جنت کی ڈگری‎ - شہلا ارسلان

شہزادی سے میری ملاقات آٹھ ماہ ہوئے تھی ایک اسلامی گروپ کے زریعےواٹس اپ پر،جہاں وہ نہایت ہی سبق آموز پیغامات بھیجتی جن سے ہمیشہ مثبت توانائ ملتی جو دل و دماغ کے بلب روشن کردیتی۔اس گروپ کے توسط سے ہماری دوستی ھوگئ اور اس تھوڑے عرصے میں ہمارے درمیان غیر معمولی انسیت پیدا ہو گئ اور میں اس سے اکثر کہتی کہ مجھے جنت میں لیکر جاو گی نہ اور کہنے کی وجہ اس کی قرآن سے محبت اور اللہ کے احکامات پر چلنا تھا، وہ ریاض سعودی عرب کی رہائیشی تھی۔

اور وہ پاکستان کے مختلف علاقوں کی خواتین کو تجوید سے قرآن پاک فی سبیل اللہ پڑھاتی تھی (اپنی نیند کو قربان کر کے)وہ بڑی فصیح و بلیغ تھی اور اللہ نے اس کو خاص وصف عطا کیا ہوا تھا ،وہ عورتوں کے مسائیل سنتی اور اس کا حل بتاتی -میں کبھی اس سے دنیاوی تعلیم کے بارے نہیں پوچھا کہ وہ کہاں تک پڑھی ہے-میرا تعلق چونکہ لکھنے لکھانے سے تھا"ایک دن میں نے اس کو بتایا کہ ایک بچی جس کی عمر زیادہ نہیں وہ بہت اچھا لکھتی اور آگے چل کر لکھاری بنے گی میری یہ بات سن کر وہ خاموش رہی-تھوڑی دیر بعد بولی کہ میں نے آپ کو آج تک یہ نہیں بتایا کہ میں نے میڑک بھی نہیں کیا وا یہ سن کر میں ایک دم شاک میں اور موبائیل گرتے گرتے بچا مجھے لگا وہ جھوٹ بل رہی کیونکہ ہر موضوع پر وہ با آسانی فر فر بولتی تھی-خیر کچھ عرصے بعد میں نے اس سے کہا کہ تم میڑک تو کر لو(وہ مجھ سے عمر میں کافی چھوٹی ہے)تاکہ تمہارے پاس ایک ڈگری تو ہو جائے۔

اس نے جو جواب مجھے دیا یہ سن کر مجھے اپنے آپ چھوٹا لگا بولی"میں جنت کی ڈگری نہ لوں"اور میرے ذہن میں فورا سورہ العمران کی یہ آیت آگئ "دوڑو اور آگے بڑھو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف" اللہ ہم سب پر رحم فرمائیں اور ہم دنیاوی تعلیم کے بجائے آخروی تعلیم کو اہمیت دے اور ہم بھی جنت کی ڈگری حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگ جائے-اب آپ بتائے میں نے اس کو یہ بات صحیح کہی نہ "کہ مجھے جنت میں لیکر جاو گی نہ"

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */