسر کو سلام پیش کریں جس نے یہ اتنا بڑا ریلیف پیکج بنایا ہو گا ۔ ایک کمسن لڑکی کے لئے رکشہ چلانے کا پیکج ۔ اس کی قسمت میں رکشہ چلانا ہی ہو گا ۔ کوئی ذرا سا بھی ذی شعور یہ سن کر ہی کانپ جائے ۔ سرکار سے درخواست تو یہ تھی کہ کمسن لڑکی رکشہ چلا رہی ہے ۔ اس کے لئے کچھ امداد ہو ۔ تعلیم و رہن سہن کا انتظام ہو ۔ باپ کا سہارا نہیں ہے ۔ لیکن سرکار نے تو کمال ہی کر دکھایا ۔ اس بچی کو نیا رکشہ لے دیا کہ تمہاری قسمت یہی ہے ۔ سڑکوں پر نکلو ۔ سواریاں ڈھونڈو ۔ باتیں سنو ۔ موٹر سائیکل رکشہ چلاؤ ۔ رکشہ چلانا کتنا غیر محفوظ اور وہ بھی ایک لڑکی کے لئے ۔ کسی نے سوچا تک ہی نہیں ۔ "عظیم بیٹی" اب بھی رکشہ ہی چلائے گی ۔ سڑکوں پر ماری ماری پھرے گی ۔نوٹس نہیں لیا گیا تھا تو شائد اور بات تھی لیکن وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب سے ایک کمسن یتیم بچی کے لئے رکشہ چلانے کا پیکج واقعی " لاجواب اور بے مثال" ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

التجا یہی ہے کہ اگر کوئی درد دل رکھنے والا امداد نہ بھی کرنا چاہے تو کم سے کم کسی محفوظ و آسان روزگار کا ہی بندوبست کر دے ۔ ضلعے کا کوئی بڑا آفیسر اسے کسی کمپنی ۔ فیکٹری یا ایسے ادارے میں ملازمت کی دلا دے جہاں وہ اپنا باعزت روزگار محفوظ طریقے سے کما سکے نہ کہ موٹر سائیکل رکشہ چلا کر معاشرے کے ہاتھوں مجبور ہو ۔وزیر اعلیٰ صاحب نے اگر نوٹس لیا ہی تھا تو کم سے کم اس کے لئے تعلیم و رہن سہن کا ہی بندوبست کر دیتے نہ کہ اسے دوبارہ رکشہ چلانے کا ہی کہا جائے ۔اگر یہ " اپنی اور عظیم" بیٹی ہے تو پھر اس کی زندگی میں تبدیلی کی کوشش کی جائے نہ اسے رکشہ ڈرائیور بنایا جائے ۔کوئی وزیر اعلیٰ ہاؤس والو کو بتائے کہ حکومت کے پاس اربوں کے فنڈ ہوتے ہیں اور کئی ویلفئیر کے ادارے ۔ کمسن بچی کے لئے رکشے کا تحفہ وزیر اعلیٰ کے منصب کی بھی توہین ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */