مالٹے - ام محمد سلمان

پپو میاں چھوٹے سے تھے جب ایک بار ہم ان کے ابا کے ساتھ بائک پہ بیٹھ کر کہیں جا رہے تھے. چلتے چلتے جب ہم بازار سے گزرے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہر ٹھیلہ مالٹوں سے بھرا ہے۔ حیرانی، انتہائی پریشانی سے ہوتی ہوئی حسرت میں بدلنے ہی لگی تھی کہ ہم نے لگے ہاتھوں پپو کے ابا کی خبر لی.... "کیوں جی!! یہ ہر ٹھیلے پر جو مالٹے دھرے ہیں، اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ کم از کم انھیں مارکیٹ میں آئے ہوئے بھی مہینے سے زیادہ ہو چلا ہے ۔"

"تو اور کیا!! آپ کو خبر ہی نہیں مالٹے تو کب سے چل رہے ہیں..." وہ بے نیازی سے بولے. "ارے اتنا چلے تو چل چل کے ہمارے گھر تک کیوں نہ پہنچے؟ ائے میاں! آپ کو خبر نہیں ہم مالٹوں کے کتنے شوقین ہیں۔ کیسا خوش ذائقہ، خوب صورت، دلکش، دل فریب، حسین و جمیل اور رسیلا پھل ہے۔"

"ارے بس کرو بیگم! جتنے قصیدے آپ نے مالٹے کی شان میں پڑھ دیے اس سے آدھے بھی ہمارے لیے پڑھتیں تو ہم آپ کے لیے آم کا پورا باغ آگا دیتے..."

"لو بھئی یہاں بات مالٹوں کی ہو رہی ہے اور آپ باغ آم کا لگانے جا رہے ہیں۔ ائے میاں آپ ہمیشہ حزبِ اختلاف میں ہی رہیں گے کیا! ہر وقت اپوزیشن میں کھڑے گولہ باری کرتے ہیں۔
آپ بس یہ بتائیے مالٹے کیوں نہ لائے ہمارے لیے؟"

"ارے بیگم چھوڑو بھی.. مالٹے بھی کوئی کھانے کی چیز ہیں بھلا..! نرا سیاپا... اِدھر کھاؤ اُدھر ناک میں سوزش اور سینے میں کھڑکھڑاہٹ شروع.... کوئی بہت ہی صحت دشمن اور "ڈاکٹر دوست" قسم کا پھل ہے یعنی کہ... بھئی ہمیں تو اس سے دور ہی رکھو ۔"

"ارے تو آپ دور رہیے نا بلکہ کوسوں دور رہیے، خوشبو بھی مت سونگھیے، مگر ہمیں تو لا کر دیجیے! پتا بھی ہے ہم کتنے شوق سے کھاتے ہیں! ہائے اللہ! کیا دن تھے وہ بھی... ابا میاں تو موسم آتے ہی مالٹوں کے ڈھیر لگا دیتے تھے گھر میں...."

"اری بے غم!! بس کر دو یہ ابا نامہ.. ایک تو ہر تیسری بات پہ آپ کو ابا کی یاد ستانے لگتی ہے ۔"

تو کیوں نہ ستائے..!! اللہ سلامت رکھے... ابا خیال ہی اتنا رکھتے تھے ہمارا۔ مالٹے دیکھ دیکھ کر تو ہمیں ابا کی گم گشتہ شفقت کچھ زیادہ ہی یاد آ رہی تھی۔ جی چاہ رہا تھا ابھی کے ابھی عدالت عالیہ میں جا کر استغاثہ دائر کریں کہ آپ کے چنیدہ داماد شریف ہمیں نارنگی اور سنترے کا ذائقہ چکھنے سے بھی محروم رکھتے ہیں۔ (اور ویسے بھی کبھی میاں جی کا ہلکا پھلکا جی جلانا ہو تو "ابا کا نام ہی کافی ہے") بہرحال میاں کو خوب سناتے اور دل جلاتے ہوئے ہم گھر واپس آ گئے۔ خیال تھا ہمیں گھر چھوڑ کر میاں، مالٹے ضرور لے کر آئیں گے۔ مگر مجال ہے ان کے ہوتے کوئی خوش فہمی حقیقت میں ڈھلنے کی جرات بھی کر لے... وہی ڈھاک کے تین پات... آ گئے تھوڑی دیر میں خالی ہاتھ ہلاتے جھلاتے ہوئے۔ اب اور ہم نے کیا کرنا تھا.. ایک ٹھنڈی آہ بھری، گرم سا طعنہ دیا اور کھانا لینے چل پڑے ان کے لیے....!

اگلے دن کا ذکر ہے پپو میاں شام کو کھیلنے کے لیے باہر گئے تو ذرا جلدی ہی واپس آ گئے.... بڑے جوش میں سلام کیا اور بولے اماں جان!! دیکھنا میں آپ کے لیے کیا لایا...! اور اپنے دونوں ہاتھ ہمارے سامنے کر دیے۔ننھے منے ہاتھوں میں دو، دو مالٹے اٹھا رکھے تھے اور مانو ہمیں تو یوں لگا گویا یہ مالٹے جنت سے آئے ہوں... اس کے چمکتے جوش کھاتے چہرے کو دیکھا اور پیشانی کو چوم لیا...ارے واہ.. بیٹا جی مالٹے لے کر آئے ہیں اماں کے لیے... ہمارے پپو میاں اتنے بڑے ہو گئے !ہاں نا....!! پپو میاں آرام سے چارپائی پہ چڑھ کے بیٹھے... اماں جان! آپ کل ابا میاں سے کہہ رہی تھیں نا مالٹے نہیں لائے تو میں لے آیا آپ کے لیے ۔ اب جلدی سے کھا لیں نا !! "

"لیکن پیسے کہاں سے آئے بیٹا؟"

"وہ جو آپ نے دوپہر کو جیب خرچ دیا تھا، وہی تھے میری جیب میں۔ سڑک پہ مالٹے کا ٹھیلا نظر آیا تو میں بھاگا ہوا گیا... انکل سے کہا بیس روپے کے مالٹے دے دیں. انھوں نے مجھے چار مالٹے پکڑا دیے، پھر میں بھاگتا ہوا گھر آ گیا۔ اماں جان آپ کھائیں نا....!!" پپو میاں خود ہی اٹھے اور مالٹے دھو کر پلیٹ میں رکھ کر لے آئے۔اور پپو کی والدہ ماجدہ نے پہلی بار مالٹے تشکر کے آنسوؤں میں ڈبو ڈبو کے کھائے....پپو میاں بولے... اماں جان! جب میں بڑا ہو جاؤں گا نا.. تو مالٹے کا پورا کھیت خرید کر لاؤں گا آپ کے لیے، جی بھر کے کھائیے گا۔ ہاہاہاہا.... پورا کھیت ... بیٹا جی مالٹے کا باغ ہوتا ہے، کھیت نہیں! "اوہ اچھا.... مالٹے کا پورا باغ لاؤں گا آپ کے لیے" ماشاء اللہ! اللہ کامیاب کرے میرے بچے کو۔ ماں نے پپو میاں کا ماتھا چوما۔

اماں آپ کو بہہہہہت پسند ہیں مالٹے؟ اور کیا بہت پسند ہیں صحت بخش بھی اور حسن بخش بھی ۔ اپنی چچی جان کو دیکھا ہے، جب تک مالٹوں کا موسم رہتا ہے روزانہ ایک آدھ درجن کھا لیتی ہیں اور رنگت ایسی نکھر آتی ہے چہرہ لال گلال ہوا رہتا ہے سردیوں میں۔ ارے کس کا چہرہ لال گلال ہوا رہتا ہے کچھ ہم بھی سنیں... پپو کی پھپھو جان بھی تشریف لے آئیں اور ماں بیٹے کی گفتگو میں شریک ہوئیں۔ ارے کچھ نہیں باجی بس آپ کی چھوٹی بھاوج کی بات کررہے تھے۔ یہ لیں آپ بھی مالٹے کھائیں نا!! ہم نے فراخ دلی سے انھیں دعوت دی۔ ارے نہیں بھئی یہ تم ہی کھاؤ، انھوں نے ایک جھرجھری لیتے اور دانت مسمساتے ہوئے جواب دیا.. توبہ توبہ اتنے کھٹے ہوتے ہیں یہ، ہم سے تو زبان پر نہیں رکھے جاتے، یہ شغل تم ماں بیٹے ہی کرو بس۔ وہ ایک طرف کو ہو بیٹھیں۔ میں دراصل پان کھاتی ہوں نا تو ترشاوہ پھل بالکل بھی نہیں کھا سکتی، منہ میں رکھتے ہی کھٹاس گھل جاتی ہے ۔" انھوں نے وضاحت کی "باجی آپ بھی نا پان کے چکر میں کتنے مزے مزے کی اور مفید چیزوں سے محروم ہیں۔" ارے ہاں بس.. ہمارے لیے پان بڑی دولت ہے۔ وہ مسکرا کر بولیں۔

اماں جان مالٹے کے فائدے بھی ہوتے ہیں؟

اور کیا بیٹا جی! آپ کو پتا ہے مالٹے کی کئی قسمیں ہیں اور اس پھل میں بیش بہا فوائد رکھے ہیں قدرت نے۔ سردی کے موسم میں انسان ایک مالٹا بھی روز کھا لیا کرے تو جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے. لوگوں میں غلط مشہور ہے کہ مالٹا سردی میں نقصان دیتا ہے۔ اگر ایسی بات ہوتی تو اللہ تعالیٰ مالٹے کو سردیوں میں کیوں پیدا کرتے، گرمیوں کے موسم میں نہ کر دیتے. بلکہ نزلہ کھانسی میں میٹھے مالٹے انتہائی مفید ہوتے ہیں. یہ پھل وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے۔ صالح خون پیدا کرتا ہے جس سے چہرے کی رنگت نکھر جاتی ہے۔ مالٹے میں اینٹی آکسیدنٹ اور وٹامن سی ہوتا ہے جو انسانی جلد کے لیے مفید ہے اگر ایک مالٹا روزانہ کھائیں تو جلد کے ڈھلکنے کا عمل سست ہو جاتا ہے اور انسان اپنی عمر سے کم نظر آتا یے۔ مالٹے کا جوس بھی بہت شوق سے پیا جاتا ہے ایک گلاس جوس جسم میں بے شمار خوشگوار تبدیلیاں لے آتا ہے۔

مالٹا ہاضمے کو بہتر بناتا ہے۔ دل و دماغ کو فرحت بخشتا ہے۔ معدے اور جگر کی حدت کو کم کرتا ہے۔ اس کے چھلکے بھی انتہائی مفید ہیں. ان سے خوش ذائقہ مربہ بنایا جاتا ہے، عطریات میں استعمال ہوتا ہے۔ ان کے چھلکے سکھا کر پیس کر ابٹن میں ملا کر چہرے پر لگانے سے داغ دھبے اور چھائیاں دور ہوتی ہیں۔ موسمی کھاتے ہوئے ایک پھانک چہرے پر رگڑ لینے سے چہرے کی جلد میں قدرتی نکھار پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے جب بھی موسمی کھائیں، ساتھ چہرے پر بھی ضرور لگائیں مگر حساس جلد والے ہوشیار رہیں."

چلو بھئی ہم موسمی کھا نہیں سکتے تو چہرے پر تو لگا ہی لیں کم از کم... پھپھو نے مسکراتے ہوئے ایک پھانک اٹھائی اور اس کا رس چہرے پر لگانے لگیں۔ ہم بھی بے اختیار ہنس دیے، آخر کو حسین نظر آنا ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے۔ "اماں اس کے تو بڑے فائدے ہیں. اب تو جب بھی سڑک پر ٹھیلے والے انکل نظر آئیں گے میں ان سے ضرور مالٹے خرید کر لایا کروں گا۔" پپو میاں جوش سے بولے اور ہم شاداں فرحاں اپنا کام کرنے باورچی خانے میں چل دیے..!!

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */