لاک ڈاؤن - نازش یعقوب

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے گورنمنٹ نے اعلان کیا سردیوں کے ابتدا پر کرونا جیسی وبا سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر کرنی چاہییں مگر وہ احتیاطی تدابیر کیا تھیں ؟اسکول اور کالجز کو بقیہ تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیا جائے ۔مگر یہ لاک ڈاؤن صرف اور صرف تعلیمی اداروں کے لیے ہی کیوں ؟اور اگر تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا ہے تو تعلیم کا کیا؟ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کا کیا ؟ تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کا کیا ؟

اب ہم بات کرتے ہیں سرکاری سکولوں کے بارے میں جہاں پر آن لائن تعلیم کے بارے میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے سرکاری سکولوں میں اگر حاضر ہونے والے طلباء اگر تعلیمی میدان میں بازی لے جاتے ہیں تو یہی بڑی بات ہے ۔اور یہ بھی کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ان میں سے کچھ ہی طلباء خاص طور پر لڑکے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں ورنہ باقی سب تو درمیان میں ہی تعلیم چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کر لیتے ہیں ۔بات اساتذہ کی نہیں بات سسٹم کی خرابی کی ہے جہاں پر دو لوگ مل کر محنت کر کے پورے سکول کا کام سنبھالے ہوئے ہیں لیکن باقی کے آٹھ لوگ خوشامد سےاپنے سینئرز کو خوش کر کے کام چلا رہے ہیں ۔مگر سب کے سب کو وقت پر گھر بیٹھے تنخواہ مل رہی ہے۔ چونکہ ان کے لئے لاک ڈاؤن تو نہیں چھٹیاں ہوئی ہیں ۔

ہم بات کرتے ہیں نجی اداروں کی جہاں پر اساتذہ ان لائن پڑھانے کے لیئے ہر وقت کوشاں ہیں والدین بچوں کے واجبات کی ادائیگی کے لیے کوشاں ہیں ایک طرف طلباء ہیں جو کہ سنجیدگی سے کام نہیں لے رہے ،انہیں لگتا ہے کہ یہ لاک ڈاؤن صرف ان کی چھٹیوں اور مزے کے لئے ہے پڑھائی کا بوجھ ختم ہوگیا ہے اور اس وقت کا ان کے مستقبل سے کوئی بھی لینا دینا نہیں ۔مگر سوچنے کی بات یہ ہے کیا کرو نا صرف تعلیمی اداروں پر ہی حملہ آور ہو سکتا ہے ؟کیا صرف طلباء اور اساتذہ ہی اس سے اثر انداز ہو سکتے ہیں ؟ شفقت محمود اور عمران خان ایک منٹ کے لئے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم تعلیم کو باقاعدگی سے چلا تو نہیں پائے آن لائن کیونکر چلا سکتے ہیں ؟ لاک ڈاؤن کرتے وقت آپ نے نجی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ اور ڈومیسٹک سٹاف کے روزگار کے متعلق کوئی پالیسی کیوں نہیں بنائی ؟ آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے کرسی پر بیٹھ کر چھٹیوں کا اعلان کرکے بہت بڑا کام کر لیا اور اپنی ذمہ داری پوری کرلی ۔

مگر نہیں آپ نے ملک کی تعلیمی ساکھ کو مزید بگاڑ دیا ۔ کرونا میں ریلیف کی بجائے بہت سے لوگوں کو بے روزگار کر دیا ۔کیونکہ آپ کے پاس اس چیز کا کوئی بندوبست نہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کے ورکرز کو کرونا میں تنخواہیں ادا کی جائیں ۔ کاروبار بھی چل رہے ہیں اور باقی تمام سرگرمیاں بھی رواں دواں ہیں اس لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر تعلیم اور نجی اساتذہ ہو رہے ہیں ۔ایسی جمہوریت اور ایسا انصاف آپ کو مبارک ۔ کرونا سے زیادہ آپ لوگوں کے نامناسب فیصلے سب حالات کے ذمہ دار ہیں ۔ ان فیصلوں کو متاثر کن بنانے کے لیے آپ کو تصویر کے دونوں رخ کو دیکھنا پڑے گا ۔

"کھول کر آنکھیں میرے آئینہ گفتار میں

آنے والے دور کی اک دھندلی سی تصویر دیکھ "

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */